الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
The Book of Jihad
33. بَابُ : مَا يُتَمَنَّى فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
33. باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں شہید ہونے والے کی تمنا کا بیان۔
Chapter: Hoping To Die In The Cause Of Allah
حدیث نمبر: 3161
Save to word اعراب
اخبرنا هارون بن محمد بن بكار، قال: حدثنا محمد بن عيسى وهو ابن القاسم بن سميع، قال: حدثنا زيد بن واقد، عن كثير بن مرة، ان عبادة بن الصامت حدثهم، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" ما على الارض من نفس تموت ولها عند الله خير، تحب ان ترجع إليكم ولها الدنيا، إلا القتيل، فإنه يحب ان يرجع، فيقتل مرة اخرى".
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ بْنِ سُمَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ وَلَهَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ، تُحِبُّ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْكُمْ وَلَهَا الدُّنْيَا، إِلَّا الْقَتِيلُ، فَإِنَّهُ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ، فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى".
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شہید کے سوا دنیا میں کوئی بھی فرد ایسا نہیں ہے جسے مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے یہاں خیر ملا ہوا ہو (اچھا مقام و مرتبہ حاصل ہو) پھر وہ لوٹ کر تم میں آنے کے لیے تیار ہو اگرچہ اسے پوری دنیا مل رہی ہو۔ (صرف شہید ہے) جو لوٹ کر دنیا میں آنا اور دوبارہ قتل ہو کر اللہ تعالیٰ کے پاس جانا پسند کرتا ہے ۱؎۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5108)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/في الإمارة 29 (1877) مسند احمد (5/318، 322) (حسن صحیح)»

وضاحت:
۱؎: تاکہ اسے اپنی شہادت کی وجہ سے جو عزت و مرتبہ اور بلند مقام حاصل ہوا ہے وہ دوبارہ کی شہادت سے اور بھی بڑھ جائے اور بلند ہو جائے۔

قال الشيخ الألباني: حسن صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.