سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
Chapters on Supplication
118. باب فِي دُعَاءِ الضَّيْفِ
118. باب: مہمان میزبان کے لیے کیا دعا کرے اس کا بیان
حدیث نمبر: 3577
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
حدثنا محمد بن إسماعيل، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حفص بن عمر الشني، حدثني ابي عمر بن مرة، قال: سمعت بلال بن يسار بن زيد مولى النبي صلى الله عليه وسلم، حدثني ابي، عن جدي، سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: " من قال: استغفر الله العظيم الذي لا إله إلا هو الحي القيوم , واتوب إليه غفر له وإن كان فر من الزحف ". قال ابو عيسى: هذا غريب، لا نعرفه إلا من هذا الوجه.حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الشَّنِّيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي عُمَرُ بْنُ مُرَّةَ، قَال: سَمِعْتُ بِلَالَ بْنَ يَسَارِ بْنِ زَيْدٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ قَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الْعَظِيمَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيَّ الْقَيُّومَ , وَأَتُوبُ إِلَيْهِ غُفِرَ لَهُ وَإِنْ كَانَ فَرَّ مِنَ الزَّحْفِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
زید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص کہے: «أستغفر الله العظيم الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه» میں مغفرت مانگتا ہوں اس بزرگ و برتر اللہ سے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، جو زندہ ہے اور ہر چیز کا نگہبان ہے اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں، تو اس کی مغفرت کر دی جائے گی اگرچہ وہ لشکر (و فوج) سے بھاگ ہی کیوں نہ آیا ہو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
35904 - D 3577 - U

تخریج الحدیث: «سنن ابی داود/ الصلاة 361 (1517) (صحیح) (سند میں بلال اور یسار بن زید دونوں باپ اور بیٹے مجہول راوی ہیں، لیکن ابن مسعود وغیرہ کی احادیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، صحیح سنن أبی داود 1358، صحیح الترغیب والترہیب 1622، الصحیحة 2727)»

قال الشيخ الألباني: صحيح، التعليق الرغيب (2 / 269)، صحيح أبي داود (1358)
   جامع الترمذي3577زيدمن قال أستغفر الله العظيم الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه غفر له وإن كان فر من الزحف

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3577  
´مہمان میزبان کے لیے کیا دعا کرے اس کا بیان`
زید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص کہے: «أستغفر الله العظيم الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه» میں مغفرت مانگتا ہوں اس بزرگ و برتر اللہ سے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، جو زندہ ہے اور ہر چیز کا نگہبان ہے اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں، تو اس کی مغفرت کر دی جائے گی اگرچہ وہ لشکر (و فوج) سے بھاگ ہی کیوں نہ آیا ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3577]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
میں مغفرت مانگتا ہوں اس بزرگ و برتر اللہ سے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے،
جو زندہ ہے اور ہر چیز کا نگہبان ہے اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں)
نوٹ:
(سند میں بلال اور یسار بن زید دونوں باپ اور بیٹے مجہول راوی ہیں،
لیکن ابن مسعود وغیرہ کی احادیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے،
صحیح سنن أبی داؤد: 1358،
صحیح الترغیب والترہیب: 1622،
الصحیحة: 2727)
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 3577