سنن نسائي
كتاب المساجد -- کتاب: مساجد کے فضائل و مسائل
9. بَابُ : فَضْلِ مَسْجِدِ قُبَاءٍ وَالصَّلاَةِ فِيهِ
باب: مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 700
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْكَرْمَانِيِّ، قال: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قال: قال أَبِي: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ خَرَجَ حَتَّى يَأْتِيَ هَذَا الْمَسْجِدَ مَسْجِدَ قُبَاءَ فَصَلَّى فِيهِ كَانَ لَهُ عَدْلَ عُمْرَةٍ".
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (اپنے گھر سے) نکلے یہاں تک کہ وہ اس مسجد یعنی مسجد قباء میں آ کر اس میں نماز پڑھے تو اس کے لیے عمرہ کے برابر ثواب ہے۔

تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجہ/إقامة 197 (1412)، (تحفة الأشراف: 4657)، مسند احمد 3/487 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 700  
´مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت کا بیان۔`
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (اپنے گھر سے) نکلے یہاں تک کہ وہ اس مسجد یعنی مسجد قباء میں آ کر اس میں نماز پڑھے تو اس کے لیے عمرہ کے برابر ثواب ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 700]
700 ۔ اردو حاشیہ: دور دراز سے تقرب اور تبرک کا قصد کر کے مسجد قباء میں جانا درست نہیں کیونکہ یہ خصوصیت مساجد ثلاثہ (بیت اللہ، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ) ہی کو حاصل ہے، البتہ قرب و جوار سے مسجد قباء میں آنا فضیلت کا باعث ہے، یعنی جو شخص مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی نیت سے حاضر ہوا ہو یا مدینہ منورہ کا باسی ہو، وہ مسجد قباء کو جائے تاکہ یہ فضیلت حاصل کر سکے۔ اس طرح سب احادیث پر عمل ہو جائے گا۔ واللہ أعلم۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 700