الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
روزوں کے احکام و مسائل
11. باب النَّهْيِ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ:
11. باب: صوم و صال کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 2570
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثني زهير بن حرب ، حدثنا ابو النضر هاشم بن القاسم ، حدثنا سليمان ، عن ثابت ، عن انس رضي الله عنه، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي في رمضان فجئت، فقمت إلى جنبه، وجاء رجل آخر فقام ايضا، حتى كنا رهطا، فلما حس النبي صلى الله عليه وسلم انا خلفه، جعل يتجوز في الصلاة، ثم دخل رحله فصلى صلاة لا يصليها عندنا، قال: قلنا له حين اصبحنا: افطنت لنا الليلة؟، قال: فقال: " نعم ذاك الذي حملني على الذي صنعت "، قال: فاخذ يواصل رسول الله صلى الله عليه وسلم، وذاك في آخر الشهر، فاخذ رجال من اصحابه يواصلون، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " ما بال رجال يواصلون، إنكم لستم مثلي، اما والله لو تماد لي الشهر، لواصلت وصالا يدع المتعمقون تعمقهم ".حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ فَجِئْتُ، فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، وَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَامَ أَيْضًا، حَتَّى كُنَّا رَهْطًا، فَلَمَّا حَسَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّا خَلْفَهُ، جَعَلَ يَتَجَوَّزُ فِي الصَّلَاةِ، ثُمَّ دَخَلَ رَحْلَهُ فَصَلَّى صَلَاةً لَا يُصَلِّيهَا عِنْدَنَا، قَالَ: قُلْنَا لَهُ حِينَ أَصْبَحْنَا: أَفَطَنْتَ لَنَا اللَّيْلَةَ؟، قَالَ: فَقَالَ: " نَعَمْ ذَاكَ الَّذِي حَمَلَنِي عَلَى الَّذِي صَنَعْتُ "، قَالَ: فَأَخَذَ يُوَاصِلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَاكَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، فَأَخَذَ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يُوَاصِلُونَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَالُ رِجَالٍ يُوَاصِلُونَ، إِنَّكُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي، أَمَا وَاللَّهِ لَوْ تَمَادَّ لِي الشَّهْرُ، لَوَاصَلْتُ وِصَالا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ ".
زہیر بن حرب ابو نضر ہاشم بن قاسم سلیمان ثابت حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں نماز پڑھ رہے تھے تو میں آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو کی جانب کھڑا ہوگیا یہاں تک کہ ہماری ایک جماعت بن گئی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس فرمایاکہ میں آپ کے پیچھے ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں تخفیف شروع فرمادی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں داخل ہوئے۔آپ نے ایک ایسی نماز پڑھی جیسی نماز آپ ہمارے ساتھ نہیں پڑھتے تھے جب صبح ہوئی تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ کیا رات آپ کو ہمارا علم ہوگیا تھا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اسی وجہ سے وہ کام کیا جو میں نے کیا حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال کے روزے رکھنے شروع فرمادیئے وہ مہینہ کے آخر میں تھے آپ کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے بھی کچھ لوگوں نے وصال کے روزے رکھنے شروع کردیئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لوگ صوم وصال کیوں رکھ رہے ہیں؟تم لوگ میر ی طرح نہیں ہو اللہ کی قسم! اگر یہ مہینہ لمبا ہوتا تو میں اس قدر وصال کے روزے رکھتا کہ ضد کرنے والے اپنی ضد چھوڑ دیتے۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں نماز پڑھتے تھے میں بھی آ کر آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا ایک اور آدمی آیا وہ بھی کھڑا ہو گیا حتی کہ ہم ایک جماعت بن گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ میں بھی آپصلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوں تو آپصلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں تخفیف شروع کر دی۔ پھر آپصلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر چلے گئے۔ تو ایسی نماز پڑھی جو ہمارے پاس نہیں پڑھی تھی۔ جب صبح ہوئی تو ہم نے آپصلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا آپصلی اللہ علیہ وسلم کو رات ہمارا پتہ چل گیا تھا؟ آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اس چیز نے تو مجھے اس کام پر آمادہ کیا جو میں نے کیا۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینہ کے آخری دنوں میں وصال کرنا شروع کر دیا تو آپصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے بھی کچھ لوگوں نے وصال کرنا شروع کر دیا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں نے وصال کرنا کیوں شروع کر دیا ہے! تم میرے جیسے نہیں ہو، ہاں اللہ کی قسم! اگر یہ ماہ لمبا ہوتا تو میں اس انداز سے وصال کرتا کہ تشدد پسند اپنے تشدد اور انتہا پسندی سے باز آ جاتے۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 1104
   صحيح البخاري7241أنس بن مالكإني لست مثلكم إني أظل يطعمني ربي ويسقين
   صحيح البخاري1961أنس بن مالكلا تواصلوا لست كأحد منكم إني أطعم وأسقى أو إني أبيت أطعم وأسقى
   صحيح مسلم2571أنس بن مالكإني لست مثلكم إني أظل يطعمني ربي ويسقيني
   صحيح مسلم2570أنس بن مالكإنكم لستم مثلي أما والله لو تماد لي الشهر لواصلت وصالا يدع المتعمقون تعمقهم
   جامع الترمذي778أنس بن مالكإني لست كأحدكم إن ربي يطعمني ويسقيني

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 778  
´افطار کیے بغیر مسلسل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان۔`
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صوم وصال ۱؎ مت رکھو، لوگوں نے عرض کیا: آپ تو رکھتے ہیں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 778]
اردو حاشہ:
1؎:
صوم وصال یہ ہے کہ آدمی قصداً دو یا دو سے زیادہ دن تک افطار نہ کرے،
مسلسل روزے رکھے نہ رات میں کچھ کھائے پیئے اور نہ سحری ہی کے وقت،
صوم وصال نبی اکرم ﷺ کے لیے جائز تھا لیکن امت کے لیے جائز نہیں۔

2؎:
میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے اسے جمہور نے مجازاً قوت پر محمول کیا ہے کہ کھانے پینے سے جو قوت حاصل ہوتی ہے اللہ تعالیٰ وہ قوت مجھے یوں ہی بغیر کھائے پیے دے دیتا ہے،
اور بعض نے اسے حقیقت پر محمول کرتے ہوے کھانے پینے سے جنت کا کھانا پینا مراد لیا ہے،
حافظ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے معارف کی ایسی غذا کھلاتا ہے جس سے آپ کے دل پر لذت سرگوشی ومناجات کا فیضان ہوتا ہے،
اللہ کے قرب سے آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈک ملتی ہے اور اللہ کی محبت کی نعمت سے آپ کو سرشاری نصیب ہوتی ہے اور اس کی جناب کی طرف شوق میں افزونی ہوتی ہے،
یہ ہے وہ غذا جو آپ کو اللہ کی جانب سے عطا ہوتی ہے،
یہ روحانی غذا ایسی ہے جو آپ کو دنیوی غذا سے کئی کئی دنوں تک کے لیے بے نیاز کر دیتی تھی۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 778   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.