صحيح البخاري
كِتَاب الْجَنَائِزِ -- کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
60. بَابُ الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَائِزِ بِالْمُصَلَّى وَالْمَسْجِدِ:
باب: نماز جنازہ عیدگاہ میں اور مسجد میں (ہر دو جگہ جائز ہے)۔
حدیث نمبر: 1328
وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفَّ بِهِمْ بِالْمُصَلَّى فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا.
‏‏‏‏ اور ابن شہاب سے یوں بھی روایت ہے انہوں نے کہا کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدگاہ میں صف بندی کرائی پھر (نماز جنازہ کی) چار تکبیریں کہیں۔
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1328  
1328. حضرت ابو ہریرہ ؓ ہی سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا:نبی ﷺ نے عید گاہ میں لوگوں کی صف بندی کی اور اس (نجاشی) پر چار تکبیریں کہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1328]
حدیث حاشیہ:
امام نووی ؒ فرماتے ہیں:
قال ابن عبدالبر وانعقد الإجماع بعد ذلك علی أربع وأجمع الفقہاء وأهل الفتویٰ بالأمصار علی أربع علی ماجاء في أحادیث الصحاح وما سوی ذلك عندهم شذوذ لایلتفت إلیه۔
(نووي)
یعنی ابن عبدالبرنے کہا کہ تمام فقہاءاور اہل فتویٰ کا چار تکبیروں پر اجماع ہوچکا ہے، جیسا کہ احادیث صحاح میں آیا ہے اور جو اس کے خلاف ہے وہ نوادر میں داخل ہے جس کی طرف التفات نہیں کیا جاسکتا۔
شیخ الحدیث مولانا عبیداللہ مبارکپوری ؒ فرماتے ہیں۔
والراجح عندي أنه لا ينبغي أن يزاد على أربع؛ لأن فيه خروجاً من الخلاف، ولأن ذلك هو الغالب من فعله - صلى الله عليه وسلم -، لكن الإمام إذا كبر خمساً تابعه المأموم؛ لأن ثبوت الخمس لا مرد له من حيث الرواية والعمل الخ۔
(مرعاة:
ج: 2ص: 477)

یعنی میرے نزدیک راجح یہی ہے کہ چار تکبیروں سے زیادہ نہ ہوں۔
اختلاف سے بچنے کا یہی راستہ ہے نبی کریم ﷺ کے فعل سے اکثر یہی ثابت ہے۔
لیکن اگر امام پانچ تکبیریں کہے تو مقتدیوں کو اس کی پیروی کرنی چاہیے۔
اس لیے کہ روایت اور عمل کے لحاظ سے پانچ کا بھی ثبوت موجود ہے جس سے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1328