سنن ترمذي
كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم -- کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
78. باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 3497
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَقُولُ أَحَدُكُمْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ، لِيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ فَإِنَّهُ لَا مُكْرِهَ لَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کوئی شخص دعا مانگے تو) اس طرح نہ کہے: اے اللہ! تو چاہے تو ہمیں بخش دے، اے اللہ! تو چاہے تو ہم پر رحم فرما ۱؎ بلکہ زور دار طریقے سے مانگے، اس لیے کہ اللہ کو کوئی مجبور کرنے والا تو ہے نہیں (کہ کہا جائے: اگر تو چاہے)،
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/الدعوات 21 (6339)، والتوحید 31 (7377)، صحیح مسلم/الذکر 3 (2678)، سنن ابی داود/ الصلاة 358 (1483)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 8 (3854) (تحفة الأشراف: 3813)، وط/القرآن 8 (28)، و مسند احمد (2/243، 457) (صحیح)»

وضاحت: ۱؎: یعنی شبہہ اور تذبذب والی اور ڈھیلے پن کی بات نہیں ہونی چاہیئے۔ بلکہ پورے عزم، پختہ ارادے، اور اپنی پوری کوشش کے ساتھ دعا مانگے جیسے مجھے یہ چاہیئے، مجھے یہ دے، مجھے تو بس تجھی سے مانگنا ہے اور تجھ ہی سے پانا ہے وغیرہ وغیرہ۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3854)
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 449  
´دعا کرتے وقت اگر تو چاہے کہنے کی ممانعت`
«. . . 336- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا يقولن أحدكم: اللهم اغفر لي إن شئت، اللهم ارحمني إن شئت؛ ليعزم المسألة، فإنه لا مكره له. . . .»
. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی بھی (دعا کے وقت) یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر۔ تاکید کے ساتھ (اللہ سے) سوال کرنا چاہئیے کیونکہ اسے مجبور کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 449]

تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 6339، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ دعا صرف اللہ سے مانگنی چاہئے۔
➋ اللہ تعالیٰ سے اس جذبے کے ساتھ بطور جزم دعا مانگنی چاہئے کہ وہ اپنے فضل وکرم سے ضرور دعا قبول فرمائے گا۔
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 336   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3854  
´آدمی کو اس طرح نہیں کہنا چاہئے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ کو بخش دے۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے یقینی طور پر سوال کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی زور زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3854]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی امید رکھتے ہوئے اپنی حاجت طلب کرنی چاہیے۔

(2)
  یہ کہنا کہ اگر تو چاہے اللہ کے شایان شان نہیں، اس لیے ناپسندیدہ ہے کیونکہ سب کچھ دینے والا تو وہی ایک ہے اس سے تو اس عزم کے ساتھ مانگنا چاہیے کہ اگر تو میری دعا قبول نہیں کرے گا تو میرا تو تیر ے سوا اور کوئی در ہی نہیں ہے، میں تیرا در چھوڑ کر کہاں جاؤں؟ بہرحال ایسے الفاظ نا پسندیدہ ہیں جن میں یقین کی بجائے مایوسی کا اظہار ہو۔

(3)
یہ دعا کرنا درست ہے کہ اگر فلاں چیز میرے لیے بہتر ہے تو مجھے عطا فرما دے ورنہ وہ چیز عطا فرما دے جو میرے لیے بہتر ہو۔
دعائے استخارہ میں یہی دعا کی جاتی ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3854   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3497  
´باب:۔۔۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کوئی شخص دعا مانگے تو) اس طرح نہ کہے: اے اللہ! تو چاہے تو ہمیں بخش دے، اے اللہ! تو چاہے تو ہم پر رحم فرما ۱؎ بلکہ زور دار طریقے سے مانگے، اس لیے کہ اللہ کو کوئی مجبور کرنے والا تو ہے نہیں (کہ کہا جائے: اگر تو چاہے)، [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3497]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی شبہہ اور تذبذب والی اور ڈھیلے پن کی بات نہیں ہونی چاہیے بلکہ پورے عزم،
پختہ ارادے،
اور اپنی پوری کوشش کے ساتھ دعا مانگے جیسے مجھے یہ چاہیے،
مجھے یہ دے،
مجھے تو بس تجھی سے مانگنا ہے اور تجھ ہی سے پانا ہے وغیرہ وغیرہ۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3497