صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
روزوں کے احکام و مسائل
2. باب وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلاَلِ وَالْفِطْرِ لِرُؤْيَةِ الْهِلاَلِ وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلاَثِينَ يَوْمًا:
2. باب: اس بیان میں کہ روزہ اور افطار چاند دیکھ کر کریں اور اگر بدلی ہو تو تیس تاریخ پوری کریں۔
حدیث نمبر: 2503
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثني حميد بن مسعدة الباهلي ، حدثنا بشر بن المفضل ، حدثنا سلمة وهو ابن علقمة ، عن نافع ، عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الشهر تسع وعشرون، فإذا رايتم الهلال فصوموا، وإذا رايتموه فافطروا، فإن غم عليكم فاقدروا له ".وحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ ".
‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
11474 - D 2503 - U
ترقیم فوادعبدالباقی: 1080
   صحيح البخاري1900عبد الله بن عمرإذا رأيتموه فصوموا إذا رأيتموه فأفطروا إن غم عليكم فاقدروا له
   صحيح البخاري1907عبد الله بن عمرالشهر تسع وعشرون ليلة فلا تصوموا حتى تروه إن غم عليكم فأكملوا العدة ثلاثين
   صحيح البخاري1906عبد الله بن عمرلا تصوموا حتى تروا الهلال لا تفطروا حتى تروه إن غم عليكم فاقدروا له
   صحيح مسلم2505عبد الله بن عمرالشهر تسع وعشرون ليلة لا تصوموا حتى تروه لا تفطروا حتى تروه أن يغم عليكم فإن غم عليكم فاقدروا له
   صحيح مسلم2502عبد الله بن عمرالشهر تسع وعشرون لا تصوموا حتى تروه لا تفطروا حتى تروه إن غم عليكم فاقدروا له
   صحيح مسلم2503عبد الله بن عمرالشهر تسع وعشرون إذا رأيتم الهلال فصوموا إذا رأيتموه فأفطروا إن غم عليكم فاقدروا له
   صحيح مسلم2499عبد الله بن عمرالشهر هكذا وهكذا وهكذا ثم عقد إبهامه في الثالثة صوموا لرؤيته أفطروا لرؤيته إن أغمي عليكم فاقدروا له ثلاثين
   صحيح مسلم2498عبد الله بن عمرلا تصوموا حتى تروا الهلال لا تفطروا حتى تروه إن أغمي عليكم فاقدروا له
   صحيح مسلم2504عبد الله بن عمرإذا رأيتموه فصوموا إذا رأيتموه فأفطروا إن غم عليكم فاقدروا له
   سنن أبي داود2342عبد الله بن عمرصامه وأمر الناس بصيامه
   سنن أبي داود2320عبد الله بن عمرالشهر تسع وعشرون لا تصوموا حتى تروه لا تفطروا حتى تروه إن غم عليكم فاقدروا له ثلاثين
   سنن النسائى الصغرى2123عبد الله بن عمرلا تصوموا حتى تروا الهلال لا تفطروا حتى تروه إن غم عليكم فاقدروا له
   سنن النسائى الصغرى2124عبد الله بن عمرلا تصوموا حتى تروه لا تفطروا حتى تروه إن غم عليكم فاقدروا له
   سنن النسائى الصغرى2122عبد الله بن عمرإذا رأيتم الهلال فصوموا إذا رأيتموه فأفطروا إن غم عليكم فاقدروا له
   سنن ابن ماجه1654عبد الله بن عمرإذا رأيتم الهلال فصوموا إذا رأيتموه فأفطروا إن غم عليكم فاقدروا له
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم242عبد الله بن عمرلا تصوموا حتى تروا الهلال، ولا تفطروا حتى تروه، فإن غم عليكم فاقدروا له
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم243عبد الله بن عمرالشهر تسع وعشرون، فلا تصوموا حتى تروا الهلال، ولا تفطروا حتى تروه، فإن غم عليكم فاقدروا له
   بلوغ المرام529عبد الله بن عمر‏‏‏‏إذا رايتموه فصوموا وإذا رايتموه فافطروا،‏‏‏‏ فإن غم عليكم فاقدروا له
   بلوغ المرام530عبد الله بن عمرتراءى الناس الهلال،‏‏‏‏ فاخبرت النبي صلى الله عليه وآله وسلم اني رايته،‏‏‏‏ فصام،‏‏‏‏ وامر الناس بصيامه

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 242  
´چاند دیکھ کر روزہ رکھنا اور افطار کرنا چاہیے`
«. . . 208- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر رمضان، فقال: لا تصوموا حتى تروا الهلال، ولا تفطروا حتى تروه، فإن غم عليكم فاقدروا له. . . .»
. . . سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا: جب تک تم (رمضان کا) چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو اور جب تک تم (عید کا) چاند نہ دیکھ لو روزہ افطار (یعنی عید) نہ کرو اور اگر موسم ابر آلود ہو تو (تیس کی) گنتی پوری کرو . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 242]

تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 1906، ومسلم 1080، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ ہر علاقے کے لوگ اپنا اپنا چاند دیکھیں گے۔ دُور کے علاقوں کی رویت کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
◈ کریب مولیٰ ابن عباس نے جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بتایا کہ (سیدنا) معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے ایک دن پہلے جمعہ کو چاند دیکھا تھا تو ابن عباس نے اس کا کوئی اعتبار نہیں کیا اور فرمایا: ہم نے تو ہفتہ کو چاند دیکھا تھا اور ہم اس کے مطابق روزے رکھتے رہیں گے حتیٰ کہ ہم چاند دیکھ لیں یا تیس دن پورے ہو جائیں۔ انہوں نے فرمایا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی طرح حکم دیا تھا۔ [ديكهئے صحيح مسلم: 1087، ترقيم دارالسلام: 2528]
◈ یہ مرفوع حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ہر شہر اور اس کے قریبی علاقوں کے لوگ اپنا اپنا چاند دیکھیں گے اور یہ ضروری نہیں کہ ساری دنیا میں ایک ہی دن روزہ یا ایک ہی دن عید ہو۔
➋ حافظ ابن عبدالبر الاندلسی نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ خراسان کی رویت کا اندلس میں اور اندلس کی رویت کا خراسان میں کوئی اعتبار نہیں ہے۔ دیکھئے [الاستذكار 3/283 ح592]
➌ اگر آسمان پر انتیس تاریخ کو بادل چھائے ہوں تو پھر اس مہینے کے تیس دن پورے کر لینے چاہئیں
➍ اعتبار رویت کا ہے حساب کا نہیں۔
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 208   
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 243  
´چاند دیکھ کر روزہ رکھنا اور افطار کرنا چاہیے`
«. . . 282- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: الشهر تسع وعشرون، فلا تصوموا حتى تروا الهلال، ولا تفطروا حتى تروه، فإن غم عليكم فاقدروا له . . . .»
. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ انتیس (29) دنوں کا ہوتا ہے لہٰذا جب تک چاند نہ دیکھو روزہ نہ رکھو اور جب تک چاند نہ دیکھ لو افطار (عید) نہ کرو۔ پھر اگر تم پر موسم ابر آلود ہو تو (تیس دن) پورے کر لو . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 243]

تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 1907، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ ہر علاقے کے لوگوں کو اپنا اپنا چاند دیکھ کر رمضان کے روزے رکھنا اور عید کرنی چاہئے۔
➋ مزید فقہی فوائد وفقہ الحدیث کے لئے دیکھئے: ح 208
➌ یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ ساری دنیا کے لوگ ایک ہی دن روزہ رکھیں اور ایک ہی دن عید کریں۔ جغرافیائی لحاظ سے یہ ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ مکہ و مدینہ میں جب دن ہوتا ہے تو امریکہ کے بعض علاقوں میں اس وقت رات ہوتی ہے۔
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 282   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1654  
´چاند دیکھ کر روزہ رکھنے اور چاند دیکھ کر روزہ توڑنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر ہی روزہ توڑا کرو، اور اگر چاند بادل کی وجہ سے مشتبہ ہو جائے تو تیس دن کی تعداد پوری کرو ۱؎۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما چاند نکلنے کے ایک روز پہلے سے ہی روزہ رکھنا شروع کر دیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1654]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
چاند نظر آنے پرقمری مہینہ شروع ہوجاتا ہے۔
رات اپنے بعد والے دن کے ساتھ گنی جاتی ہے۔

(2)
چاند دیکھ کر روزہ رکھنے کا مطلب رات ہی کو روزہ رکھنا نہیں کیونکہ روزے کا وقت صبح صادق سے شروع ہوتا ہے۔

(3)
چاند دیکھ کر روزہ چھوڑنے کامطلب یہ ہے کہ شوال کا چاند نظر آجائے تو وہ رات شوال کی پہلی رات ہوگی۔
رمضان کے احکام ختم ہوجایئں گے۔
اگر سورج غروب ہونے سے پہلے چاند نظر آ جائے۔
جیسے بعض اوقات تیس کا مہینہ ہونے کی صورت میں ہوجاتا ہے۔
تو سورج غروب ہونے سے پہلے روزہ افطار نہ کیا جائے۔
کیونکہ روزہ غروب آفتاب پر ختم ہوتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
﴿ ثُمَّ أَتِمُّوا۟ ٱلصِّيَامَ إِلَى ٱلَّيْلِ ۚ﴾ (البقرۃ: 187/2)
پھر رات تک روزہ پورا کرو
(4)
بادل ہونے کی صورت میں اندازہ کرنے کا مطلب تیس روزے پورا کرنا ہے۔
کیونکہ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں۔ (فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاَثِيْن)
اگر بادل ہوجایئں تو تیس کی گنتی پوری کرلو (صحیح البخاري، الصوم، باب قول النبي إذا رایتم الھلال فصوموا واذا رایتموہ فافطروا حدیث 1907)

(5)
تیسواں روزہ رکھنے کو اندازہ اسی لئے کہا گیا ہے۔
کہ مذکورہ صورت میں چاند نہ ہونا یقینی نہیں لیکن چاند ہونے کا یقین نہ ہونے کی وجہ سے رمضان کے باقی رہنے کا حکم لگایا گیا ہے۔
اگر یقینی خبر سے چاند ہونا ثابت ہوجائے تو روزہ چھوڑ دیا جائے گا۔

(6)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رمضان سے پہلےایک روزہ رکھا۔
ممکن ہے وہ ان کی عادت کے مطابق روزہ ہو جو اتفاقاً اسی روز واقع ہوگیا ہو۔
دیکھئے: (حدیث: 1650، فائدہ: 3)
 یا ممکن ہے انھوں نے نہی کو فضیلت کے معنی میں لیا ہو۔
واللہ أعلم۔
 بہرحال صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول وعمل پر رسول اللہ ﷺ کے ارشاد مبارک کو ترجیح دیتے ہوئے یہ روزہ نہ رکھنا ہی بہتر ہے۔
نیز شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس فعل کی بابت لکھتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ عمل صرف ابن ماجہ میں ہے۔
اور یہ اضافہ منکر ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے: (إرواء الغلیل: 10/4، رقم: 903)
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 1654   
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 529  
´(روزے کے متعلق احادیث)`
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور (عید کے لیے) چاند دیکھ لو تو افطار کر دو۔ اگر مطلع ابر آلود ہو تو اس کے لیے اندازہ لگا لو۔ (متفق علیہ) مسلم کے الفاظ ہیں اگر مطلع ابر آلود ہو تو پھر اس کے لیے تیس دن کی گنتی کا اندازہ رکھو۔ اور بخاری کے الفاظ ہیں پھر تیس روز کی گنتی اور تعداد پوری کرو۔ اور بخاری میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے پھر تم شعبان کے تیس دن پورے کرو۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 529]
لغوی تشریح 529:
أِذَارَأَیتُمُوہُ جب تم دیکھ لو۔ اس سے مراد چاند ہے، یعنی جب چاند تمہیں نظر آ جائے۔
فَأِن غُمَّ غُمَّ میں غین پر ضمہ اور میم پر تشدید ہے۔ صیغۂ مجہول ہے۔ مطلب یہ ھیکہ جب چاند نظر نہ آئے مخفی اور پوشیدہ رہ جائے، ابر آلودگی کی وجہ سے یا کسی ایسی ہی دوسری وجہ سے نہ دیکھا جا سکے۔
فَاقدُرُو لَہُ قدر سے امر کا صیغہ ہے۔
فَاقدُرُو لَہُ میں دال پر ضمہ اور کسرہ دونوں جائز ہیں۔ معنی یہ ہوئے کہ تیسواں روزہ بھی رکھ کر مکمل مہینے کی گنتی اور تعداد پوری کر لو۔

   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 529   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2320  
´مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا (بھی) ہوتا ہے لہٰذا چاند دیکھے بغیر نہ روزہ رکھو، اور نہ ہی دیکھے بغیر روزے چھوڑو، اگر آسمان پر بادل ہوں تو تیس دن پورے کرو۔‏‏‏‏ راوی کا بیان ہے کہ جب شعبان کی انتیس تاریخ ہوتی تو ابن عمر رضی اللہ عنہما چاند دیکھتے اگر نظر آ جاتا تو ٹھیک اور اگر نظر نہ آتا اور بادل اور کوئی سیاہ ٹکڑا اس کے دیکھنے کی جگہ میں حائل نہ ہوتا تو دوسرے دن روزہ نہ رکھتے اور اگر بادل یا کوئی سیاہ ٹکڑا دیکھنے کی جگہ میں حائل ہو جاتا تو صائم ہو کر صبح کرتے۔ راوی کا یہ بھی بیان ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2320]
فوائد ومسائل:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بادل اور غبار وغیرہ جیسی رکاوٹ کے باعث چاند نظر نہ آنے پر روزہ رکھ لیا کرتے تھے ممکن ہے کہ اگلا دن رمضان کا ہو۔
اور وہ اس کو شک کا دن نہ سمجھتے تھے۔
وہ شدت احتیاط کے تحت ایسا کرتے اور اس میں وہ منفرد بھی ہیں، اس لیے راجح یہی ہے کہ ابر یا غبار کے باعث چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کئے جائیں گے۔
اس دن کا روزہ شک کا روزہ ہو گا جو کہ ممنوع ہے۔
علامہ البانی رحمة اللہ علیہ نے حضرت ابن عمر کا یہ عمل ضعیف لکھا ہے۔

   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 2320