سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
کتاب: سنتوں کا بیان
Model Behavior of the Prophet (Kitab Al-Sunnah)
23. باب فِي الشَّفَاعَةِ
23. باب: شفاعت کا بیان۔
Chapter: Intercession.
حدیث نمبر: 4739
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
حدثنا سليمان بن حرب، اخبرنا بسطام بن حريث، عن اشعث الحداني، عن انس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:شفاعتي لاهل الكبائر من امتي".
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، أخبرنا بَسْطَامُ بْنُ حُرَيْثٍ، عَنْ أَشْعَثَ الْحُدَّانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری شفاعت ۱؎ میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے ۲؎۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 231)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/213) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: یہ باب خوارج اور بعض معتزلہ کے رد میں ہے جو شفاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر ہیں، اہل حدیث و اہل سنت شفاعت کے قائل ہیں۔
۲؎: یعنی جن لوگوں کے کبیرہ گناہ ان کے جنت میں جانے سے مانع ہوں گے جبکہ وہ موحد تھے تو ان کے لئے میری شفاعت جنت میں جانے کا ذریعہ ہو گی، لیکن یہ شفاعت اللہ کے حکم اور اس کے اِذْن سے ہوگی جیسا کہ آیت الکرسی میں نیز اس آیت میں ہے «يومئذ لا تنفع الشفاعة إلا من أذن له الرحمن ورضي له قولا» (سورۃ طہ: ۱۰۹) کسی مشرک کو شفاعت نصیب نہ ہو گی، اس لئے ہر آدمی کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ شرک و بدعت کو سمجھے، اور اس بات کی پوری کوشش کرے کہ وہ ان سب سے دور رہے، اور دوسرے لوگوں کو بھی اس سے بچائے، تا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا مستحق ہو۔

Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: My intercession will be for those of my people who have committed major sins.
USC-MSA web (English) Reference: Book 41 , Number 4721


قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
مشكوة المصابيح (5598)
وللحديث طرق عند الترمذي (2435) وغيره
   صحيح البخاري6305أنس بن مالكجعلت دعوتي شفاعة لأمتي يوم القيامة
   صحيح مسلم494أنس بن مالكلكل نبي دعوة دعاها لأمته اختبأت دعوتي شفاعة لأمتي يوم القيامة
   جامع الترمذي2435أنس بن مالكشفاعتي لأهل الكبائر من أمتي
   سنن أبي داود4739أنس بن مالكشفاعتي لأهل الكبائر من أمتي
   المعجم الصغير للطبراني1097أنس بن مالكجعلت الشفاعة لأهل الكبائر من أمتي
   المعجم الصغير للطبراني1095أنس بن مالكشفاعتي لأهل الكبائر من أمتي يوم القيامة

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2435  
´امت محمدیہ کے اہل کبائر کی شفاعت کا بیان۔`
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ والوں کے لیے ہو گی ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2435]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی میری امت کے جو اہل کبائر ہوں گے اور جو اپنے گناہوں کی سزا جہنم میں بھگت رہے ہوں گے،
ایسے لوگوں کی بخشش کے لیے میری مخصوص شفاعت ہوگی،
باقی رفع درجات کے لیے انبیاء،
اولیاء،
اور دیگر متقی و پرہیز گار لوگوں کی شفاعت بھی ہوگی جو سنی جائے گی۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2435   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4739  
´شفاعت کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری شفاعت ۱؎ میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے ۲؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4739]
فوائد ومسائل:
1: گناہ گاروں کو امید رکھنی چاہیے کہ ان کی سفارش ہوگی اور انہیں معاف کردیا جائے گا، مگر ساتھ ہی شدید خوف بھی چاہیے، کیو نکہ یہ بھی معلوم نہیں کہ کس گناہ گارکی شفاعت ہو گی اور کون اس سے محروم رہے گا یا کس کے بارے میں شفاعت ہوگی؟ کیونکہ یہ معاملہ سارے کا سارا االلہ رب العالمین کی اپنی مشیت پر ہے۔
اگر مشیت ہوئی تو فبہا ورنہ شدیدعقاب ہو گا۔
اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے: (إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ) (النساء٤٨) يقيناالله تعالی اپنے ساتھ شریک کیے جانےکو نہیں بخشا اوراس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے ارشاد ہے: (وَكَمْ مِنْ مَلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِنْ بَعْدِ أَنْ يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضَى) (النجم: ٢٦) اورآسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ نفع نہیں دے سکتی مگر بعداس کے کہ اللہ تعالی جس کے لئے چاہے اور پسند فرمائے تو اجازت دے دے اس دن سفارش کچھ کام نہیں آئے گی، مگر جسے رحمن اجازت دےاور اس کی بات کو پسند فرمائے اور یہ لوگ صرف اہل توحید ہوں گے جن کے حق میں اللہ تعالی سفارش کرنے کی اجازت دے گا۔

2: اس خوشخبری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان گناہوں کے ارتکاب میں جری ہو جائے بلکہ خوف کے پہلو کو غالب رکھنا چاہیے کیونکر میدان حشر کی تکلیف ناقابل برداشت ہو گی، جہنم تو اس سے بہت زیادہ سخت ہے۔
پھر یہ بھی معلوم نہیں کہ شفاعت قبول ہوتے ہوتے کتنی مدت لگ جائے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 4739   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.