صحيح مسلم
كِتَاب الرِّقَاقِ -- کتاب الرقاق
27. باب قِصَّةِ أَصْحَابِ الْغَارِ الثَّلَاثَةِ ، وَالتَّوَسُّلِ بِصَالِحِ الْأَعْمَالِ
باب: غار میں پھنسے ہوئے تین آدمیوں کا قصہ اور نیک اعمال کا وسیلہ۔
حدیث نمبر: 6951
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ ابْنُ سَهْلٍ: حَدَّثَنَا وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " انْطَلَقَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حَتَّى آوَاهُمُ الْمَبِيتُ إِلَى غَارٍ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ غَيْرَ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: اللَّهُمَّ كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ فَكُنْتُ لَا أَغْبِقُ قَبْلَهُمَا أَهْلًا وَلَا مَالًا، وَقَالَ: فَامْتَنَعَتْ مِنِّي حَتَّى أَلَمَّتْ بِهَا سَنَةٌ مِنَ السِّنِينَ، فَجَاءَتْنِي فَأَعْطَيْتُهَا عِشْرِينَ وَمِائَةَ دِينَارٍ، وَقَالَ: فَثَمَّرْتُ أَجْرَهُ حَتَّى كَثُرَتْ مِنْهُ الْأَمْوَالُ، فَارْتَعَجَتْ، وَقَالَ: فَخَرَجُوا مِنْ الْغَارِ يَمْشُونَ.
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: تم سے پہلے تین کنبہ والے چلے یہاں تک کہ ان کو رات ہو گئی ایک غار، میں پھر بیان کیا سارا قصہ جیسے اوپر مذکور ہوا۔ اس میں یہ ہے کہ ایک شخص بولا: یا اللہ! میرے ماں باپ بوڑھے ضعیف تھے، میں ان سے پہلے رات کو کسی کو دودھ نہ پلاتا، نہ گھر والوں کو، نہ غلاموں کو، اور یہ ہے کہ اس عورت نے میرا کہنا نہ مانا، یہاں تک کہ ایک سال قحط میں گرفتار ہوئی، اور میرے پاس آئی میں نے اس کو ایک سو بیس دینار دئیے، اور یہ ہے کہ میں نے اس مزدور کی اجرت کو بویا یہاں تک کہ بہت سے مال اس سے حاصل ہوئے اور وہ گڑبڑ کرنے لگے آخر میں یہ ہے کہ پھر وہ نکلے غار میں سے چلتے ہوئے۔