محدثانہ نکات از محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
سنن ترمذي کی حدیث نمبر 2910 پر
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
رواه الترمذيّ (٢٩١٠) من طريق محمد بن بشار، قال: حدّثنا أبو بكر الحنفي، قال: حدثنا الضحاك بن عثمان، عن أيوب بن موسى، قال: سمعت محمد بن كعب القرطي يقول: سمعت عبد اللَّه بن مسعود يقول (وذكر الحديث) .
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی نے (2910) میں محمد بن بشار (بندار) کے طریق سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ابو بکر الحنفی (عبد الکبیر بن عبد المجید) نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ضحاک بن عثمان نے ایوب بن موسیٰ سے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن کعب القرظی کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا (پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی)۔
قال الترمذيّ: "ويروى هذا الحديث من غير هذا الوجه عن ابن مسعود، رواه أبو الأحوص عن ابن مسعود رفعه بعضهم، ووقفه بعضهم عن ابن مسعود، هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه" . ورواية أبي الأحوص المرفوعة التي أشار إليها الترمذيّ أخرجها الحاكم في المستدرك (١/ ٥٥٥) بإسناده عن صالح بن عمر، أنبأ إبراهيم الهجري، عن أبي الأحوص، عن عبد اللَّه، عن النبي -صلى اللَّه عليه وسلم- مع زيادة في الألفاظ. وقال الحاكم: هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه بصالح بن عمر "، وعلق عليه الذهبي بقوله:" صالح ثقة خرج له مسلم، لكن إبراهيم بن مسلم ضعيف "ولكن هذا الحديث لم ينفرد بروايته إبراهيم الهجري، والحديث له أسانيد وطرق، منها الإسناد الذي ذكره الترمذيّ وقد صححه، فالحديث صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث مجموعی طور پر صحیح ہے۔ امام ترمذی نے اسے اس سند کے اعتبار سے "حسن صحیح غریب" قرار دیا ہے، جبکہ امام حاکم نے اسے "صحیح الاسناد" کہا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس حدیث کو ابو الاحوص (عوف بن مالک الجشمی) نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، جس میں راویوں کا اختلاف ہے؛ بعض نے اسے مرفوع (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول) اور بعض نے موقوف (صحابی کا قول) بیان کیا ہے۔ امام حاکم کی روایت 1/555 میں ابراہیم الہجری (ابراہیم بن مسلم) موجود ہیں جنہیں امام ذہبی نے ضعیف قرار دیا ہے، تاہم ابراہیم بن مسلم اس روایت میں اکیلے نہیں ہیں بلکہ دیگر متابعات موجود ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: سنن ترمذی، مستدرک حاکم 1/555، صحیح مسلم (صالح بن عمر کے تذکرے کے لیے)۔ 📌 اہم نکتہ: چونکہ اس حدیث کے متعدد طرق اور اسانید موجود ہیں اور امام ترمذی نے اس کی تصحیح کی ہے، اس لیے ابراہیم بن مسلم کے ضعف کے باوجود حدیث صحیح کے درجے پر فائز ہے۔