سنن ترمذي
كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم -- کتاب: حدود و تعزیرات سے متعلق احکام و مسائل
9. باب تَرَبُّصِ الرَّجْمِ بِالْحُبْلَى حَتَّى تَضَعَ
باب: بچہ جننے کے بعد حاملہ کو رجم کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1435
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلِّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ اعْتَرَفَتْ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالزِّنَا , فَقَالَتْ: إِنِّي حُبْلَى فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا , فَقَالَ: " أَحْسِنْ إِلَيْهَا , فَإِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا , فَأَخْبِرْنِي ". فَفَعَلَ , فَأَمَرَ بِهَا فَشُدَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا , ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا , فَرُجِمَتْ , ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا , فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , رَجَمْتَهَا ثُمَّ تُصَلِّي عَلَيْهَا , فَقَالَ: " لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ , وَهَلْ وَجَدْتَ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زنا کا اقرار کیا، اور عرض کیا: میں حاملہ ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو طلب کیا اور فرمایا: اس کے ساتھ حسن سلوک کرو اور جب بچہ جنے تو مجھے خبر کرو، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا، اور پھر آپ نے حکم دیا، چنانچہ اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے ۱؎ پھر آپ نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ اسے رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی تو عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اسے رجم کیا ہے، پھر اس کی نماز پڑھ رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر یہ مدینہ کے ستر آدمیوں کے درمیان تقسیم کر دی جائے تو سب کو شامل ہو جائے گی ۲؎، عمر! اس سے اچھی کوئی چیز تمہاری نظر میں ہے کہ اس نے اللہ کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/الحدود 5 (1696)، سنن ابی داود/ الحدود 25 (4440)، سنن النسائی/الجنائز 64 (1959)، سنن ابن ماجہ/الحدود 9 (2555)، (تحفة الأشراف: 10881)، و مسند احمد (4/420، 435، 437، 440)، سنن الدارمی/الحدود 18 (2371) (صحیح)»

وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ عورتوں پر حد جاری کرتے وقت ان کے جسم کی ستر پوشی کا خیال رکھنا چاہیئے۔
۲؎: مسلمانوں کے دیگر اموات کی طرح جس پر حد جاری ہو اس پر بھی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، کیونکہ حد کا نفاذ صاحب حد کے لیے باعث کفارہ ہے، اس پر جملہ مسلمانوں کا اتفاق ہے، یہی وجہ ہے کہ مذکورہ حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ سے اس تائبہ کے توبہ کی کیا اہمیت ہے اسے واضح کیا۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2555)
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2555  
´زانی کو رجم کرنے کا بیان۔`
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر زنا کا اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کے کپڑے باندھ دئیے گئے، پھر اس کو رجم کیا، اس کے بعد اس کی نماز جنازہ پڑھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2555]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کپڑے جسم پراچھی طرح سمیٹ کر باندھ دینے کا مقصد یہ ہے کہ عورت کے جسم کی بے پردگی نہ ہو۔

(2)
جسے حد لگی ہو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے اور اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا چاہیے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2555   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1435  
´بچہ جننے کے بعد حاملہ کو رجم کرنے کا بیان۔`
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زنا کا اقرار کیا، اور عرض کیا: میں حاملہ ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو طلب کیا اور فرمایا: اس کے ساتھ حسن سلوک کرو اور جب بچہ جنے تو مجھے خبر کرو، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا، اور پھر آپ نے حکم دیا، چنانچہ اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے ۱؎ پھر آپ نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ اسے رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی تو عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اسے رجم کیا ہے، پھر اس کی نماز۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الحدود/حدیث: 1435]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ عورتوں پر حد جاری کرتے وقت ان کے جسم کی سترپوشی کا خیال رکھنا چاہئے۔

2؎:
مسلمانوں کے دیگر اموات کی طرح جس پر حد جاری ہو اس پربھی صلاۃِ جنازہ پڑھی جائے گی،
کیونکہ حد کا نفاذ صاحب حد کے لیے باعث کفارہ ہے،
اس پر جملہ مسلمانوں کا اتفاق ہے،
یہی وجہ ہے کہ مذکورہ حدیث میں نبی اکرمﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ سے اس تائبہ کے توبہ کی کیا اہمیت ہے اسے واضح کیا۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1435