صحيح البخاري
كِتَاب الْأَذَانِ -- کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں
23. بَابُ لاَ يَسْعَى إِلَى الصَّلاَةِ مُسْتَعْجِلاً، وَلْيَقُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ:
باب: نماز کے لیے جلدی نہ اٹھے بلکہ اطمینان اور سکون و سہولت کے ساتھ اٹھے۔
حدیث نمبر: 638
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي وَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ"، تَابَعَهُ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ.
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے باپ ابوقتادہ حارث بن ربعی رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز کی تکبیر ہو تو جب تک مجھے دیکھ نہ لو کھڑے نہ ہو اور آہستگی کو لازم رکھو۔ شیبان کے ساتھ اس حدیث کو یحییٰ سے علی بن مبارک نے بھی روایت کیا ہے۔
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 638  
638. حضرت ابوقتادہ ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب نماز کی اقامت کہی جائے تو اس وقت تک نہ اٹھو جب تک مجھے نہ دیکھ لو۔ اور تم سکون و وقار اور آہستگی کو خود پر لازم رکھو۔ علی بن مبارک نے شیبان راوی کی متابعت کی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:638]
حدیث حاشیہ:
جسے خود امام بخاری ؒ نے کتاب الجمعة میں نکالا ہے۔
معلوم ہوا کہ شرکت جماعت کے لیے بھاگ دوڑ مناسب نہیں بلکہ سکون اوروقار کے ساتھ چل کر شریک جماعت ہونا چاہئیے۔
پھر جو نماز چھوٹ جائے وہ بعدمیں پڑھ لے۔
جماعت کا ثواب بہرحال حاصل ہوگا۔
إن شاءاللہ تعالیٰ۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 638   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:638  
638. حضرت ابوقتادہ ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب نماز کی اقامت کہی جائے تو اس وقت تک نہ اٹھو جب تک مجھے نہ دیکھ لو۔ اور تم سکون و وقار اور آہستگی کو خود پر لازم رکھو۔ علی بن مبارک نے شیبان راوی کی متابعت کی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:638]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس مقام پر آپ نے ایک مسئلے کی وضاحت فرمائی ہے کہ نماز باجماعت میں شرکت کرنے کے لیے بھاگ دوڑ مناسب نہیں بلکہ سکون ووقار کے ساتھ چل کر شریک جماعت ہونا چاہیے، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ جب نماز کے لیے اقامت ہوجائے تو اس کی طرف بھاگ کر نہیں آنا چاہیے۔
(حدیث: 908)
پھر یہ احادیث بظاہر اس آیت کریمہ کے خلاف معلوم ہوتی ہیں جس میں جمعے کےلیے دوڑکر آنے کا حکم ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّـهِ﴾ اے ایمان والو!جب جمعے کے دن نماز کےلیے اذان دی جائے تو ذکر الہٰی کی طرف دوڑ آؤ۔
(الجمعة: 62: 9)
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ آیت کریمہ میں دوڑنے سے مراد اس کام کے لیے شدت اہتمام سے آگے بڑھنا ہے اور حدیث میں جس دوڑنے سے منع کیا گیا ہے، اس سے مراد وہ دوڑ دھوپ ہے جو وقارو سکون اور آداب نماز کے منافی ہو۔
(2)
امام بخاری ؒ نے حدیث کے آخر میں علی بن مبارک کی متابعت کا حوالہ دیا ہے۔
مذکورہ حدیث میں حضرت یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کرنے والے حضرت شیبان ہیں، اس کے علاوہ علی بن مبارک بھی ان سے بیان کرتے ہیں، چنانچہ امام بخاری ؒ نے خود اس متابعت کو متصل سند سے بیان کیا ہے۔
(صحیح البخاري، الجمعة، حدیث: 909)
اس کے علاوہ معاویہ بن سلام نے بھی اس روایت کو اپنے شیخ یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا ہے جیسا کہ سنن ابی داود میں ہے۔
(فتح الباري: 159/2)
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 638