🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

محدثانہ نکات از محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
سنن ابن ماجه کی حدیث نمبر 3510 پر
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ New
رواه الترمذيّ (٢٠٥٩) ، وابن ماجه (٣٥١٠) كلاهما من حديث سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن عروة بن عامر، عن عبيد بن رفاعة الزُّرقيّ، قال: قالت أسماء، فذكرته.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی 2059 اور ابن ماجہ 3510 نے سفیان بن عیینہ، عمرو بن دینار، عروہ بن عامر اور عبید بن رفاعہ زرقی کے طریق سے روایت کیا ہے کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے (حدیث) بیان کی، پھر مکمل روایت ذکر کی۔
ومن هذا الوجه رواه أيضًا الإمام أحمد (٢٧٤٧٠) .
📖 حوالہ / مصدر: اسی طریق سے اسے امام احمد نے اپنی مسند 27470 میں بھی روایت کیا ہے۔
قال الترمذيّ: "حسن صحيح" .
⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اس روایت کو "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
قلت: هو حسن فقط، فإنّ عروة بن عامر، وشيخه عبيد بن رفاعة "صدوقان" لا غير.
⚖️ درجۂ حدیث: میں (محقق) کہتا ہوں کہ یہ روایت صرف "حسن" ہے، کیونکہ عروہ بن عامر اور ان کے استاد عبید بن رفاعہ دونوں "صدوق" (سچے) ہیں، اس سے اعلیٰ درجے کے راوی نہیں ہیں۔
ثم إن قول عبيد بن رفاعة الزرقي قال: قالت أسماء، ظاهره الإرسال، ولكن قال الترمذيّ بعده: "وقد رُوي هذا عن أيوب، عن عمرو بن دينار، عن عروة بن عامر، عن عبيد بن رفاعة، عن أسماء بنت عُميس، عن النّبيّ -صلى اللَّه عليه وسلم-، قال: حدّثنا بذلك الحسن بن علي الخلال، حدّثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن أيوب، بهذا" .
🔍 فنی نکتہ / علّت: عبید بن رفاعہ الزرقی کا یہ قول کہ "اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا" بظاہر "ارسال" (سند میں انقطاع) پر دلالت کرتا ہے، لیکن امام ترمذی نے اس کے بعد وضاحت فرمائی ہے کہ: "یہ روایت ایوب سختیانی، عمرو بن دینار، عروہ بن عامر اور عبید بن رفاعہ کے واسطے سے اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے، اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے"۔ 📖 حوالہ / مصدر: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ ہم سے یہ حدیث حسن بن علی الخلال نے بیان کی، انہوں نے عبد الرزاق بن ہمام سے، انہوں نے معمر بن راشد سے اور انہوں نے ایوب سختیانی سے اسی طرح روایت کی (جس سے سند کا اتصال ثابت ہوتا ہے)۔
قلت: وهذا إسناد متصل وهو الأصح كما قال الدّارقطني في "العلل" (١٥/ ٣٠٤) .
📌 اہم نکتہ: میں (محقق) کہتا ہوں کہ یہ سند متصل ہے اور یہی بات زیادہ صحیح ہے جیسا کہ امام دارقطنی نے کتاب "العلل" 15/304 میں صراحت فرمائی ہے۔
وقوله: "ولو كان شيءٌ سابق القدر" أي أنّ الأشياء كلّها بقدر اللَّه تعالى، ولا تقع إلّا على حسب ما قدرها اللَّه تعالى، وسبق بها علمه، فلا يقع ضررُ العين ولا غيره من الخير والشر إلّا بقدر اللَّه تعالى.
📝 نوٹ / توضیح: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ "اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت لے جا سکتی (تو وہ نظرِ بد ہوتی)"، اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام اشیاء اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہی سے ہیں، اور کوئی بھی چیز اس وقت تک واقع نہیں ہوتی جب تک اللہ نے اسے مقدر نہ کیا ہو اور اس کا علم اس پر سبقت نہ لے گیا ہو۔ لہٰذا نظرِ بد کا نقصان ہو یا خیر و شر کی کوئی اور صورت، وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے بغیر واقع نہیں ہو سکتی۔