صحيح البخاري
كتاب المحاربين -- کتاب: ان کفار و مرتدوں کے احکام میں جو مسلمانوں سے لڑتے ہیں
30. بَابُ الاِعْتِرَافِ بِالزِّنَا:
باب: زنا کا اقرار کرنا۔
حدیث نمبر: 6829
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ عُمَرُ" لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَطُولَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ، حَتَّى يَقُولَ قَائِلٌ: لَا نَجِدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ، أَلَا وَإِنَّ الرَّجْمَ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى، وَقَدْ أَحْصَنَ إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ، أَوْ كَانَ الْحَبَلُ، أَوِ الِاعْتِرَافُ"، قَالَ سُفْيَانُ: كَذَا حَفِظْتُ:" أَلَا وَقَدْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں ڈرتا ہوں کہ کہیں زیادہ وقت گزر جائے اور کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ کتاب اللہ میں تو رجم کا حکم ہمیں کہیں نہیں ملتا اور اس طرح وہ اللہ کے ایک فریضہ کو چھوڑ کر گمراہ ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے۔ آگاہ ہو جاؤ کہ رجم کا حکم اس شخص کے لیے فرض ہے جس نے شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کیا ہو بشرطیکہ صحیح شرعی گواہیوں سے ثابت ہو جائے یا حمل ہو یا کوئی خود اقرار کرے۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے اسی طرح یاد کیا تھا آگاہ ہو جاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا تھا اور آپ کے بعد ہم نے رجم کیا تھا۔
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6829  
6829. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا: مجھے اندیشہ ہے کہ وقت گزرنے کا ساتھ ساتھ مبادا کوئی شخص کہہ دے کہ کتاب اللہ میں تو ہمیں نہیں ملتا۔ اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ فریضے کو ترک کرنے کے باعث گمراہ ہو جائے گا۔ آگاہ رہو! رجم کا قانون ہر اس شخص پر لاگو ہے جو زنا کرے اور شادی شدہ ہو بشرطیکہ گواہی سےثابت ہو جائے یا حمل ظاہر ہو یا وہ خواہ اقرار کرے۔ سفیان نے کہا: مجھے اس طرح یاد ہے کہ آگاہ رہو! رسول اللہ ﷺ نے رجم کیا اور آپ کے بعد ہم نے رجم کیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6829]
حدیث حاشیہ:
آیت رجم کی تلاوت منسوخ ہو گئی مگر اس کا حکم قیامت تک کے لیے باقی اور واجب العمل ہے، کوئی اس کا انکار کرے تو وہ گمراہ قرار پائے گا۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6829   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6829  
6829. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا: مجھے اندیشہ ہے کہ وقت گزرنے کا ساتھ ساتھ مبادا کوئی شخص کہہ دے کہ کتاب اللہ میں تو ہمیں نہیں ملتا۔ اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ فریضے کو ترک کرنے کے باعث گمراہ ہو جائے گا۔ آگاہ رہو! رجم کا قانون ہر اس شخص پر لاگو ہے جو زنا کرے اور شادی شدہ ہو بشرطیکہ گواہی سےثابت ہو جائے یا حمل ظاہر ہو یا وہ خواہ اقرار کرے۔ سفیان نے کہا: مجھے اس طرح یاد ہے کہ آگاہ رہو! رسول اللہ ﷺ نے رجم کیا اور آپ کے بعد ہم نے رجم کیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6829]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث کے مطابق حد زنا کے لیے تین چیزوں میں سے کسی ایک کا ہونا ضروری ہے:
٭وہ زنا گواہی سے ثابت ہو جائے، یعنی چار گواہ اس چیز کی وضاحت کے ساتھ گواہی دیں کہ ہم نے عمل زنا کرتے دیکھا ہے۔
ظاہر ہے کہ موقع پر ایسی چار شہادتیں میسر آنا انتہائی مشکل ہے۔
(2)
دراصل اس سخت نصاب سے مقصود یہ ہے کہ اگر کوئی شخص برائی دیکھے تو اس کے سامنے دوراستے ہیں:
یا تو پردہ پوشی کرے یا پھر چار شہادتیں مہیا کرکے صرف حکومت کو مطلع کرے، تیسری راہ اختیار کرنا کہ ایسی باتیں لوگوں میں پھیلانا انتہائی خطرناک ہے۔
٭حمل ظاہر ہو جائے، کنواری لڑکی کو حمل ہو جائے یا دیر تک قید رہنے والے شوہر کی بیوی حاملہ ہو جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک غامدیہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کی:
اللہ کے رسول مجھ پر حد جاری کریں کیونکہ میں زنا سے حاملہ ہوں۔
(صحیح مسلم، الحدود، حدیث: 4431(1695)
اس صورت میں حد زنا کے نفاذ کے لیے بچے کا جنم دینا ضروری ہے۔
٭زنا کا اقرارواعتراف کرنا، جب زانی مرد یا عورت زنا کا خود اقرار کرے تو اس پر حد جاری کی جا سکتی ہے جیسا کہ قصۂ عسیف میں بیان ہوا ہے۔
اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اُنیس رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا کہ اگر وہ عورت زنا کا اقرار کرے تو اسے رجم کر دینا، چنانچہ اس نے اقرار کیا تو اسے سنگسار کر دیا گیا۔
(صحیح البخاري، الحدودِ حدیث: 6827)
امام بخاری رحمہ اللہ نے ان احادیث سے ثابت کیا ہے کہ زنا کے ثبوت کے لیے زانی مرد یا عورت کا اقرارواعتراف بھی کافی ہے۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6829