صحيح البخاري
كِتَاب الرِّقَاقِ -- کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں
46. بَابُ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ} :
باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد قیامت کی ہلچل ایک بڑی مصیبت ہو گی۔
أَزِفَتِ الْآزِفَةُ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ.
‏‏‏‏ اور سورۃ النجم اور سورۃ انبیاء میں فرمایا «اقتربت الساعة‏» قیامت قریب آ گئی۔
حدیث نمبر: 6530
حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ اللَّهُ:" يَا آدَمُ"، فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، قَالَ: يَقُولُ:" أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ"، قَالَ: وَمَا بَعْثُ النَّارِ؟ قَالَ:" مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ"، فَذَاكَ حِينَ يَشِيبُ الصَّغِيرُ، وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا، وَتَرَى النَّاسَ سَكْرَى وَمَا هُمْ بِسَكْرَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ؟ قَالَ: أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفًا وَمِنْكُمْ رَجُلٌ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، قَالَ: فَحَمِدْنَا اللَّهَ وَكَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، إِنَّ مَثَلَكُمْ فِي الْأُمَمِ كَمَثَلِ الشَّعَرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ، أَوِ الرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الْحِمَارِ".
مجھ سے یوسف بن موسیٰ قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے آدم! آدم علیہ السلام کہیں گے حاضر ہوں فرماں بردار ہوں اور ہر بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا جو لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے انہیں نکال لو۔ آدم علیہ السلام پوچھیں گے جہنم میں ڈالے جانے والے لوگ کتنے ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہی وہ وقت ہو گا جب بچے غم سے بوڑھے ہو جائیں گے اور حاملہ عورتیں اپنا حمل گرا دیں گی اور تم لوگوں کو نشہ کی حالت میں دیکھو گے، حالانکہ وہ واقعی نشہ کی حالت میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہو گا۔ صحابہ کو یہ بات بہت سخت معلوم ہوئی تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر ہم میں سے وہ (خوش نصیب) شخص کون ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں خوشخبری ہو، ایک ہزار یاجوج ماجوج کی قوم سے ہوں گے۔ اور تم میں سے وہ ایک جنتی ہو گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم لوگ اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہو گے۔ راوی نے بیان کیا کہ ہم نے اس پر اللہ کی حمد بیان کی اور اس کی تکبیر کہی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مجھے امید ہے کہ آدھا حصہ اہل جنت کا تم لوگ ہو گے۔ تمہاری مثال دوسری امتوں کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے کسی سیاہ بیل کے جسم پر سفید بالوں کی (معمولی تعداد) ہوتی ہے یا وہ سفید داغ جو گدھے کے آگے کے پاؤں پر ہوتا ہے۔
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 3348  
´صحابہ کرام کا مضبوط ایمان`
«...وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَكَبَّرْنَا، فَقَالَ: أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَكَبَّرْنَا، فَقَالَ: أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَكَبَّرْنَا...»
...اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم (امت مسلمہ) تمام جنت والوں کے ایک تہائی ہو گے۔ پھر ہم نے اللہ اکبر کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت والوں کے آدھے ہو گے... [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ: 3348]

تخریج الحدیث:
یہ حدیث صحیح بخاری میں تین مقامات پر موجود ہے:
[3348، 4741، 6530]
اسے امام بخاری کے علاوہ درج ذیل محدثین نے بھی روایت کیا ہے:
مسلم [الصحيح: 222]
النسائي فى الكبريٰ [11339 والتفسير: 359]
ابوعوانه [المسند 88/1-90]
عبد بن حميد [المنتخب: 917]
ابن جرير الطبري [التفسير 17؍87، تهذيب الآثار 2؍52]
البيهقي [شعب الايمان: 361]
ابن منده [الايمان: 881]
امام بخاری سے پہلے درج ذيل محدثين نے اسے روايت كيا ہے:
أحمد بن حنبل [المسند 3؍32]
وكيع [نسخة وكيع عن الاعمش ص85، 86 ح27]
سیدنا ابوسعید خدری رضى اللہ عنہ کے علاوہ اسے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضى اللہ عنہ نے بھی بیان کیا ہے، دیکھئے: صحیح بخاری [6528، 6642] و صحيح مسلم [221]
↰ لہٰذا یہ روایت بالکل صحیح اور قطعی الثبوت ہے۔
اس میں خیال مشکوک والی کوئی بات نہیں بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درجہ بدرجہ اپنے صحابہ کے ایمان کو مضبوط کرنے کے لئے پہلے ایک چوتھائی پھر ایک ثلث اور آخر میں نصف کا ذکر فرمایا۔ یہ عام لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ نصف میں ایک ثلث اور ایک چوتھائی دونوں شامل ہوتے ہیں، لہٰذا منکرین حدیث کا اس حدیث پر حملہ مردود ہے (کہ کیا وحی خیال مشکوک کا نام ہے)۔ منکرین حدیث کی خدمت میں عرض ہے کہ «سورة الصّٰفّٰت» کی آیت نمبر147 کی وہ کیا تشریح کرتے ہیں؟ دوسرے یہ کہ حدیث مذکور کس قرآنی آیت کے خلاف ہے؟
   ماہنامہ الحدیث حضرو ، شمارہ 24، حدیث/صفحہ نمبر: 26   
  حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 6530  
´ قیامت کی ہلچل ایک بڑی مصیبت ہو گی `
«. . . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ اللَّهُ: " يَا آدَمُ "، فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، قَالَ: يَقُولُ: " أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ "، قَالَ: وَمَا بَعْثُ النَّارِ؟ قَالَ: " مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ "، فَذَاكَ حِينَ يَشِيبُ الصَّغِيرُ، وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا، وَتَرَى النَّاسَ سَكْرَى وَمَا هُمْ بِسَكْرَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ . . .»
. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے آدم! آدم علیہ السلام کہیں گے حاضر ہوں فرماں بردار ہوں اور ہر بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا جو لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے انہیں نکال لو۔ آدم علیہ السلام پوچھیں گے جہنم میں ڈالے جانے والے لوگ کتنے ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہی وہ وقت ہو گا جب بچے غم سے بوڑھے ہو جائیں گے اور حاملہ عورتیں اپنا حمل گرا دیں گی اور تم لوگوں کو نشہ کی حالت میں دیکھو گے، حالانکہ وہ واقعی نشہ کی حالت میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہو گا . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/بَابُ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ : 6530]

تخريج الحديث:
[133۔ البخاري فى: 81 كتاب الرقاق: باب قوله عز وجل إن زلزلة الساعة شيئ عظيم 3348، مسلم 222]
لغوی توضیح:
«بَعْثَ النَّار» وہ لوگ جو جہنم میں بھیجے جائیں گے۔
«يَشِيْبُ الصَّغِيْرُ» بچے بوڑھے ہو جائیں گے، یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرف اشارہ ہے «فَكَيْفَ تَتَّقُوْنَ إِنْ كَفَرْتُمْ يَوْمًا يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيْبًا» [المزمل: 17] اگر تم کافر رہے تو اس دن کیسے پناہ پاؤ گے جو دن بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ بعد کے الفاظ میں جس آیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ یہ ہے «فَكَيْفَ تَتَّقُوْنَ إِنْ كَفَرْتُمْ يَوْمًا يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيْبًا» [المزمل: 17] جس دن تم اسے دیکھ لوگے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور تمام حمل والیوں کے حمل گر جائیں گے اور تو دیکھے گا کہ لوگ نشہ کی حالت میں ہیں، حالانکہ وہ نشہ میں نہیں بلکہ اللہ کا عذاب ہی بڑا سخت ہے۔
«الرَّقْمَة» داغ، علامت یا گول نشان۔
فھم الحدیث: اس حدیث میں امت محمدیہ کی عظیم فضیلت کا بیان ہے کہ آدھے جنتی اسی امت سے ہوں گے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ بلاشبہ وہ لوگ باعمل ہوں گے، نافرمان و بدکردار نہیں، اس لیے عمل میں کوتاہی ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔
   جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 133   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6530  
6530. حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالٰی فرمائے گا: اے آدم ؑ عرض کریں گے: میں سعادت مندی کے ساتھ حاضر ہوں، ہر بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے اللہ تعالٰی فرمائے گا۔ آگ کا لشکر الگ کر دو۔ حضرت آدم ؑ عرض کریں گے: جہنم کا لشکر کس قدر ہے؟ اللہ تعالٰی فرمائے گا: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہی وہ وقت ہوگا جب بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حمل والی عورت اپنا حمل گرا دے گی اور تم لوگوں کو نشے کی حالت میں دیکھو گے، حالانکہ وہ نشے کی حالت میں نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہوگا۔ صحابہ کرام کو یہ بات بہت سخت معلوم ہوئی تو انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! تمہیں بشارت ہو ایک ہزار یاجوج ماجوج سے ہوں گے اور تم میں سے وہ ایک جنتی ہوگا۔ پھر آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مجھے امید ہے کہ تم لوگ اہل جنت کا ایک تہائی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:6530]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس سے پہلی حدیث میں اہل جنت کی نسبت اہل جہنم کے مقابلے میں ایک فیصد تھی جبکہ اس حدیث میں ایک ہزار میں سے ایک بیان ہوئی ہے، اس تعارض کے محدثین نے کئی ایک جواب دیے ہیں:
٭ ایک عدد دوسرے عدد کے منافی نہیں بلکہ مقصد اہل ایمان کی قلت اور اہل کفر کی کثرت بیان کرنا ہے۔
٭ تمام اولاد آدم کی نسبت ہزار میں سے ایک اور یاجوج ماجوج کے علاوہ نسبت سو میں سے ایک ہو گی۔
٭ تمام مخلوق کے اعتبار سے ہزار میں سے ایک اور اس امت کے لحاظ سے سو میں سے ایک ہو گا۔
٭ کفار کے اعتبار سے بہ نسبت ہزار میں سے ایک اور گناہ گاروں کے لحاظ سے ایک فی صد ہو گی۔
(فتح الباري: 474/11) (2)
بہرحال قیامت کے اس ہولناک منظر کو دیکھ کر بچے، بوڑھے ہو جائیں گے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اب اگر تم نے انکار کر دیا تو اس دن کی سختی سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا بنا دے گی جس کی سختی سے آسمان پھٹ جائے گا اور اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔
(المزمل: 73//17، 18)
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6530