مسند الحميدي
أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ -- سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول روایات

حدیث نمبر 774
حدیث نمبر: 774
774 - قَالَ سُفْيَانُ: وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْوُسْطَي مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَتْ صَبِيحَةُ عِشْرِينَ نَقَلْنَا مَتَاعَنَا، فَأَبْصَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُعْتَكِفًا فَلْيَرْجِعْ إِلَي مُعْتَكَفِهِ، فَإِنِّي أُرِيتُهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، وَرَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي صَبِيحَتِهَا فِي مَاءٍ وَطِينٍ» ، فَهَاجَتِ السَّمَاءُ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ، فَأَمْطَرَتْ وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَرِيشًا، فَوُكِفَ فِي مُصَلَّي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَإِنَّ عَلَي جَبْهَتِهِ وَأَرْنَبَتِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ
774- سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے بھی اعتکاف کیا۔ جب بیسویں رات کی صبح ہوئی ہم نے اپنا ساز و سامان منتقل کرنا شروع کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ملاحظہ فرمایا، تو ارشاد فرمایا: تم میں سے جو شخص اعتکاف کرنا چاہتا ہو وہ اپنے اعتکاف کی جگہ پر واپس چلا جائے۔ کیونکہ مجھے یہ رات (یعنی شب قدر) آخری عشرے میں دکھائی گئی ہے۔ میں نے خود کودیکھا ہے، میں اس رات کی صبح پانی اور مٹی (یعنی کیچڑ) میں سجدہ کر رہا ہوں۔
(راوی کہتے ہیں) اسی دن بارش ہوگئی۔ مسجد کی چھت (کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی تھی) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی جگہ پر پانی اکٹھا ہوگیا۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک پیشانی اور ناک پر پانی اور مٹی (یعنی کیچڑ) کا نشان تھا۔


تخریج الحدیث: «إسناده حسن ولكن الحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 669، 813، 836، 2016، 2018، 2027، 2036، 2040، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1167، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3661، 3673، 3674، 3677، 3684، 3685، 3687، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1038، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1094، 1355، وأبو داود فى «سننه» برقم: 894، 911، 1382، 1383، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1766، 1775، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2696، 3607، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 11191 برقم: 11235»
  الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:774  
774- سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے بھی اعتکاف کیا۔ جب بیسویں رات کی صبح ہوئی ہم نے اپنا ساز و سامان منتقل کرنا شروع کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ملاحظہ فرمایا، تو ارشاد فرمایا: تم میں سے جو شخص اعتکاف کرنا چاہتا ہو وہ اپنے اعتکاف کی جگہ پر واپس چلا جائے۔ کیونکہ مجھے یہ رات (یعنی شب قدر) آخری عشرے میں دکھائی گئی ہے۔ میں نے خود کودیکھا ہے، میں اس رات کی صبح پانی اور مٹی (یعنی کیچڑ) میں سجدہ کر رہا ہوں۔ (راوی کہتے ہیں) اسی دن بارش ہوگئی۔ مسج۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:774]
فائدہ:
صحیح مسلم (2796 / 1167) میں یہ حدیث تفصیل کے ساتھ ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میں نے اس رات کی تلاش میں پہلے عشرے کا اعتکاف کیا، پھر درمیانی رات کا اعتکاف کیا، پھر جب بھی اعتکاف کے لیے آیا تو مجھ سے کہا گیا کہ وہ رات تو آخری عشرے میں ہے، لہٰذا تم میں سے جو شخص اعتکاف کرنا چاہے وہ (آخری عشرے میں) اعتکاف کرے۔
اس کے بعد لوگوں نے آپ کے ساتھ اعتکاف کیا۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مسنون اعتکاف رمضان کے آخری عشرے میں ہے۔ نیز معلوم ہوا کہ بارش کا پانی پاک ہے اور کیچڑ میں بامر مجبوری نماز پڑھنا درست ہے۔
   مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 774