صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب صلاة الكسوف فى المسجد:
باب: کسوف کی نماز مسجد میں پڑھنی چاہیے۔
حدیث نمبر: 1055
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ يَهُودِيَّةً جَاءَتْ تَسْأَلُهَا، فَقَالَتْ: أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُعَذَّبُ النَّاسُ فِي قُبُورِهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ.
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے یحییٰ بن سعید انصاری سے بیان کیا، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے، ان سے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس کچھ مانگنے آئی۔ اس نے کہا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ قبر کے عذاب سے بچائے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا قبر میں بھی عذاب ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کر) فرمایا کہ میں اللہ کی اس سے پناہ مانگتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الكسوف/حدیث: 1055]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت ان سے کچھ مانگنے آئی اور کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو عذابِ قبر سے محفوظ رکھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: آیا لوگوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہو گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں خود عذابِ قبر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الكسوف/حدیث: 1055]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1049
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ يَهُودِيَّةً جَاءَتْ تَسْأَلُهَا، فَقَالَتْ لَهَا: أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُعَذَّبُ النَّاسُ فِي قُبُورِهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس مانگنے کے لیے آئی اور اس نے دعا دی کہ اللہ آپ کو قبر کے عذاب سے بچائے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا لوگوں کو قبر میں عذاب ہو گا؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی اس سے پناہ مانگتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الكسوف/حدیث: 1049]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک یہودی عورت کچھ مانگنے کے لیے حاضر ہوئی اور اس نے دعا دی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو عذابِ قبر سے پناہ دے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: آیا لوگوں کو قبروں میں عذاب دیا جائے گا؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں عذابِ قبر سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الكسوف/حدیث: 1049]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة