سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
ابواب: صف بندی کے احکام ومسائل
Prayer (Tafarah Abwab As Safoof)
96. باب تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ
96. باب: صفوں کو درست اور برابر کرنے کا بیان۔
Chapter: Straightening The Rows.
حدیث نمبر: 661
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا زهير، قال: سالت سليمان الاعمش عن حديث جابر بن سمرة في الصفوف المقدمة، فحدثنا،عن المسيب بن رافع، عن تميم بن طرفة، عن جابر بن سمرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" الا تصفون كما تصف الملائكة عند ربهم عز وجل؟ قلنا: وكيف تصف الملائكة عند ربهم؟ قال: يتمون الصفوف المقدمة ويتراصون في الصف".
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشَ عَنْ حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ فِي الصُّفُوفِ الْمُقَدَّمَةِ، فَحَدَّثَنَا،عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ؟ قُلْنَا: وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ؟ قَالَ: يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْمُقَدَّمَةَ وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اس طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس کرتے ہیں؟، ہم نے عرض کیا: فرشتے اپنے رب کے پاس کس طرح صف بندی کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے اگلی صف پوری کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے سے خوب مل کر (جڑ کر) کھڑے ہوتے ہیں (ان کے مابین کوئی خلا نہیں رہتا)۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 27 (430)، سنن النسائی/الإمامة 28 (817)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 50 (992)، (تحفة الأشراف: 2127)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/101، 106) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
صف میں جڑ کر کھڑے ہونے سے صف سیدھی ہو جاتی ہے۔ معلوم ہوا کہ صالحین کا عمل اختیار کرنا شرعاً مطلوب ہے اور مسلمان کو ہمیشہ ان سے مشابہت کا حریص رہنا چاہیے۔ پہلے پہلی صف مکمل ہونی چاہیے تب دوسری بنائی جائے۔

Jabir bin Samurah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Why do you stand in rows as the angels do in the presence of their Lord? We asked: how do the angles stand in rows in the presence of their Lord? He replied: they make the first row complete and keep close together in the row.
USC-MSA web (English) Reference: Book 2 , Number 661


قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم (430)
   سنن النسائى الصغرى817جابر بن سمرةألا تصفون كما تصف الملائكة عند ربهم قالوا وكيف تصف الملائكة عند ربهم قال يتمون الصف الأول ثم يتراصون في الصف
   سنن أبي داود661جابر بن سمرةألا تصفون كما تصف الملائكة عند ربهم قلنا وكيف تصف الملائكة عند ربهم قال يتمون الصفوف المقدمة ويتراصون في الصف
   سنن ابن ماجه992جابر بن سمرةألا تصفون كما تصف الملائكة عند ربها قال قلنا وكيف تصف الملائكة عند ربها قال يتمون الصفوف الأول ويتراصون في الصف
   مسندالحميدي920جابر بن سمرةما بالكم ترمون بأيديكم كأنها أذناب خيل شمس، أولا يكفي أحدكم، أو إنما يكفي أحدكم أن يضع يده على فخذه، ثم يسلم على أخيه من عن يمينه ومن عن شماله، السلام عليكم ورحمة الله، السلام عليكم ورحمة الله

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 661  
´صفوں کو درست اور برابر کرنے کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اس طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس کرتے ہیں؟، ہم نے عرض کیا: فرشتے اپنے رب کے پاس کس طرح صف بندی کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے اگلی صف پوری کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے سے خوب مل کر (جڑ کر) کھڑے ہوتے ہیں (ان کے مابین کوئی خلا نہیں رہتا)۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 661]
661۔ اردو حاشیہ:
➊ صف میں جڑ کر کھڑے ہونے سے صف سیدھی ہو جاتی ہے۔
➋ معلوم ہوا کہ صالحین کا عمل اختیار کرنا شرعاً مطلوب ہے اور مسلمان کو ہمیشہ ان سے مشابہت کا حریص رہنا چاہیے۔ بالخصوص نمازوں میں صف بندی کے معاملے میں۔ سورۃ فاتحہ میں اسی دعا کی تعلیم دی گئی ہے کہ «اهدنا الصراط المستقيم . صراط الذين انعمت عليهم»
➌ پہلے پہلی صف مکمل ہو تب دوسری بنائی جائے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 661   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث992  
´صفیں برابر کرنے کا بیان۔`
جابر بن سمرہ سوائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس طرح صفیں کیوں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس باندھتے ہیں؟، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فرشتے اپنے رب کے پاس کس طرح صف باندھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں، اور صف میں ایک دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 992]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
شریعت اسلامیہ میں عبادت کے طریقے فرشتوں کی عبادت کے طریقوں سے مشابہ ہیں۔
اور یہ بہت بڑا شرف ہے۔

(2)
فرشتے اللہ کی عبادت کےلئے صفوں میں کھڑے ہوتے ہیں۔

(3)
جب تک پہلی صف مکمل نہ ہوجائے۔
دوسری صف شروع نہیں کرنی چاہیے۔
اس طرح دوسری کے بعد تیسری اور تیسری کے بعد چوتھی صف بنائی جائے۔

(4)
صف میں کھڑے ہوتے وقت ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھڑے ہوناچاہیے۔
دو آدمیوں کے درمیان خالی جگہ نہیں چھوڑنی چاہیے۔
صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا اور قدم سے قدم ملا کر کھڑے ہوتے تھے۔
دیکھئے: (صحیح البخاري، الأذان، باب الزاق المنکب بالمنکب والقدم بالقدم فی الصف، حدیث: 725)
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 992   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.