سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل
The Book of Qiyam Al-Lail (The Night Prayer) and Voluntary Prayers During the Day
66. بَابُ : ثَوَابِ مَنْ صَلَّى فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ رَكْعَةً سِوَى الْمَكْتُوبَةِ
66. باب: جو فرض کے علاوہ دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھے اس کے ثواب کا بیان اور اس سلسلے میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر، اور عطا پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 1803
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
Warning: Undefined variable $mhadith_hindi_status in /home4/islamicurdub/public_html/hadith/display-hadith-number.php on line 36

Warning: Undefined variable $vhadith_type2 in /home4/islamicurdub/public_html/hadith/display-arabic.php on line 20

Warning: Undefined variable $vhadith_type2 in /home4/islamicurdub/public_html/hadith/display-arabic.php on line 20

Warning: Undefined variable $vhadith_type2 in /home4/islamicurdub/public_html/hadith/display-arabic.php on line 20
اخبرنا ابو الازهر احمد بن الازهر النيسابوري، قال: حدثنا يونس بن محمد، قال: حدثنا فليح، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابي إسحاق، عن المسيب، عن عنبسة بن ابي سفيان، عن ام حبيبة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" من صلى اثنتي عشرة ركعة بنى الله له بيتا في الجنة، اربعا قبل الظهر واثنتين بعدها واثنتين قبل العصر , واثنتين بعد المغرب , واثنتين قبل الصبح" , قال ابو عبد الرحمن: فليح بن سليمان ليس بالقوي.

Warning: Undefined variable $vhadith_type2 in /home4/islamicurdub/public_html/hadith/display-arabic.php on line 39

Warning: Undefined variable $vhadith_type2 in /home4/islamicurdub/public_html/hadith/display-arabic.php on line 39

Warning: Undefined variable $vhadith_type2 in /home4/islamicurdub/public_html/hadith/display-arabic.php on line 39
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَزْهَرِ أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ، أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَاثْنَتَيْنِ بَعْدَهَا وَاثْنَتَيْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ , وَاثْنَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ , وَاثْنَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو اس کے بعد، دو عصر سے پہلے، دو مغرب کے بعد اور دو صبح سے پہلے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: فلیح بن سلیمان زیادہ قوی نہیں ہیں۔

تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/الصلاة 189 (415)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 100 (1141) مختصراً، (تحفة الأشراف: 15862)، مسند احمد 6/326 (ضعیف الإسناد) (ابو اسحاق مدلس مختلط اور فُلَیْح کثیر الخطا راوی ہیں)»

قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد

قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، أبوإسحاق عنعن. وأصل الحديث صحيح دون قوله: ’’واثنتين قبل العصر‘‘. وانظر الحديث السابق (1802) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 335
   سنن النسائى الصغرى1797رملة بنت صخرمن ركع ثنتي عشرة ركعة في يومه وليلته سوى المكتوبة بنى الله له بها بيتا في الجنة
   سنن النسائى الصغرى1798رملة بنت صخرمن ركع اثنتي عشرة ركعة في اليوم والليلة سوى المكتوبة بنى الله له بيتا في الجنة
   سنن النسائى الصغرى1799رملة بنت صخرمن صلى في يوم ثنتي عشرة ركعة بنى الله له بيتا في الجنة
   سنن النسائى الصغرى1800رملة بنت صخرمن صلى ثنتي عشرة ركعة بالنهار أو بالليل بنى الله له بيتا في الجنة
   سنن النسائى الصغرى1801رملة بنت صخرمن صلى ثنتي عشرة ركعة في يوم فصلى قبل الظهر بنى الله له بيتا في الجنة
   سنن النسائى الصغرى1802رملة بنت صخراثنتا عشرة ركعة من صلاهن بنى الله له بيتا في الجنة أربع ركعات قبل الظهر ركعتين بعد الظهر ركعتين قبل العصر ركعتين بعد المغرب ركعتين قبل صلاة الصبح
   سنن النسائى الصغرى1803رملة بنت صخرمن صلى اثنتي عشرة ركعة بنى الله له بيتا في الجنة أربعا قبل الظهر اثنتين بعدها اثنتين قبل العصر اثنتين بعد المغرب اثنتين قبل الصبح
   سنن النسائى الصغرى1804رملة بنت صخرمن صلى في اليوم والليلة ثنتي عشرة ركعة سوى المكتوبة بني له بيت في الجنة أربعا قبل الظهر ركعتين بعدها ثنتين قبل العصر ثنتين بعد المغرب ثنتين قبل الفجر
   سنن النسائى الصغرى1805رملة بنت صخرمن صلى في اليوم والليلة ثنتي عشرة ركعة بني له بيت في الجنة
   سنن النسائى الصغرى1806رملة بنت صخرمن صلى في الليل والنهار ثنتي عشرة ركعة سوى المكتوبة بني له بيت في الجنة
   سنن النسائى الصغرى1807رملة بنت صخرمن صلى في يوم وليلة ثنتي عشرة ركعة سوى المكتوبة بنى الله له بيتا في الجنة
   سنن النسائى الصغرى1808رملة بنت صخرمن صلى في يوم ثنتي عشرة ركعة بنى الله له بيتا في الجنة
   سنن النسائى الصغرى1809رملة بنت صخرمن صلى في يوم ثنتي عشرة ركعة سوى الفريضة بنى الله له
   سنن النسائى الصغرى1810رملة بنت صخرمن صلى ثنتي عشرة ركعة في يوم وليلة بنى الله له بيتا في الجنة
   سنن النسائى الصغرى1811رملة بنت صخرمن صلى في يوم اثنتي عشرة ركعة بنى الله له بيتا في الجنة
   صحيح مسلم1696رملة بنت صخرما من عبد مسلم يصلي لله كل يوم ثنتي عشرة ركعة تطوعا غير فريضة إلا بنى الله له بيتا في الجنة
   صحيح مسلم1694رملة بنت صخرمن صلى اثنتي عشرة ركعة في يوم وليلة بني له بهن بيت في الجنة
   جامع الترمذي415رملة بنت صخرمن صلى في يوم وليلة ثنتي عشرة ركعة بني له بيت في الجنة أربعا قبل الظهر ركعتين بعدها ركعتين بعد المغرب ركعتين بعد العشاء ركعتين قبل صلاة الفجر
   سنن أبي داود1250رملة بنت صخرمن صلى في يوم ثنتي عشرة ركعة تطوعا بني له بهن بيت في الجنة
   سنن ابن ماجه1141رملة بنت صخرمن صلى في يوم وليلة ثنتي عشرة ركعة سوى المكتوبة بنى الله له بيتا في الجنة

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1803  
´جو فرض کے علاوہ دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھے اس کے ثواب کا بیان اور اس سلسلے میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر، اور عطا پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔`
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو اس کے بعد، دو عصر سے پہلے، دو مغرب کے بعد اور دو صبح سے پہلے۔‏‏‏‏ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: فلیح بن سلیمان زیادہ قوی نہیں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1803]
1803۔ اردو حاشیہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے، اس روایت میں عشاء کے بعد دو کی بجائے عصر سے پہلے دو کا ذکر راوی کی غلطی ہے اور وہ فلیح بن سلیمان ہے جو ضعیف ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے «لیس بالقوي» وہ قوی نہیں کہا ہے، امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اسے متابعات میں قبول کیا ہے۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 1803   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1141  
´سنن موکدہ کی بارہ رکعتوں کا بیان۔`
ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رات اور دن میں بارہ رکعتیں (سنن موکدہ) پڑھیں ۱؎، اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1141]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بارہ رکعت سے مراد ہی مؤکدہ سنتیں ہیں جن کی تفصیل گزشتہ حدیث میں بیان ہوئی ہے۔

(2)
جنت میں گھر تعمیر ہونا ان نمازوں کا اجر ہے۔
اگر دوسرے اعمال کی وجہ سے جنت میں داخل ہو بھی جائے تب بھی اس عمل کے ثواب پر خاص طور پر ایک گھر ملے گا۔

(3)
اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ سنت نمازیں پابندی سے ادا کرنے والے کے گناہ معاف ہوجایئں گے۔
جس کی وجہ سے وہ اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہونے کا اہل ہوجائے گا۔
لہٰذا محض سستی اور بے پروائی کی وجہ سے سنتیں چھوڑ دینا بری بات ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 1141   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1250  
´نفل نماز کے ابواب اور سنت کی رکعات کا بیان۔`
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایک دن میں بارہ رکعتیں نفل پڑھے گا تو اس کے بدلے اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1250]
1250۔ اردو حاشیہ:
یہ بشارت فرائض سے پہلے اور بعد کی سنتوں سے متعلق ہے جنہیں سنن مؤکدہ یا سنن راتبہ کہا جاتا ہے۔ اس حدیث سے سنن مؤکدہ کی فضیلت واضح ہوتی ہے۔ ان بارہ رکعتوں کی تفصیل دیگر احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بیان فرمائی ہے: چار رکعت ظہر سے پہلے، دو رکعت اس کے بعد، دو رکعت مغرب کے بعد، دو کعت عشاء کے بعد اور دو کعت نماز فجر سے پہلے۔ دیکھیے: [جامع الترمذي، الصلاة، حديث: 415]
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ دیکھیے: [صحيح بخاري، التطوع، حديث: 1172، 1180، وصحيح مسلم، صلاة المسافرين، حديث: 729]
اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص دن میں فرائض کے علاوہ دس رکعت ہی ادا کر لیتا ہے اس کے لیے بھی جنت میں گھر بنا دیا جاتا ہے۔ تاہم علماء اس کی بابت فرماتے ہیں کہ اگر ظہر نماز سے قبل اتنا وقت ہو کہ چار رکعت پڑھی جا سکتی ہوں تو چار رکعت ہی پڑھنی چاہئیں اور بہتر ہے کہ یہ دو رکعت کر کے ‎پڑھی جائیں، اگرچہ ایک سلام سے بھی پڑھنا جائز ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 1250   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.