صحيح البخاري
كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة -- کتاب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی فضیلت
5. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلاً»:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر میں کسی کو جانی دوست بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔
حدیث نمبر: 3670
ثُمَّ لَقَدْ بَصَّرَ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ الْهُدَى وَعَرَّفَهُمُ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ وَخَرَجُوا بِهِ يَتْلُونَ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ إِلَى الشَّاكِرِينَ سورة آل عمران آية 144".
‏‏‏‏ اور بعد میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جو حق اور ہدایت کی بات تھی وہ لوگوں کو سمجھا دی اور ان کو بتلا دیا جو ان پر لازم تھا (یعنی اسلام پر قائم رہنا) اور وہ یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے باہر آئے «وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل‏» محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک رسول ہیں اور ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں «الشاكرين‏» تک۔
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3670  
3670. حضرت ابوبکر ؓ نے لوگوں کی خوب رہنمائی فرمائی اور جو ان کی ذمہ داری تھی وہ ان پر واضح کی، چنانچہ جب لوگ وہاں سے نکلے تو یہ آیت کریمہ تلاوت کررہے تھے: ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌّ۔۔۔ الشَّاكِرِينَ﴾ تک۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3670]
حدیث حاشیہ:
حضرت ابوبکر ؓ کے اس عظیم خطبہ نے امت کے شیرازے کو منتشر ہونے سے بچالیا۔
انصار نے جو دوامیر مقرر کرنے کی تجویز پیش کی تھی وہ صحیح نہ تھی۔
کیونکہ ایک میان میں دو تلواریں نہیں رکھی جاسکتیں۔
روایت میں حضرت سعد بن عبادہ ؓ کے لیے حضرت عمر ؓ کی بددعا مذکور ہے۔
وہی دو امیر مقرر کرنے کی تجویز لے کر آئے تھے۔
خدانخواستہ اس پر عمل ہوتا تونتیجہ بہت ہی برا ہوتا۔
کہتے ہیں کہ حضرت عبادہ اس کے بعد شام کے ملک کو چلے گئے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔
اس حدیث سے نصب خلیفہ کا وجوب ثابت ہو ا کیونکہ صحابہ کرام نے آنحضرت ﷺ کی تجہیز وتکفین پر بھی اس کو مقدم رکھا۔
صد افسوس کہ امت نے جلد ہی اس فر ض کو فراموش کردیا۔
پہلی خرابی یہ پیداہوئی کہ خلافت کی جگہ ملوکیت آگئی۔
پھر جب مسلمانوں نے قطار عالم میں قدم رکھا تو مختلف اقوام عالم سے ان کا سابقہ پڑا جن سے متاثر ہو کر وہ اس فریضہ ملت کو بھول گئے اور انتشار کا شکار ہوگئے۔
آج تو دور ہی دوسرا ہے اگر چہ اب بھی مسلمانوں کی کافی حکومتیں دنیا میں قائم ہیں مگر خلافت راشدہ کی جھلک سے اکثر محروم ہیں۔
اللہ پاک اس دور پُر فتن میں مسلمانوں کو باہمی اتفاق نصیب کرے کہ وہ متحدہ طورپر جمع ہوکر ملت اسلامیہ کی خدمت کرسکیں۔
آمین
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3670   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3670  
3670. حضرت ابوبکر ؓ نے لوگوں کی خوب رہنمائی فرمائی اور جو ان کی ذمہ داری تھی وہ ان پر واضح کی، چنانچہ جب لوگ وہاں سے نکلے تو یہ آیت کریمہ تلاوت کررہے تھے: ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌّ۔۔۔ الشَّاكِرِينَ﴾ تک۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3670]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث سے حضرت ابو بکرصدیق ؓ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ آپ کی بصیرت عظیم خطبہ اور بروقت اقدام نے امت کے شیرازے کو منتشر ہونے سے بچا لیا۔
نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ کا علم حضرت عمر ؓ بلکہ تمام صحابہ کے علم سے بڑھ کر تھا۔

انصار نے جو تجویز پیش کی تھی کہ دو امیر مقرر کر لیے جائیں وہ صحیح نہ تھی۔
اگر اس پر عمل ہو جاتا تو امت کی وحدت کے خلاف بڑے بھیانک نتائج بر آمد ہوتے۔
حضرت عمر نے بروقت اور برجستہ اس تحریک کا جواب دیا اور فرمایا:
ایک میان میں دو تلواریں نہیں سما سکتیں۔
اور ابوبکر ؓ کا ہاتھ پکڑ کرفرمایا:
بتاؤ ﴿إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ﴾ غار میں دونوں کون تھے؟ ﴿ذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ﴾ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کون تھے اور ﴿إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا﴾ میں اللہ تعالیٰ کی معیت کن کو حاصل تھی؟ پھر آپ نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور حضرت ابوبکر ؓ کی بیعت کرلی اور لوگوں سے کہا:
تم بھی ان کی بیت کرو،چنانچہ سب لوگوں نے حضرت ابوبکر ؓ کی بیعت کرلی۔
(فتح الباري: 41/7)

اس حدیث سے منصب خلافت کی اہمیت کا بھی پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی تجہیز وتکفین پر اسے مقدم رکھا۔
افسوس کہ آج مسلمانوں نے اس اہم فرض کوفراموش کردیاہے۔
اگرچہ آج دنیا میں مسلمانوں کی متعدد حکومتیں قائم ہیں مگر خلافت راشدہ کی جھلک سے اکثر محروم ہیں۔
واللہ المستعان۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3670