سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم -- کتاب: تفسیر قرآن کریم
33. باب وَمِنْ سُورَةِ السَّجْدَةِ
باب: سورۃ السجدہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3196
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ: تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ سورة السجدة آية 16 نَزَلَتْ فِي انْتِظَارِ الصَّلَاةِ الَّتِي تُدْعَى الْعَتَمَةَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت «تتجافى جنوبهم عن المضاجع» ان کے پہلو خواب گاہوں سے جدا رہتے ہیں (السجدۃ: ۱۶)، اس نماز کا انتظار کرنے والوں کے حق میں اتری ہے جسے رات کی پہلی تہائی کی نماز کہتے ہیں، یعنی نماز عشاء ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1662) (صحیح)»

وضاحت: ۱؎: یہ حدیث صحیح ہے، تو اسی کے مطابق اس سے مراد عشاء کی نماز لینی چاہیئے، (بعض لوگوں نے اس سے مراد تہجد کی نماز کو لیا ہے)۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، التعليق الرغيب (1 / 160)
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3196  
´سورۃ السجدہ سے بعض آیات کی تفسیر۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت «تتجافى جنوبهم عن المضاجع» ان کے پہلو خواب گاہوں سے جدا رہتے ہیں (السجدۃ: ۱۶)، اس نماز کا انتظار کرنے والوں کے حق میں اتری ہے جسے رات کی پہلی تہائی کی نماز کہتے ہیں، یعنی نماز عشاء ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3196]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ان کے پہلو خواب گاہوں سے جدا رہتے ہیں (السجدۃ: 16)

2؎:
یہ حدیث صحیح ہے،
تو اسی کے مطابق اس سے مراد عشاء کی نماز لینی چاہئے،
(بعض لوگوں نے اس سے مراد تہجد کی نماز کو لیا ہے)
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3196