الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
The Book on Purification
75. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ
75. باب: عمامہ پر مسح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 101
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
حدثنا هناد، حدثنا علي بن مسهر، عن الاعمش، عن الحكم، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن كعب بن عجرة، عن بلال، ان النبي صلى الله عليه وسلم " مسح على الخفين والخمار ".حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ بِلَالٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ ".
بلال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے دونوں موزوں پر اور عمامے پر مسح کیا۔

تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/الطہارة 23 (275)، سنن النسائی/الطہارة 86 (104، 106)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 89 (561)، (تحفة الأشراف: 2047)، مسند احمد (6/12، 13، 14، 15) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (561)
   جامع الترمذي101بلال بن رباحمسح على الخفين والخمار
   سنن أبي داود153بلال بن رباحيقضي حاجته فآتيه بالماء فيتوضأ ويمسح على عمامته وموقيه
   صحيح مسلم637بلال بن رباحمسح على الخفين والخمار
   سنن ابن ماجه561بلال بن رباحمسح على الخفين والخمار
   سنن النسائى الصغرى106بلال بن رباحيمسح على الخمار والخفين
   سنن النسائى الصغرى104بلال بن رباحيمسح على الخفين والخمار
   مسندالحميدي150بلال بن رباحرأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم مسح على الخفين والخمار

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 104  
´پگڑی (عمامہ) پر مسح کرنے کا بیان۔`
بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چمڑے کے موزوں اور پگڑی پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 104]
104۔ اردو حاشیہ:
«الْخِمَار» سے مراد سر ڈھاپننے والی چیز ہے، یہاں مراد پگڑی اور عمامہ ہے۔ عام اوڑھنی مراد نہیں ہے۔
➋ صرف پگڑی پر مسح مختلف فیہ مسئلہ ہے۔ اس حدیث کے ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف پگڑی پر بھی مسح ہو سکتا ہے۔ اس کے انکار کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ رہی احناف کی یہ بات کہ صرف پگڑی پر مسح کی روایت کو پیشانی سمیت پگڑی پر مسح کی روایت پر محمول کیا جائے تو یہ تطبیق اس وقت ممکن ہو سکتی ہے جب راویٔ قصہ ایک ہی صحابی ہوتا، لیکن اس صورت میں بھی درست رائے یہی ہے کہ یہ بعید نہیں کہ صحابی نے دو مختلف حالات کا مشاہدہ کیا ہو، پھر انہیں اسی طرح بیان کر دیا ہو، کبھی اس طرح اور کبھی اس طرح جیسا کہ کسوف شمس وغیرہ کی بابت مروی ہے جبکہ یہاں تو دونوں قسم کے مسحوں کا تذکرہ کرنے والے صحابہ بھی مختلف ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں طریقے نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں اور صحابہ نے دونوں طریقوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ بنابریں جیسے حضرت مغیرہ بن شعبہ کی روایت کے پیش نظر پیشانی سمیت پگڑی پر مسح کرنا جائز ہے اسی طرح حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث سے صرف پگڑی پر مسح کرنا بھی جائز ہے۔ واللہ أعلم۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [محلی ابن حزم: 58/2]
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 104   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث561  
´پگڑی پر مسح کا بیان۔`
بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور عمامہ (پگڑی) پر مسح کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 561]
اردو حاشہ:
(1)
سر کا مسح سر پر بھی کیا جاسکتا ہے اور پگڑی یا دوپٹے پر بھی اور سر پر شروع کرکے پگڑی پر ختم کرنا بھی درست ہے۔
صرف چوتھائی سر کے مسح کا کوئی واضح ثبوت نہیں۔ 2۔
اس حدیث میں خمار سے مراد پگڑی یا سر پر بندھا رہنے والا کپڑا سر بند وغیرہ ہے۔

(3)
پگڑی کا مسح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی ایک جماعت سے مروی ہے چنانچہ امام ترمذی رحمہ اللہ لکھتے ہیں یہ قول صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی ایک جماعت کا ہےان میں حضرت ابو بکر، عمر اور انس رضوان اللہ علیہم شامل ہیں اور حضرت ابو امامہ، سعد بن مالک اور ابو درداء رضوان اللہ علیہم سے اس کے متعلق روایت منقول ہے۔

(4)
اکثر حضرات کے نزدیک مسح عمامہ کے لیے طہارت (وضو کرکے پگڑی باندھنا)
شرط نہیں۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 561   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.