صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب قول الرجل للمرأة عند القبر اصبري:
باب: کسی مرد کا کسی عورت سے قبر کے پاس یہ کہنا کہ صبر کر۔
حدیث نمبر: 1252
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ وَهِيَ تَبْكِي , فَقَالَ: اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے جو ایک قبر پر بیٹھی ہوئی رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اللہ سے ڈر اور صبر کر۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1252]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے جو قبر کے پاس رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اللہ سے ڈر اور صبر سے کام لے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1252]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1283
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ تَبْكِي عِنْدَ قَبْرٍ , فَقَالَ: اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي، قَالَتْ: إِلَيْكَ عَنِّي فَإِنَّكَ لَمْ تُصَبْ بِمُصِيبَتِي وَلَمْ تَعْرِفْهُ، فَقِيلَ لَهَا: إِنَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَتْ بَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدَهُ بَوَّابِينَ، فَقَالَتْ: لَمْ أَعْرِفْكَ، فَقَالَ: إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے ثابت نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک عورت پر ہوا جو قبر پر بیٹھی رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈر اور صبر کر۔ وہ بولی جاؤ جی پرے ہٹو۔ یہ مصیبت تم پر پڑی ہوتی تو پتہ چلتا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان نہ سکی تھی۔ پھر جب لوگوں نے اسے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، تو اب وہ (گھبرا کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ پر پہنچی۔ وہاں اسے کوئی دربان نہ ملا۔ پھر اس نے کہا کہ میں آپ کو پہچان نہ سکی تھی۔ (معاف فرمائیے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبر تو جب صدمہ شروع ہو اس وقت کرنا چاہیے (اب کیا ہوتا ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1283]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عورت کے پاس سے گزر ہوا جو قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اللہ سے ڈر اور صبر کر۔“ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان نہ سکی اور کہنے لگی: مجھ سے دور رہو، کیونکہ تمہیں مجھ جیسی مصیبت نہیں پہنچی۔ جب اسے بتایا گیا کہ یہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے تو وہ (معذرت کے لیے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درِ دولت پر حاضر ہوئی۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر کوئی دربان نہ دیکھا، حاضر ہو کر عرض کرنے لگی: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا نہیں تھا۔ (مجھے معاف فرما دیجئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر تو صدمے کے آغاز میں ہوتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1283]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1302
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے ان سے ثابت نے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے نقل کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبر تو وہی ہے جو صدمہ کے شروع میں کیا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1302]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر وہی ہے جو ابتدائے صدمہ میں ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1302]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7154
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ لِامْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ: تَعْرِفِينَ فُلَانَةَ؟، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهَا وَهِيَ تَبْكِي عِنْدَ قَبْرٍ، فَقَالَ:" اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي، فَقَالَتْ: إِلَيْكَ عَنِّي، فَإِنَّكَ خِلْوٌ مِنْ مُصِيبَتِي، قَالَ: فَجَاوَزَهَا وَمَضَى، فَمَرَّ بِهَا رَجُلٌ، فَقَالَ: مَا قَالَ لَكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَتْ: مَا عَرَفْتُهُ، قَالَ: إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَجَاءَتْ إِلَى بَابِهِ فَلَمْ تَجِدْ عَلَيْهِ بَوَّابًا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا عَرَفْتُكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الصَّبْرَ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ".
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالصمد نے خبر دی، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے ثابت البنانی نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ وہ اپنے گھر کی ایک عورت سے کہہ رہے تھے فلانی کو پہچانتی ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے اور وہ ایک قبر کے پاس رو رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈر اور صبر کر۔ اس عورت نے جواب دیا۔ آپ میرے پاس سے چلے جاؤ، میری مصیبت آپ پر نہیں پڑی ہے۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے ہٹ گئے اور چلے گئے۔ پھر ایک صاحب ادھر سے گزرے اور ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا تھا؟ اس عورت نے کہا کہ میں نے انہیں پہچانا نہیں۔ ان صاحب نے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ پھر وہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ انہوں نے آپ کے یہاں کوئی دربان نہیں پایا پھر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کو پہچانا نہیں (تھا)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبر تو صدمہ کے شروع میں ہی ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 7154]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے اپنے خاندان کی ایک عورت سے کہا: ”کیا تو فلاں عورت کو جانتی ہے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں۔“ تو انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ اس کے پاس سے گزرے تو وہ ایک قبر کے پاس رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے ڈر اور صبر کر۔“ اس نے جواب دیا: ”آپ میرے پاس سے چلے جائیں، آپ پر مجھ جیسی مصیبت نہیں پڑی۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے آگے بڑھے اور تشریف لے گئے، اس دوران میں وہاں سے ایک آدمی گزرا تو اس نے پوچھا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھ سے کیا فرمایا تھا؟“ اس نے کہا: ”میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پہچانا۔“ اس شخص نے کہا: ”وہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔“ پھر وہ عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، دیکھا کہ وہاں کوئی دربان نہ تھا، اس نے کہا: ”اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر تو صدمے کے آغاز میں ہوتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 7154]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة