الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
وراث کے مقررہ حصوں کا بیان
3. باب آخِرِ آيَةٍ أُنْزِلَتْ آيَةُ الْكَلاَلَةِ:
3. باب: بلحاظ نزول آیت کلالہ سب سے آخر میں اترنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4156
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا حدثنا عمرو الناقد ، حدثنا ابو احمد الزبيري ، حدثنا مالك بن مغول ، عن ابي السفر ، عن البراء ، قال: " آخر آية انزلت يستفتونك ".حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ: " آخِرُ آيَةٍ أُنْزِلَتْ يَسْتَفْتُونَكَ ".
ابوسفر نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: آخری آیت جو اتاری گئی، (یَسْتَفْتُونَکَ) ہے
حضرت براء ؓ بیان کرتے ہیں، آخر میں نازل ہونے والی آیت ﴿يَسْتَفْتُونَكَ﴾
ترقیم فوادعبدالباقی: 1618

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4156  
1
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آخر میں اترنے والی آیت کے بارے میں،
صحابہ کرام کے مختلف اقوال ہیں۔
(1)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آخری آیت جو اتری ہے،
وہ آیت الربا،
(سود کے بارے میں)
ہے۔
(2)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا دوسرا قول یہ ہے،
آخری آیت ﴿وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّـهِ﴾ ہے،
لیکن ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں ہے،
کیونکہ یہ ٹکڑا،
آیت الربا کے آخر میں ہے۔
(3)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں،
آخر میں اترنے والی آیت،
﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ﴾ یعنی سورہ توبہ کی آخری آیت۔
(4)
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں،
آخری آیت،
سورۃ کہف کی آخری آیت،
﴿فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ﴾ ہے۔
(5)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں،
آخری آیت،
﴿فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ﴾ ہے،
جو آل عمران کے آخری رکوع میں ہے۔
اس طرح ہر صحابی نے اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق بات کی ہے،
کسی نے اپنے قول کی نسبت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں کی،
اور یہ بھی ممکن ہے،
ہر ایک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سب سے آخر میں آیت سنی،
اس کو آخری آیت بنا دیا،
حالانکہ،
اس سے پہلے اتر چکی تھی،
لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مقصد کے تحت بعد میں کسی وقت اس کی تلاوت فرمائی تھی۔
اس طرح دو سورتوں کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ آخر میں مکمل نازل ہونے والی سورت ہے،
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما،
سورۃ النصر،
﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ﴾ کو آخرت سورت ٹھہراتے ہیں،
اور حضرت براء،
سورۃ توبہ یعنی سورۃ براءۃ کو،
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نزدیک سورۃ المائدہ سب سے آخر میں اتری ہے،
حالانکہ سورۃ براءۃ اور سورۃ المائدہ کا بیک وقت نزول ان سورتوں کے اسلوب اور سیاق و سباق کی رو سے مشکل ہے،
اور سورۃ نصر کا ممکن ہے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 4156   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.