صحيح مسلم
كِتَاب الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ -- قتل کی ذمہ داری کے تعین کے لیے اجتماعی قسموں، لوٹ مار کرنے والوں (کی سزا)، قصاص اور دیت کے مسائل
4. باب الصَّائِلُ عَلَى نَفْسِ الإِنْسَانِ أَوْ عُضْوِهِ إِذَا دَفَعَهُ الْمَصُولُ عَلَيْهِ فَأَتْلَفَ نَفْسَهُ أَوْ عُضْوَهَ لاَ ضَمَانَ عَلَيْهِ:
باب: جب کوئی دوسرے کی جان یا عضو پر حملہ کرے اور وہ اس کو دفع کرے اور دفع کرنے میں حملہ کرنے والے کی جان یا عضو کو نقصان پہنچے تو اس پر کچھ تاوان نہ ہو گا (یعنی حفاظت خود اختیاری جرم نہیں ہے)۔
حدیث نمبر: 4367
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى ، عَنْ يَعْلَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
یعلیٰ رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی
امام صاحب یہی روایت دو اور اساتذہ کی سند سے یعلیٰ سے بیان کرتے ہیں۔
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4367  
1
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام منیہ ہے اور والدہ کا نام امیہ ہے،
اور بقول بعض منیہ،
ان کی دادی کا نام ہے،
اور دوسرا آدمی جس سے جھگڑا ہوا ہے،
وہ حضرت یعلیٰ کا اپنا اجیر (مزدور)
ہی تھا،
اور حضرت یعلیٰ نے اس کا ہاتھ چبایا تھا،
لیکن انہوں نے اس حرکت کو اپنی شان اور مقام کے منافی سمجھتے ہوئے،
کاٹنے والے کی تصریح نہیں کی،
اور کنایہ و تعریض سے کام لیا۔
(2)
بعض روایات میں ایک ثنیہ کا ذکر ہے،
اور بعض میں دو کا،
ممکن ہے ایک گر گیا ہو اور ایک ہلنے لگا ہو،
گرا نہ ہو،
اس لیے جس نے اس کے نقصان کو ملحوظ رکھا،
گرنے سے تعبیر کر دیا،
اور جس نے یہ دیکھا،
وہ گرا تو نہیں ہے،
اس نے ایک کے گرنے کا تذکرہ کیا،
مزید برآں واقعہ کی ہر جزئی کے بارے میں یقینی بات کرنا مشکل ہوتا ہے،
اس لیے راویوں میں،
واقعات کی بعض جزئیات یا تفصیلات میں اختلاف پایا جاتا ہے،
اس لیے اس اختلاف کا اثر اصل واقعہ پر نہیں پڑتا،
کہ اس کو ہی مشکوک ٹھہرا دیا جائے،
اس بنیاد پر اس کا انکار کر دیا جائے،
واقعات کی تفصیل بیان کرتے وقت عینی شاہدوں کے درمیان بعض باتوں میں اختلاف ہو جاتا ہے۔
(3)
جمہور کے نزدیک اگر کوئی انسان حملہ آور سے اپنا دفاع کرتا ہے،
اور دفاع کی صورت اس کے سوا ممکن نہیں ہے،
کہ وہ حملہ آور کو کچھ نقصان پہنچائے،
جس طرح یہاں ہاتھ کھینچنے بغیر چارہ نہیں تھا،
تو ایسی صورت میں اس پر قصاص یا دیت نہیں ہے،
امام مالک سے منقول ہے،
کہ ان کے نزدیک ہاتھ کاٹنے والے کو تاوان ادا کرنا ہو گا،
اور ابن لیلیٰ کا بھی یہی موقف ہے،
لیکن بعض مالکیوں نے امام صاحب کے قول کی توجیہ یہ کی ہے،
کہ یہ اس صورت میں جب وہ ہاتھ نرمی اور سہولت کے ساتھ،
دانت گرائے بغیر کھینچ سکتا تھا،
لیکن اس نے زیادتی کرتے ہوئے،
جان بوجھ کر اس کا دانت گرایا۔
(4)
ائمہ ثلاثہ ابو حنیفہ،
مالک اور امام شافعی کے نزدیک اپنی جان کا دفاع اور تحفظ فرض ہے،
اور امام احمد کا ایک قول بھی یہی ہے،
اس دور میں اگر لوگ ان ائمہ کے نظریہ کے مطابق اپنی جان کا تحفظ اور دفاع کرنا فرض سمجھ لیں،
تو آج کل جو دہشت گردی و غنڈہ گردی ہو رہی ہے،
اس میں کافی حد تک کمی واقع ہو جائے،
دفاع شرعی کے اصول اور تفصیلات کے لیے علامہ عبدالقادر عودہ شہید کی کتاب التشریع الجنائی الاسلامی قابل مطالعہ ہے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4367