Note: Copy Text and paste to word file

سنن ابن ماجه
كتاب الأدب
کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
54. بَابُ : فَضْلِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ
باب: لا الہٰ الا اللہ کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 3798
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , أَخْبَرَنِي سُمَيٌّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ , وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ , كَانَ لَهُ عَدْلُ عَشْرِ رِقَابٍ , وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ , وَمُحِيَ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ , وَكُنَّ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ سَائِرَ يَوْمِهِ إِلَى اللَّيْلِ , وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا أَتَى بِهِ , إِلَّا مَنْ قَالَ أَكْثَرَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک دن میں سو بار «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير» یعنی اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں وہ تنہا ہے، اس کا کوئی ساجھی و شریک نہیں، اس کے لیے بادشاہت اور تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، کہا تو اس کے لیے دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ہے، اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں، اور اس کی سو برائیاں مٹائی جاتی ہیں، اور وہ پورے دن رات تک شیطان سے بچا رہتا ہے، اور کسی کا عمل اس کے عمل سے افضل نہ ہو گا مگر جو کوئی اسی کلمہ کو سو بار سے زیادہ کہے ۱؎۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/بدء الخلق 11 (3293)، الدعوات 65 (6403)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 10 (2691)، سنن الترمذی/الدعوات 60 (3464)، (تحفة الأشراف: 12571)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن 7 (20)، مسند احمد (2/302، 375) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت: ۱؎: اس سے زیادہ ثواب ہو گا اسی طرح جو کوئی اور زیادہ کہے اس کو اور زیادہ ثواب ہو گا۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

وضاحت: ۱؎: اس سے زیادہ ثواب ہو گا اسی طرح جو کوئی اور زیادہ کہے اس کو اور زیادہ ثواب ہو گا۔
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3798 کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3798  
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کا ذکر ثواب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

(2)
بعض اذکار مالی صدقات و خیرات سے زیادہ ثواب کا باعث ہوتے ہیں۔

(3)
مسنون ذکر شیطان سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔

(4)
مسنون اذکار میں اس قدر برکات و فوائد موجود ہیں کہ ان کے ساتھ مزید اذکار ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں۔
اور اپنے بنائے ہوئے اذکار ثواب کا باعث بھی نہیں۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3798   

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3468  
´باب:۔۔۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک دن میں سو بار کہا: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير» ۱؎، تو اس کو دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ہو گا، اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اس کی سو برائیاں مٹا دی جائیں گی، اور یہ چیز اس کے لیے شام تک شیطان کے شر سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائے گی، اور قیامت کے دن کوئی اس سے اچھا عمل لے کر نہ آئے گا سوائے اس شخص کے جس نے یہی عمل اس شخص سے زیادہ کیا ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3468]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ اکیلے کے،
اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں،
اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ہے ہر طرح کی تعریف،
وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3468   

  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6843  
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جو شخص صبح و شام کے وقت سبحان اللہ وبحمدہ سو دفعہ کہتا ہے، قیامت کے دن کوئی اس کے عمل سے بہتر عمل لے کر حاضر نہیں ہو گا مگر وہ انسان جس نے اس کے برابر یا اس سے زیادہ دفعہ یہی کلمات کہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6843]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ان احادیث سے معلوم ہوا،
ان کلمات میں اضافہ مطلوب ہے اور وہ اجروثواب میں اضافہ کا باعث ہیں،
یہ ان اشیاء کی طرح نہیں ہے،
جن میں کمی و بیشی ممکن نہیں ہے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6843