🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

محدثانہ نکات از محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح البخاري کی حدیث نمبر 3535 پر
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ New
رواه البخاريّ في المناقب (٣٥٣٥) ، ومسلم في الفضائل (٢٢٨٦: ٢٢) كلاهما عن قتيبة بن سعيد، حدّثنا إسماعيل بن جعفر، عن عبد اللَّه بن دينار، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، فذكره.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے "کتاب المناقب" 3535 میں اور امام مسلم نے "کتاب الفضائل" 2286: 22 میں روایت کیا ہے۔ یہ دونوں ائمہ اسے قتیبہ بن سعید، اسماعیل بن جعفر، عبد اللہ بن دینار اور ابو صالح (ذکوان السمان) کے طریق سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں، پھر انہوں نے (اینٹ کی مثال والی) حدیث ذکر کی۔
ورواه الإمام أحمد (٧٣٢٢) عن سفيان، عن أبي الزّناد، عن الأعرج، عن أبي هريرة، فذكر مثله غير أن فيه: "إلّا هذه الثُّلْمة، فأنا تلك الثُّلمة" .
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے اپنی "مسند" 7322 میں سفیان بن عیینہ، ابو الزناد (عبد اللہ بن ذکوان) اور الاعرج (عبد الرحمن بن ہرمز) کے طریق سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت بھی (پہلی حدیث کے) مثل ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: "سوائے اس شگاف (خالی جگہ) کے، پس میں ہی وہ شگاف ہوں"۔
ومن هذا الطّريق أخرجه أيضًا مسلم غير أنه ذكر مثل الطريق الأول وهو "اللّبنة" .
📝 نوٹ / توضیح: اسی سند (سفیان عن ابی الزناد) سے امام مسلم نے بھی روایت تخریج کی ہے، مگر انہوں نے (شگاف کے بجائے) پہلے طریق کی طرح "اللَّبِنَة" (اینٹ) کے الفاظ ہی ذکر کیے ہیں۔
و "الثُّلمة" بالضّم -فُرْجة المكسور والمهدوم- أي إلّا هذا الموضع الذي فيه ثلمة في البنيان.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "الثُّلمَة" (ث پر پیش کے ساتھ) سے مراد کسی ٹوٹی ہوئی یا منہدم چیز کا سوراخ یا خالی جگہ ہے، یعنی عمارت میں وہ مخصوص جگہ جہاں شگاف یا خلا رہ گیا ہو۔