صحيح البخاري
كِتَاب الْجَنَائِزِ -- کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
28. بَابُ مَنِ اسْتَعَدَّ الْكَفَنَ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُنْكَرْ عَلَيْهِ:
باب: ان کے بیان میں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنا کفن خود ہی تیار رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کسی طرح کا اعتراض نہیں فرمایا۔
حدیث نمبر: 1277
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُرْدَةٍ مَنْسُوجَةٍ فِيهَا حَاشِيَتُهَا، أَتَدْرُونَ مَا الْبُرْدَةُ؟ , قَالُوا: الشَّمْلَةُ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَتْ: نَسَجْتُهَا بِيَدِي فَجِئْتُ لِأَكْسُوَكَهَا، فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا وَإِنَّهَا إِزَارُهُ فَحَسَّنَهَا فُلَانٌ , فَقَالَ: اكْسُنِيهَا مَا أَحْسَنَهَا؟ , قَالَ: الْقَوْمُ مَا أَحْسَنْتَ لَبِسَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، ثُمَّ سَأَلْتَهُ وَعَلِمْتَ أَنَّهُ لَا يَرُدُّ، قَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا سَأَلْتُهُ لِأَلْبَسَهُ إِنَّمَا سَأَلْتُهُ لِتَكُونَ كَفَنِي؟" , قَالَ سَهْلٌ: فَكَانَتْ كَفَنَهُ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ نے اور ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بنی ہوئی حاشیہ دار چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تحفہ لائی۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے (حاضرین سے) پوچھا کہ تم جانتے ہو چادر کیا؟ لوگوں نے کہا کہ جی ہاں! شملہ۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں شملہ (تم نے ٹھیک بتایا) خیر اس عورت نے کہا کہ میں نے اپنے ہاتھ سے اسے بنا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنانے کے لیے لائی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کپڑا قبول کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اس وقت ضرورت بھی تھی پھر اسے ازار کے طور پر باندھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو ایک صاحب (عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ یہ تو بڑی اچھی چادر ہے ‘ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پہنا دیجئیے۔ لوگوں نے کہا کہ آپ نے (مانگ کر) کچھ اچھا نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی ضرورت کی وجہ سے پہنا تھا اور تم نے یہ مانگ لیا حالانکہ تم کو معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کا سوال رد نہیں کرتے۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم! میں نے اپنے پہننے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ چادر نہیں مانگی تھی۔ بلکہ میں اسے اپنا کفن بناؤں گا۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہی چادر ان کا کفن بنی۔
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3555  
´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس کا بیان۔`
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں «بردہ» (چادر) لے کر آئی (ابوحازم نے پوچھا «بردہ» کیا چیز ہے؟ ان کے شیخ نے کہا: «بردہ» شملہ ہے جسے اوڑھا جاتا ہے) اور کہا: اللہ کے رسول! اسے میں نے اپنے ہاتھ سے بنا ہے تاکہ میں آپ کو پہناؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا کیونکہ آپ کو اس کی ضرورت تھی، پھر آپ اسے پہن کر کے ہمارے درمیان نکل کر آئے، یہی آپ کا تہبند تھا، پھر فلاں کا بیٹا فلاں آیا (اس شخص کا نام حدیث بیان کرنے کے دن سہل نے لیا تھا لیکن ابوحازم اسے بھول گئے) او۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3555]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
تحفہ دینا اور تحفہ قبول کرنا اچھے اخلاق میں شامل ہے۔

(2)
عورتیں دستکاری کے کام کر کے گھر کی آمدنی میں اضافہ کر سکتی ہیں بشرطیکہ پردے کے تقاضے کما حقہ پورے ہو سکیں۔

(3)
کوئی چیز اگر کوئی شخص مانگ لے تو سخاوت کا تقاضہ ہے کہ اسے دے دی جائے اگر چہ خود کو ضرورت ہو۔

(4)
  رسول اللہ ﷺ کے جسم مبارک سے مس ہونے والی چیزحصول برکت کے لئے اپنے پاس رکھنا یا استعمال کرنا درست ہے۔
یہ صرف اس صورت میں ہے جب یہ یقینی طور پر ثابت ہو کہ اس کا تعلق نبی ﷺ کی ذات سے رہ چکا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے مختلف حکمرانوں کو جو خطوط اور گرامی نامے بھیجے تھے ان کے علاوہ اب دنیا میں ایسی کسی چیز کا قطعاَََ َکوئی وجود نہیں ہے۔
یہ جو عوام الناس میں موئے مبارک وغیرہ قسم کی اشیاء مشہور کر دی گئی ہیں بالکل بے اصلی اور بے بنیاد باتیں ہیں۔
ایسی تمام اشیاء کے متعلق دعویٰ با لکل بلا دلیل ہے۔
جناب رسول کریم ﷺ سے متعلق کوئی بھی چیز ازقسم:
عصا، عمامہ، موئے مبارک اور نعلین وغیرہ اب دنیا کے کسی بھی حصے میں کہیں موجود نہیں۔
یہ سب من گھڑت اور خود ساختہ قصے کہانیاں ہیں۔
واللہ اءعلم۔

(5)
سلف صالحین نے کسی صحابی یا تابعی سے منسوب چیز کو بطور تبرک محفوظ نہیں رکھا۔
جو چیزیں بعض صحابہ ؓ کی طرف منسوب ہیں ان میں سے اکثر کی ان حضرات کی طرف نسبت درست نہیں۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3555   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1277  
1277. حضرت سہل ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: ایک عورت نبی کریم ﷺ کے لیے تیار شدہ حاشیہ دار چادر لائی، تمھیں معلوم ہے کہ بردہ کیا چیزہے؟ لوگوں نے کہا: چادر کو کہتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ الغرض عورت نے کہا: میں نے اس چادر کو اپنے ہاتھ سے تیار کیا ہے اور آپ کو پہنانے کے لیے لائی ہوں۔ نبی کریم ﷺ کو اس وقت ضرورت بھی تھی، اس لیے اسے قبول فرما لیا۔ پھر آپ باہر تشریف لائے تو وہ چادر آپ کی ازار تھی۔ ایک شخص نے اسکی تعریف کی اور کہنے لگا: کیا ہی عمدہ چادر ہے یہ مجھے عنائیت کردیجئے۔ لوگوں نے اس سے کہا: تو نے اچھا نہیں کیا کیونکہ نبی کریم ﷺ نے انتہائی ضرورت کے پیش نظر اسے زیب تن کیا تھا مگر تو نے اسے مانگ لیا ہے اور تجھے علم ہے کہ آپ ﷺ کسی کا سوال رد نہیں کرتے۔ اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے اسے پہننے کے لیے نہیں مانگا بلکہ اس لیے کہ وہ میرا کفن ہو۔ حضرت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:1277]
حدیث حاشیہ:
گویا حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے اپنی زندگی ہی میں اپنا کفن مہیا کر لیا۔
یہی باب کا مقصد ہے۔
یہ بھی ثابت ہوا کہ کسی مخیر معتمد بزرگ سے کسی واقعی ضرورت کے موقع پر جائز سوال بھی کیا جا سکتا ہے۔
ایسی احادیث سے نبی اکرم ﷺ پر قیاس کر کے جو آج کے پیروں کا تبرک حاصل کیا جاتا ہے یہ درست نہیں کیونکہ یہ آپ ﷺ کی خصوصیات اور معجزات میں سے ہیں اور آپ ذریعہ خیروبرکت ہیں کوئی اور نہیں۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1277   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1277  
1277. حضرت سہل ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: ایک عورت نبی کریم ﷺ کے لیے تیار شدہ حاشیہ دار چادر لائی، تمھیں معلوم ہے کہ بردہ کیا چیزہے؟ لوگوں نے کہا: چادر کو کہتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ الغرض عورت نے کہا: میں نے اس چادر کو اپنے ہاتھ سے تیار کیا ہے اور آپ کو پہنانے کے لیے لائی ہوں۔ نبی کریم ﷺ کو اس وقت ضرورت بھی تھی، اس لیے اسے قبول فرما لیا۔ پھر آپ باہر تشریف لائے تو وہ چادر آپ کی ازار تھی۔ ایک شخص نے اسکی تعریف کی اور کہنے لگا: کیا ہی عمدہ چادر ہے یہ مجھے عنائیت کردیجئے۔ لوگوں نے اس سے کہا: تو نے اچھا نہیں کیا کیونکہ نبی کریم ﷺ نے انتہائی ضرورت کے پیش نظر اسے زیب تن کیا تھا مگر تو نے اسے مانگ لیا ہے اور تجھے علم ہے کہ آپ ﷺ کسی کا سوال رد نہیں کرتے۔ اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے اسے پہننے کے لیے نہیں مانگا بلکہ اس لیے کہ وہ میرا کفن ہو۔ حضرت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:1277]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت سے پہلے کسی چیز کو تیار کر لینا جائز ہے، اسی طرح اپنی زندگی میں کفن تیار کر کے رکھ لینا توکل کے منافی نہیں لیکن قبل از موت قبر تیار کر لینا تاکہ موت یاد رہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت نہیں۔
اگر یہ کام اچھا ہوتا تو کثرت سے قبر تیار کر کے رکھنے کے واقعات منقول ہوتے۔
پھر کسی کو کیا معلوم کہ اس نے کہاں مرنا ہے؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ﴾ (لقمان: 31/34)
کسی کو علم نہیں کہ اسے کہاں موت نے آنا ہے۔
(فتح الباري: 185/3)
لیکن کفن کا معاملہ اس سے یکسر الگ ہے کہ انسان اپنے ہمراہ جہاں چاہے لے جا سکتا ہے۔
والله أعلم۔
(2)
جس شخص نے رسول اللہ ﷺ سے چادر مانگ کر اسے بطور کفن رکھا تھا وہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ تھے، جیسا کہ محب الطبری نے اپنی کتاب "الاحکام" میں اس کی صراحت کی ہے، لیکن طبرانی نے اس حدیث کو بیان کیا تو قتیبہ بن سعید کے حوالے سے وضاحت کی ہے کہ وہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ تھے۔
امام بخاری ؒ نے بھی قتیبہ بن سعید سے اس روایت کو کتاب اللباس میں بیان کیا ہے، لیکن اسے مبہم ہی رکھا ہے، نیز حافظ ابن حجر ؒ نے اس حدیث سے کئی ایک مسائل کا استنباط کیا ہے اور اس سے "تبرك بآثار الصالحین" کا مسئلہ بھی کشید کیا ہے۔
ہم اس کے متعلق وضاحت کر آئے ہیں کہ اسے صرف رسول اللہ ﷺ کی ذات بابرکات تک محدود رکھا جائے کیونکہ صحابہ کرام ؓ نے نبی ﷺ کے علاوہ کسی اور شخصیت سے تبرک حاصل نہیں کیا، نیز ایسا کرنے سے غلو اور شرک و بدعت کا دروازہ کھلتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ پر قیاس کر کے پیروں کا تبرک حاصل کرنا درست نہیں۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1277