Make PDF File
Note: Copy Text and paste to word file

صحيح البخاري
كِتَاب الْحَجِّ
کتاب: حج کے مسائل کا بیان
30. بَابُ التَّلْبِيَةِ إِذَا انْحَدَرَ فِي الْوَادِي:
باب: نالے میں اترتے وقت لبیک کہے۔
حدیث نمبر: 1555
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ:" كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ، أَنَّهُ قَالَ: مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمْ أَسْمَعْهُ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: أَمَّا مُوسَى كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذْ انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن عدی نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عون نے ان سے مجاہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھے۔ لوگوں نے دجال کا ذکر کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے تو یہ نہیں سنا۔ ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ جب آپ نالے میں اترے تو لبیک کہہ رہے ہیں۔

صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1555 کے فوائد و مسائل
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1555  
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ عالم مثال میں آنحضرت ﷺ نے حضرت موسیٰ ؑ کو حج کے لئے لبیک پکارتے ہوئے دیکھا۔
ایک روایت میں ایسے ہی حضرت ابراہیم ؑ کا بھی دکر ہے۔
ایک حدیث میں حضرت عیسیٰ بن مریم کا فج الروحاء سے احرام باندھنے کا ذکر ہے۔
یہ بھی احتمال ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو آپ ﷺ نے اس حالت میں خواب میں دیکھا ہو۔
حافظ نے اسی پر اعتماد کیاہے۔
مسلم شریف میں یہ واقعہ حضرت ابن عباس ؓ سے یو ں مروی ہے۔
«كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ هَابِطًا مِنَ الثَّنِيَّةِ، وَلَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللهِ بِالتَّلْبِيَةِ» یعنی آنحضرت ﷺ نے فرمایا گویا میں موسیٰ ؑ کو دیکھ رہاہوں آپ گھاٹی سے اترے ہوئے کانوں میں انگلیاں ڈالے ہوئے لبیک بلند آواز سے پکارتے ہوئے اس وادی سے گزررہے ہیں۔
اس کے ذیل میں حافظ صاحب کی پوری تقریر یہ ہے۔
وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ التَّحْقِيقِ فِي مَعْنَى قَوْلِهِ كَأَنِّي أَنْظُرُ عَلَى أَوْجُهٍ الْأَوَّلُ هُوَ عَلَى الْحَقِيقَةِ وَالْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ فَلَا مَانِعُ أَنْ يَحُجُّوا فِي هَذَا الْحَالِ كَمَا ثَبَتَ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى مُوسَى قَائِمًا فِي قَبْرِهِ يُصَلِّي قَالَ الْقُرْطُبِيُّ حُبِّبَتْ إِلَيْهِمُ الْعِبَادَةُ فَهُمْ يَتَعَبَّدُونَ بِمَا يَجِدُونَهُ مِنْ دَوَاعِي أَنْفُسِهِمْ لَا بِمَا يُلْزَمُونَ بِهِ كَمَا يُلْهَمُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الذِّكْرَ وَيُؤَيِّدُهُ أَنَّ عَمَلَ الْآخِرَةِ ذِكْرٌ وَدُعَاءٌ لقَوْله تَعَالَى دَعوَاهُم فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ الْآيَةَ لَكِنَّ تَمَامَ هَذَا التَّوْجِيهِ أَنْ يُقَالَ إِنَّ الْمَنْظُورَ إِلَيْهِ هِيَ أَرْوَاحُهُمْ فَلَعَلَّهَا مُثِّلَتْ لَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدُّنْيَا كَمَا مُثِّلَتْ لَهُ لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ وَأَمَّا أَجْسَادُهُمْ فَهِيَ فِي الْقُبُور قَالَ بن الْمُنِيرِ وَغَيْرُهُ يَجْعَلُ اللَّهُ لِرُوحِهِ مِثَالًا فَيَرَى فِي الْيَقَظَةَ كَمَا يَرَى فِي النَّوْمِ ثَانِيهَا كَأَنَّهُ مُثِّلَتْ لَهُ أَحْوَالُهُمُ الَّتِي كَانَتْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَيْفَ تَعَبَّدُوا وَكَيْفَ حَجُّوا وَكَيْفَ لَبَّوْا وَلِهَذَا قَالَ كَأَنِّي ثَالِثُهَا كَأَنَّهُ أُخْبِرَ بِالْوَحْيِ عَنْ ذَلِكَ فَلِشِدَّةِ قَطْعِهِ بِهِ قَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ رَابِعُهَا كَأَنَّهَا رُؤْيَةُ مَنَامٍ تقدّمت لَهُ فَأخْبر عَنْهَا لما حج عِنْد مَا تذكرذَلِكَ وَرُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ وَهَذَا هُوَ الْمُعْتَمَدُ عِنْدِي لِمَا سَيَأْتِي فِي أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ مِنَ التَّصْرِيحِ بِنَحْوِ ذَلِكَ فِي أَحَادِيثَ أُخَرَ وَكَوْنُ ذَلِكَ كَانَ فِي الْمَنَامِ وَالَّذِي قَبْلَهُ أَيْضًا لَيْسَ بِبَعِيد وَالله أعلم (فتح الباری)
یعنی آنحضرت ﷺ کے فرمان کأني أنظر إلیه (گویا میں ان کو دیکھ رہا ہوں)
کی اہل تحقیق نے مختلف توجیہات کی ہیں۔
اول تو یہ کہ یہ حقیقت پر مبنی ہے کہ کیونکہ انبیاء کرام اپنے رب کے ہاں سے رزق دیئے جاتے ہیں اور وہ اپنی قبور میں زندہ ہیں۔
پس کچھ مشکل نہیں کہ وہ ا س حالت میں حج بھی کرتے ہوں جیسا کہ صحیح مسلم میں حدیث انس سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں نے موسیٰ ؑ کو دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں نمازپڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تھے قرطبی نے کہا کہ عبادت ان کے لئے محبوب ترین چیز رہی۔
پس وہ عالم آخرت میں بھی اسی حالت میں بطیب خاطر مشغول ہیں حالانکہ یہ ان کے لئے وہاں لازم نہیں۔
یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ اہل جنت کو ذکر الہٰی کا الہام ہوتا رہے گا اور اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ عمل آخرت ذکر اور دعا ہے جیسا کہ آیت شریفہ:
﴿دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ﴾ (یونس: 10)
میں مذکورہے۔
لیکن اس توجیہ کی تکمیل اس پر ہے کہ آپ کو ان کی ارواح نظر آئیں اور عالم مثال میں ان کو دنیا میں آپ کو دکھلایا گیا۔
جیسا کہ معراج میں آپ کو تمثیلی اشکال میں ان کو دکھلایا گیا تھا۔
حالانکہ ان کے اجسادان کی قبروں میں تھے۔
ابن منیر نے کہا کہ اللہ پاک ان کی ارواح طیبہ کو عالم مثال میں دکھلادیتا ہے۔
یہ عالم بیداری میں بھی ایسے ہی دکھائی دیئے جاتے ہیں جیسے عالم خواب میں۔
دوسری توجیہ یہ کہ ان کے تمثیلی حالات دکھلائے گئے۔
جیسے کہ وہ دنیا میں عبادت اور حج اور لبیک وغیرہ کیا کرتے تھے۔
تیسری یہ کہ وحی سے یہ حال معلوم کرایا گیا جو اتنا قطعی تھا کہ آپ نے کانی انظر الیہ سے اسے تعبیر فرمایا۔
چوتھی توجیہ یہ کہ یہ عالم خواب کا معاملہ ہے جو آپ کو دکھلایا گیا اور انبیاءکے خواب بھی وحی کے درجہ میں ہوتے ہیں اور میرے نزدیک اسی توجیہ کو ترجیح ہے جیسا کہ احادیث الانبیاءمیں صراحت آئے گی اور اس کا حالت خواب میں نظر آنا کوئی بعید چیز نہیں ہے۔
خلاصۃ المرام یہ ہے کہ عالم خواب میں یاعالم مثال میں آنحضرت ﷺ نے حضرت موسی ؑ کو سفر حج میں لبیک پکارتے ہوئے اور مذکورہ وادی میں سے گزرتے ہوئے دیکھا۔
صلی اللہ علیه وسلم وعلی نبینا علیه الصلٰوة والسلام۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1555   

  حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 1555  
تخريج الحديث:
[105۔ البخاري فى: 25 كتاب الحج: 30 باب التلبية إذا انحدر 1555، مسلم 166، ابن ماجه 2891]
لغوی توضیح:
«الدَّجَّالَ» قیامت کی ایک بڑی نشانی جو قیامت کے قریب ظاہر ہو گی، جس سے ہر نبی نے اپنی امت کو ڈرایا، جس کے پاس بڑی بڑی طاقتیں ہوں گی جن کے ذریعے وہ لوگوں کو بآسانی گمراہ کر دے گا۔ اسی لیے ہر نماز میں اس سے پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے (اس کی مزید کچھ تفصیل کتاب الفتن میں آئے گی)۔
«انْحَدَرَ» اترے۔
   جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 105   

  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1555  
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نشیب و فراز میں اترتے چڑھتے وقت تلبیہ کہنا حضرات انبیاء ؑ کی سنت ہے اسے بجا لانا چاہیے۔
(2)
صحیح مسلم میں حضرت موسیٰ ؑ کے متعلق یہ الفاظ ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
گویا میں موسیٰ ؑ کو دیکھ رہا ہوں، وہ گھاٹی سے اتر رہے ہیں اور کانوں میں انگلیاں ڈالے بآواز بلند لبیک پکارتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 421(166)
اس سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے حضرت موسیٰ ؑ کو عالم مثال میں دیکھا۔
ایک روایت میں حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر ہے۔
ایک اور روایت میں حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق بیان ہے کہ وہ فج الروحاء سے احرام باندھ رہے ہیں۔
ممکن ہے کہ اس قسم کے واقعات عالم خواب میں رونما ہوئے ہوں اور انبیاء ؑ کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں۔
حافظ ابن حجر ؒ نے اسی کو ترجیح دی ہے اور قابل اعتماد ٹھہرایا ہے۔
مختصر یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت موسیٰ ؑ کو عالم مثال یا عالم خواب میں حج کے لیے لبیک کہتے ہوئے دیکھا جو اس وادی سے گزر رہے ہیں جس کا حدیث میں ذکر ہے۔
(فتح الباري: 522/3)
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1555