صحيح البخاري
كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة -- کتاب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی فضیلت
5. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلاً»:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر میں کسی کو جانی دوست بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔
حدیث نمبر: 3674
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ أَبُو الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ:أَخْبَرَنِي أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ خَرَجَ، فَقُلْتُ: لَأَلْزَمَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَكُونَنَّ مَعَهُ يَوْمِي هَذَا، قَالَ: فَجَاءَ الْمَسْجِدَ فَسَأَلَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: خَرَجَ وَوَجَّهَ هَا هُنَا فَخَرَجْتُ عَلَى إِثْرِهِ أَسْأَلُ عَنْهُ حَتَّى دَخَلَ بِئْرَ أَرِيسٍ فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ وَبَابُهَا مِنْ جَرِيدٍ حَتَّى قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ , فَتَوَضَّأَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ عَلَى بِئْرِ أَرِيسٍ وَتَوَسَّطَ قُفَّهَا وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ وَدَلَّاهُمَا فِي الْبِئْرِ , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ انْصَرَفْتُ فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ، فَقُلْتُ: لَأَكُونَنَّ بَوَّابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَدَفَعَ الْبَابَ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، فَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ، فَقُلْتُ: عَلَى رِسْلِكَ ثُمَّ ذَهَبْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ:" ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ" , فَأَقْبَلْتُ حَتَّى قُلْتُ: لِأَبِي بَكْرٍ ادْخُلْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُكَ بِالْجَنَّةِ , فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ فِي الْقُفِّ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ كَمَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ، ثُمَّ رَجَعْتُ فَجَلَسْتُ وَقَدْ تَرَكْتُ أَخِي يَتَوَضَّأُ وَيَلْحَقُنِي، فَقُلْتُ: إِنْ يُرِدِ اللَّهُ بِفُلَانٍ خَيْرًا يُرِيدُ أَخَاهُ يَأْتِ بِهِ فَإِذَا إِنْسَانٌ يُحَرِّكُ الْبَابَ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، فَقَالَ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقُلْتُ: عَلَى رِسْلِكَ ثُمَّ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ:" ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ" , فَجِئْتُ فَقُلْتُ: ادْخُلْ وَبَشَّرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجَنَّةِ , فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقُفِّ عَنْ يَسَارِهِ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ثُمَّ رَجَعْتُ فَجَلَسْتُ، فَقُلْتُ: إِنْ يُرِدِ اللَّهُ بِفُلَانٍ خَيْرًا يَأْتِ بِهِ فَجَاءَ إِنْسَانٌ يُحَرِّكُ الْبَابَ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، فَقَالَ: عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَقُلْتُ: عَلَى رِسْلِكَ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ" , فَجِئْتُهُ فَقُلْتُ: لَهُ ادْخُلْ وَبَشَّرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُكَ فَدَخَلَ فَوَجَدَ الْقُفَّ قَدْ مُلِئَ فَجَلَسَ وِجَاهَهُ مِنَ الشَّقِّ الْآخَرِ، قَالَ: شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ فَأَوَّلْتُهَا قُبُورَهُمْ.
ہم سے ابوالحسن محمد بن مسکین نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حسان نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے شریک بن ابی نمر نے، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا، کہا مجھ کو ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے ایک دن اپنے گھر میں وضو کیا اور اس ارادہ سے نکلے کہ آج دن بھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑوں گا۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر وہ مسجد نبوی میں حاضر ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھا تو وہاں موجود لوگوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو تشریف لے جا چکے ہیں اور آپ اس طرف تشریف لے گئے ہیں۔ چنانچہ میں آپ کے متعلق پوچھتا ہوا آپ کے پیچھے پیچھے نکلا اور آخر میں نے دیکھا کہ آپ (قباء کے قریب) بئراریس میں داخل ہو رہے ہیں، میں دروازے پر بیٹھ گیا اور اس کا دروازہ کھجور کی شاخوں سے بنا ہوا تھا۔ جب آپ قضائے حاجت کر چکے اور آپ نے وضو بھی کر لیا تو میں آپ کے پاس گیا۔ میں نے دیکھا کہ آپ بئراریس (اس باغ کے کنویں) کی منڈیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اپنی پنڈلیاں آپ نے کھول رکھی ہیں اور کنویں میں پاؤں لٹکائے ہوئے ہیں۔ میں نے آپ کو سلام کیا اور پھر واپس آ کر باغ کے دروازے پر بیٹھ گیا۔ میں نے سوچا کہ آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دربان رہوں گا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور دروازہ کھولنا چاہا تو میں نے پوچھا کہ کون صاحب ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ابوبکر! میں نے کہا تھوڑی دیر ٹھہر جائیے۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ابوبکر دروازے پر موجود ہیں اور اندر آنے کی اجازت آپ سے چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور جنت کی بشارت بھی۔ میں دروازہ پر آیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سے میں نے کہا کہ اندر تشریف لے جائیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جنت کی بشارت دی ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے اور اسی کنویں کی منڈیر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داہنی طرف بیٹھ گئے اور اپنے دونوں پاؤں کنویں میں لٹکا لیے۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لٹکائے ہوئے تھے اور اپنی پنڈلیوں کو بھی کھول لیا تھا۔ پھر میں واپس آ کر اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔ میں آتے وقت اپنے بھائی کو وضو کرتا ہوا چھوڑ آیا تھا۔ وہ میرے ساتھ آنے والے تھے۔ میں نے اپنے دل میں کہا، کاش اللہ تعالیٰ فلاں کو خبر دے دیتا۔ ان کی مراد اپنے بھائی سے تھی اور انہیں یہاں پہنچا دیتا۔ اتنے میں کسی صاحب نے دروازہ پر دستک دی میں نے پوچھا کون صاحب ہیں؟ کہا کہ عمر بن خطاب۔ میں نے کہا کہ تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر جائیے، چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کے بعد عرض کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے ہیں اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور جنت کی بشارت بھی پہنچا دو۔ میں واپس آیا اور کہا کہ اندر تشریف لے جائیے اور آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی ہے۔ وہ بھی داخل ہوئے اور آپ کے ساتھ اسی منڈیر پر بائیں طرف بیٹھ گئے اور اپنے پاؤں کنویں میں لٹکا لیے۔ میں پھر دروازے پر آ کر بیٹھ گیا اور سوچتا رہا کہ اگر اللہ تعالیٰ فلاں (ان کے بھائی) کے ساتھ خیر چاہے گا تو اسے یہاں پہنچا دے گا، اتنے میں ایک اور صاحب آئے اور دروازے پر دستک دی، میں نے پوچھا کون صاحب ہیں؟ بولے کہ عثمان بن عفان، میں نے کہا تھوڑی دیر کے لیے رک جائیے، میں آپ کے پاس آیا اور میں نے آپ کو ان کی اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور ایک مصیبت پر جو انہیں پہنچے گی جنت کی بشارت پہنچا دو۔ میں دروازے پر آیا اور میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے جائیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جنت کی بشارت دی ہے، ایک مصیبت پر جو آپ کو پہنچے گی۔ وہ جب داخل ہوئے تو دیکھا چبوترہ پر جگہ نہیں ہے اس لیے وہ دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے۔ شریک نے بیان کیا کہ سعید بن مسیب نے کہا میں نے اس سے ان کی قبروں کی تاویل لی ہے (کہ اسی طرح بنیں گی)۔
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3710  
´عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان`
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا، آپ انصار کے ایک باغ میں داخل ہوئے اور اپنی حاجت پوری کی، پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: ابوموسیٰ! تم دروازہ پر رہو کوئی بغیر اجازت کے اندر داخل نہ ہونے پائے، پھر ایک شخص نے آ کر دروازہ کھٹکھٹایا، تو میں نے کہا: کون ہے؟ انہوں نے کہا: ابوبکر ہوں، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ابوبکر اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: انہیں آنے دو، اور انہیں جنت کی بشارت دے دو، چنانچہ وہ اندر آئے اور میں نے انہیں جنت کی بشارت دی، پھر ایک دوسرے شخص آئے او۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3710]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس سے آپﷺ کا اشارہ اس حادثہ کی طرف تھا جس سے عثمان رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے آخری دور میں دوچار ہوئے پھر جام شہادت نوش کیا،
نیز اس حدیث سے ان تینوں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے،
اوریہ کہ ان کے درمیان خلافت میں یہی ترتیب ہو گی۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3710   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3674  
3674. حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓسے روایت ہے، انھوں نے اپنے گھر وضو کیا اور باہر نکلتے دل میں کہنے لگے کہ میں آج رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ضرور آپ کے ساتھ رہوں گا، چنانچہ وہ مسجد میں آئے اور نبی کریم ﷺ کے متعلق دریافت کیا تو لوگوں نے کہا: آپ باہر کہیں اس طرف تشریف لے گئے ہیں، لہذا میں آپ کے قدموں کے نشانات پر آپ کے متعلق پوچھتا ہوا روانہ ہوا اور چاہ اریس تک جاپہنچا اور دروازے پر بیٹھ گیا اور اس کا دروازہ کھجور کی شاخوں سے بنا ہوا تھا۔ جب آپ رفع حاجت سے فارغ ہوئے اور وضو کرچکے تو میں آپ کے پاس گیا۔ آپ چاہ اریس، یعنی اس کی منڈیر کے درمیان کنویں میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہوئے تھے اور ا پنی پنڈلیوں کو کھول کر کنویں میں لٹکا رکھا تھا۔ میں آپ کو سلام کرکے لوٹ آیا اور دروازے پر بیٹھ گیا۔ میں نے سوچا کہ آج نبی کریم ﷺ کا دربان بنوں گا۔ اتنے میں حضرت ابوبکر ؓ تشریف لائے اور انھوں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:3674]
حدیث حاشیہ:
یہ سعید بن مسیب کی کمال دانائی تھی حقیقت میں ایسا ہی ہوا۔
حضرت ابوبکر اور عمر ؓ تو آنحضرت ﷺ کے پاس دفن ہوئے اور حضرت عثمانؓ آپ کے سامنے بقیع غرقد میں۔
سعید کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ابوبکر وعمر ؓ آپ کے دائیں بائیں دفن ہوں گے کیونکہ ایسا نہیں ہے۔
حضرت ابوبکرؓکی قبر آنحضرتﷺکی بائیں طرف ہے اور حضرت عمر ؓ کی قبر حضرت ابوبکر کے بائیں طرف ہے۔
آنحضرت ﷺ کی ان مبارک نشانیوں کی بنا پر متعلقہ جملہ حضرات صحابہ کرامؓ کا جنتی ہونا یقینی امر ہے۔
پھر بھی امت میں ایک ایسا گروہ موجود ہے جو حضرات شیخین کرام کی توہین کرتا ہے، اس گروہ سے اسلام کو جو نقصان پہنچا ہے وہ تاریخ ماضی کے اوراق پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے، حضرت عثمان غنی ؓکی بابت آپ نے ان کی شہادت کی طرف اشارہ فرمایا جو خدا کے ہاں مقدر تھی اور وہ وقت آیا کہ خود اسلام کے فرزندوں نے حضرت عثمان ؓجیسے جلیل القدر خلیفہ راشد کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔
آخر ان کو شہید کرکے دم لیا۔
1390ھ کے حج کے موقع پر بقیع غرقد مدینہ میں جب حضرت عثمان کی قبر پر حاضر ہوا تو دیر تک ماضی کے تصورات میں کھویا ہوا آپ کی جلالت شان اور ملت کے بعض لوگوں کی غداری پر سوچتا رہا۔
اللہ پاک ان جملہ بزرگوں کو ہمارا سلام پہنچائے اور قیامت کے دن سب سے ملاقات نصیب کرے۔
آمین۔
مذکورہ اریس مدینہ کے ایک مشہور باغ کانام تھا۔
اس باغ کے کنویں میں آنحضرت ﷺکی انگوٹھی جو حضرت عثمان ؓ کی انگلی میں تھی۔
گرگئی تھی جو تلاش بسیار کے باوجود نہ مل سکی۔
آج کل یہ کنواں مسجد قبا کے پاس کھنڈر کی شکل میں خشک موجود ہے۔
اسی جگہ یہ باغ واقع تھا۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3674   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3674  
3674. حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓسے روایت ہے، انھوں نے اپنے گھر وضو کیا اور باہر نکلتے دل میں کہنے لگے کہ میں آج رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ضرور آپ کے ساتھ رہوں گا، چنانچہ وہ مسجد میں آئے اور نبی کریم ﷺ کے متعلق دریافت کیا تو لوگوں نے کہا: آپ باہر کہیں اس طرف تشریف لے گئے ہیں، لہذا میں آپ کے قدموں کے نشانات پر آپ کے متعلق پوچھتا ہوا روانہ ہوا اور چاہ اریس تک جاپہنچا اور دروازے پر بیٹھ گیا اور اس کا دروازہ کھجور کی شاخوں سے بنا ہوا تھا۔ جب آپ رفع حاجت سے فارغ ہوئے اور وضو کرچکے تو میں آپ کے پاس گیا۔ آپ چاہ اریس، یعنی اس کی منڈیر کے درمیان کنویں میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہوئے تھے اور ا پنی پنڈلیوں کو کھول کر کنویں میں لٹکا رکھا تھا۔ میں آپ کو سلام کرکے لوٹ آیا اور دروازے پر بیٹھ گیا۔ میں نے سوچا کہ آج نبی کریم ﷺ کا دربان بنوں گا۔ اتنے میں حضرت ابوبکر ؓ تشریف لائے اور انھوں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:3674]
حدیث حاشیہ:

اریس،مدینہ طیبہ ایک مشہور باغ ہے جو قباء کے قریب واقع ہے۔
اسی کنویں میں رسول اللہ ﷺ کی وہ انگوٹھی گری جسے حضرت عثمان ؓ نے پہن رکھا تھا۔

اس حدیث میں خلفائے ثلاثہ کی فضیلت کا واضح بیان ہے اور ان میں حضرت ابوبکر ؓ افضل ہیں کیونکہ ان کو جنت کی بشارت پہلے دی گئی جبکہ ان کی نشست بھی رسول اللہ ﷺکے دائیں جانب تھی۔
ایک روایت کے مطابق جب حضرت عثمان ؓ آئے تو آپ کچھ دیر خاموش رہے،پر انھیں اندر آنے کی اجازت اور مصیبت آنے پر جنت کی بشارت دی۔
(صحیح البخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیه وسلم، حدیث: 3695)
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بشارت سن کر اللہ کا شکر اد کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے:
اللہ المستعان۔
اس حدیث میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق واضح پیش گوئی ہے کہ وہ ایک سنگین فتنے کی زد میں آئیں گے۔
مسند احمد میں صراحت ہے کہ آپ کو ظلم کے طور پر شہید کیا جائے گا۔
(مسند أحمد: 115/2)
چنانچہ یہ پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی۔

حضرت سعید بن مسیب کی کمال دامائی تھی،حقیقت میں ایسا ہوا ہے۔
حضرت ابوبکرؓ تورسول اللہﷺکے پاس دفن ہوئے اور حضرت عثمان ؓ آپ کے سامے بقیع غرقد میں ہیں۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حضرت ابوبکرؓ آپ کے دائیں جانب اور حضرت عمر ؓآپ کے بائیں جانب ہوں گے کیونکہ ایسا امرواقعہ کے خلاف ہے،چنانچہ انھوں نے ایک دوسری روایت میں وضاحت کی ہے کہ اس سے مراد ہے کہ شیخین کی قبریں اکٹھی اور حضرت عثمان ؓ کی قبر الگ ہوگی۔
(صحیح البخاري، الفتن، حدیث: 7097)
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3674