مشكوة المصابيح
كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق -- كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق

ابلیس نے آدم علیہ السلام کا ڈھانچہ دیکھ کر اپنی کامیابی کا اندازہ لگا لیا
حدیث نمبر: 5702
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَمَّا صَوَّرَ اللَّهُ آدَمَ فِي الْجَنَّةِ تَرَكَهُ مَا شَاءَ أَنْ يَتْرُكَهُ فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يُطِيفُ بِهِ يَنْظُرُ مَا هُوَ فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ عَرَفَ أَنَّهُ خُلِقَ خَلْقًا لَا يتمالَكُ» . رَوَاهُ مُسلم
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ نے آدم ؑ کا خاکہ بنایا تو اللہ نے جس قدر چاہا کہ وہ انہیں جنت میں چھوڑ دے تو اس نے اسے اس قدر جنت میں چھوڑ دیا، ابلیس ان کے گرد چکر لگانے لگا تا کہ وہ دیکھے کہ وہ کیا چیز ہے؟ جب اس نے انہیں (اندر سے) خالی دیکھا تو اس نے پہچان لیا کہ یہ ایسی مخلوق کی تخلیق کی گئی ہے، جو (اپنے نفس کی خواہشات پر) قابو نہیں رکھ سکے گی۔ رواہ مسلم۔

تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (111/ 2611)»

قال الشيخ الألباني: صَحِيح