محدثانہ نکات از محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح البخاري کی حدیث نمبر 229 پر
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
رواه البخاري في الوضوء (٢٢٩ - ٢٣٢) ومسلم في الطهارة (٢٨٩) كلاهما من طريق عمرو بن ميمون قال: سألت سليمان بن يسار عن المني يصيب ثوب الرجل أيغسله أم يغسل الثوب؟ فقال: أخبرتني عائشة، فذكرت الحديث.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے کتاب الوضوء 229-232 میں اور امام مسلم نے کتاب الطہارت 289 میں عمرو بن میمون کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے سلیمان بن یسار سے اس منی کے بارے میں پوچھا جو مرد کے کپڑے کو لگ جائے کہ آیا وہ صرف اسی جگہ کو دھوئے یا پورے کپڑے کو؟ تو انہوں نے کہا کہ مجھے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بتایا، پھر انہوں نے حدیث ذکر کی۔