صحيح مسلم
كِتَاب الْإِيمَانِ -- ایمان کے احکام و مسائل
82. باب إِثْبَاتِ الشَّفَاعَةِ وَإِخْرَاجِ الْمُوَحِّدِينَ مِنَ النَّارِ:
باب: شفاعت کا ثبوت اور موحدوں کا جہنم سے نکالا جانا۔
حدیث نمبر: 459
وحَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا، فَإِنَّهُمْ لَا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلَا يَحْيَوْنَ، وَلَكِنْ نَاسٌ أَصَابَتْهُمُ النَّارُ بِذُنُوبِهِمْ، أَوَ قَالَ: " بِخَطَايَاهُمْ فَأَمَاتَهُمْ إِمَاتَةً، حَتَّى إِذَا كَانُوا فَحْمًا، أُذِنَ بِالشَّفَاعَةِ، فَجِيءَ بِهِمْ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ فَبُثُّوا عَلَى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ قِيلَ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، أَفِيضُوا عَلَيْهِمْ، فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ تَكُونُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ "، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ كَانَ بِالْبَادِيَةِ.
بشر بن مفضل نے ابو مسلمہ سے حدیث سنائی، انہوں نے ابو نضرہ سے، انہوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں تک دوزخ والوں کی بات ہے تووہ لوگ جو (ہمیشہ کے لیے) اس کے باشندے ہیں نہ تو اس میں مریں گے اور نہ جئیں گے۔ لیکن تم (اہل ایمان) میں سے جن لوگوں کو گناہوں کی پاداش میں (یا آپ نے فرمایا: خطاؤں کی بنا پر) آگ کی مصیبت لاحق ہو گی تو اللہ تعالیٰ ان پر ایک طرح کی موت طاری کر دے گا یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ ہو جائیں گے تو سفارش کی اجازت دے دی جائے گی، پھر انہیں گروہ در گروہ لایا جائے گا اور انہیں جنت کی نہروں پر پھیلادیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے اہل جنت! ان پر پانی ڈالو تو اس میں بیج کی طرح اگ آئیں گے جو سیلاب کے خس و خاشاک میں ہوتا ہے۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: ایسا لگتا ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحرائی آبادی میں رہے ہیں۔
حضرت ابو سعید ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہے دوزخی جو اس کے رہائشی ہیں، وہ نہ اس میں مریں گے اور نہ زندہ ہوں گے، لیکن وہ (اہلِ ایمان) لوگ، جو گناہوں کی پاداش میں یا آپ نے فرمایا: قصوروں کی بنا پر آگ میں جائیں گے، تو اللہ تعالیٰ ان پر ایک قسم کی موت طاری کر دے گا، یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ بن جائیں گے، سفارش کے تحت اجازت دی جائے گی، تو انھیں گروہ در گروہ لایا جائے گا اور انھیں جنت کی نہروں میں پھیلا دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے جنتیو! ان پر پانی ڈالو، تو وہ اس قدرتی بیج کی طرح نشوونما پائیں گے، جو سیلاب کے بہاؤ کے ساتھ آنے والی مٹی میں ہوتا ہے۔ تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: معلوم ہوتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگل میں رہے ہیں۔

تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابن ماجه في ((سننه)) في الزهد، باب: ذكر الشفاعة برقم (4309) انظر ((التحفة)) برقم (4346)»
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4280  
´حشر کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پل صراط جہنم کے دونوں کناروں پر رکھا جائے گا، اس پر سعدان کے کانٹوں کی طرح کانٹے ہوں گے، پھر لوگ اس پر سے گزرنا شروع کریں گے، تو بعض لوگ صحیح سلامت گزر جائیں گے، بعض کے کچھ اعضاء کٹ کر جہنم میں گر پڑیں گے، پھر نجات پائیں گے، بعض اسی پر اٹکے رہیں گے، اور بعض اوندھے منہ جہنم میں گریں گے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4280]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
پل صراط سے خیریت کے ساتھ اور جلدی گزرنے کا دارومدار ایمان اور عمل صالح پر ہوگا۔
جس قدر ایمان زیادہ ہوگا اتنا ہی تیزی سے گزریں گے اور جس قدر گناہ زیادہ ہوں گے اتنا پل صراط پر لگے ہوئے کانٹے زیادہ زخمی کریں گے۔
اور جن کے بارے میں انھیں حکم ہوگا۔
وہ کانٹے انھیں جہنم میں گھسیٹ لیں گے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4280   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 459  
1
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
(1)
ذُنُوْبٌ:
ذَنْبٌ کی جمع ہے،
گناہ،
جرم۔
(2)
خَطَايَا:
خَطِيْئَةٌ کی جمع ہے،
لغزش،
غلطی۔
(3)
ضَبَائِرَ:
ضِبَارَةٌ کی جمع ہے،
گروہ،
ٹولی۔
(4)
بُثُّوا:
بَثٌّ سے ہے،
بکھیر دئیے جائیں،
پھیلا دئیے جائیں۔
فوائد ومسائل:
جولوگ کفروشرک کی بنا پرہمیشہ ہمیشہ کےلیے دوزخی ہیں،
وہ نہ مریں گے،
یعنی:
کسی طرح انہیں عذاب سےچھٹکارانصیب نہیں ہوگا،
نہ زندہ ہوں گے،
یعنی:
کبھی انہیں زندگی کی راحت وآسائش حاصل نہ ہوگی۔
لیکن جولوگ ایمان دارہیں،
گناہوں اورغلطیوں کی پاداش میں دوزخ میں ڈالےجائیں گے،
اپنے گناہوں کے بقدر عذاب میں مبتلا ہوکرجل بھن کرکوئلہ بن جائیں گے،
پھران کودوزخ سےنکال کی آب حیات میں ڈال کر زندگی عنایت کی جائیں گی،
اوروہ فوری طورپرنشوونماپاکرجنت میں داخل ہوں گے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 459