محدثانہ نکات از محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
سنن ابي داود کی حدیث نمبر 4682 پر
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
رواه الترمذي (١١٦٢) وأبو داود (٤٦٨٢) وابن حبان في صحيحه (٤٧٩، ٤١٧٦) كلهم من حديث محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة فذكر الحديث. واللفظ للترمذي. واقتصر أبو داود على الشطر الأول. قال الترمذي: حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (1162)، ابوداؤد (4682) اور ابن حبان نے اپنی "صحیح" (479، 4176) میں روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: ان سب نے اسے محمد بن عمرو کی حدیث سے روایت کیا ہے، وہ ابوسلمہ سے اور وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، پس انہوں نے حدیث ذکر کی۔ اور الفاظ امام ترمذی کے ہیں، جبکہ ابوداؤد نے صرف پہلے حصے (شطرِ اول) پر اکتفا کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث "حسن صحیح" ہے۔
قلت: هو حسن فقط من أجل محمد بن عمرو وهو ابن علقمة الليثي فإنه مختلف فيه، غير أنه حسن الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: میں کہتا ہوں: یہ صرف "حسن" ہے محمد بن عمرو کی وجہ سے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ "محمد بن عمرو بن علقمہ اللیثی" ہیں، ان کے بارے میں محدثین کا اختلاف ہے، تاہم یہ "حسن الحدیث" ہیں (یعنی ان کی حدیث حسن درجے سے کم نہیں ہوتی)۔
ومن هذا الطريق رواه أيضًا أحمد (٧٤٠٢) والحاكم (١/ ٣) الشطر الأول فقط، وقال الحاكم صحيح على شرط مسلم.
🧩 متابعات و شواہد: اور اسی طریق سے اسے امام احمد (7402) اور حاکم (جلد 1، صفحہ 3) نے بھی روایت کیا ہے، صرف پہلے حصے (شطرِ اول) کو۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اور امام حاکم نے فرمایا: "یہ مسلم کی شرط پر صحیح ہے"۔