Make PDF File
Note: Copy Text and paste to word file

بلوغ المرام
كتاب الطهارة
طہارت کے مسائل
1. باب المياه
پانی کی اقسام (مختلف ذرائع سے حاصل شدہ پانی کا بیان)
حدیث نمبر: 13
وعن أبي واقد الليثي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ما قطع من البهيمة،‏‏‏‏ وهي حية،‏‏‏‏ فهو ميت» .‏‏‏‏ أخرجه أبو داود والترمذي،‏‏‏‏ وحسنه واللفظ له.
سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زندہ جانور میں سے جو کچھ کاٹ لیا جائے وہ مردار ہے۔
اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور یہ الفاظ ترمذی کے ہیں اور ترمذی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔

تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصيد، باب إذا قطع من الصيد قطعة، حديث:2858، والترمذي، الصيد، حديث: 1480.»

حكم دارالسلام: حسن

بلوغ المرام کی حدیث نمبر 13 کے فوائد و مسائل
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 13  
لغوی تشریح:
«مَا قُطِعَ» یہاں «مَا» موصولہ ہے اور «قُطِعَ» فعل ماضی مجہول ہے، یعنی جو کچھ زندہ جانور کے جسم سے کاٹ لیا گیا۔
«الْبَهِيمَةِ» ہر چار پاؤں والا جانور، مگر چیر پھاڑ کرنے والا نہ ہو۔
«وَهِيَ حَيَّةٌ» اس میںواؤ حالیہ ہے، یعنی اس حال میں کہ اسے ذبح نہ کیا گیا ہو بلکہ زندہ ہو۔
«فَهُوَ» سے مراد وہ ٹکڑا ہے جو زندہ جانور سے کاٹ کر الگ کر لیا گیا ہو۔
«مَيِّتٌ» وہ مردہ کے حکم میں ہے، اس کا کھانا حرام ہے اور وہ نجس ہے۔ اور پانی وغیرہ کو نجس کر دینے والے باقی نجاسات کے حکم میں یہ بھی شامل ہے۔

فائدہ:
اہل جاہلیت زندہ جانوروں سے کچھ گوشت کاٹ کر کھایا کرتے تھے۔ اس حدیث میں ان کے اس فعل شنیع کا رد ہے اور یہ کہ ایسا کاٹا ہوا گوشت مردار اور پلید ہے، لہٰذا اس کا کھانا حرام ہے۔

راوئ حدیث:
SR سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ: ER ابوواقد کنیت ہے، اصل نام حارث بن عوف ہے۔ بنو عامر بن لیث کی طرف منسوب ہیں، اس لئے لیثی کہلائے۔ قدیم الاسلام ہیں۔ ان کا شمار اہل مدینہ میں ہوتا ہے۔ ایک قول کے مطابق یہ غزوہ بدر میں شریک تھے۔ مکہ کے پڑوس میں رہائش اختیار کرلی۔ 65 یا 68 ہجری میں وفات پائی۔ ان کی عمر 75 یا 85 برس تھی۔ فخ مقام میں مقبرہ مہاجرین میں دفن کیے گئے۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 13   

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2858  
´زندہ شکار (جانور) کے جسم سے کوئی حصہ کاٹ لیا جائے اس کے حکم کا بیان۔`
ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زندہ جانور کے بدن سے جو چیز کاٹی جائے وہ مردار ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2858]
فوائد ومسائل:
یعنی عرب کے متعلق آتا ہے۔
کہ وہ دنبے کی چکتی کاٹ لیتے۔
اور زخم پر دوا لگا دیتے۔
اس طرح جانور بھی زندہ رہتا اورگوشت بھی کھا لیتے۔
تو شریعت نے اس کو مردار فرمایا ہے۔
یعنی حرام ہے۔
اور کتاب الصید میں اس حدیث کا تعلق یوں ہے۔
کہ اگر شکاری کتے نے یا تیر اور گولی وغیرہ نے جانور کا کوئی حصہ علیحدہ کر دیا گیا ہو اگر اسی حالت میں جان نکل گئی ہو تو دونوں ٹکڑے حلال ہیں۔
لیکن اگر روح نہیں نکلی اور کوئی حصہ الگ ہوچکا ہو۔
اور پھر اسے ذبح کی جا رہا ہو تو ذبح سے پہلے علیحدہ ہوجانے والا حصہ کھانے میں احتیاط کرنی چاہیے۔
ورنہ نشانہ مارتے ہوئے بسم اللہ تو پڑھی جا چکی ہے۔
اسے بھی کھایا جا سکتا ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2858   

  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1480  
´زندہ جانور سے کاٹا ہوا گوشت مردار کے حکم میں ہے۔`
ابوواقد حارث بن عوف لیثی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، وہاں کے لوگ (زندہ) اونٹوں کے کوہان اور (زندہ) بکریوں کی پٹھ کاٹتے تھے، آپ نے فرمایا: زندہ جانور کا کاٹا ہوا گوشت مردار ہے ۱؎۔ اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 1480]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی ذبح کیے بغیر زندہ جانور کا وہ حصہ جو کاٹا گیا ہے اسی طرح حرام اور ناجائز ہے جس طرح دوسرے مردہ جانور حرام ہیں،
اس لیے اس کاٹے گئے حصہ کا کھانا جائز نہیں،
یہ طریقہ زمانہ جاہلیت کا تھا،
آپ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1480