🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب إذا لم يجد كفنا إلا ما يواري رأسه أو قدميه غطى رأسه:
باب: جب کفن کا کپڑا چھوٹا ہو کہ سر اور پاؤں دونوں نہ ڈھک سکیں تو سر چھپا دیں (اور پاؤں پر گھاس وغیرہ ڈال دیں)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1276
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ، حَدَّثَنَا خَبَّابٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَلْتَمِسُ وَجْهَ اللَّهِ فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَاتَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ نَجِدْ مَا نُكَفِّنُهُ إِلَّا بُرْدَةً إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ , فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْنُغَطِّيَ رَأْسَهُ، وَأَنْ نَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الْإِذْخِرِ".
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شقیق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف اللہ کے لیے ہجرت کی۔ اب ہمیں اللہ تعالیٰ سے اجر ملنا ہی تھا۔ ہمارے بعض ساتھی تو انتقال کر گئے اور (اس دنیا میں) انہوں نے اپنے کئے کا کوئی پھل نہیں دیکھا۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی انہیں لوگوں میں سے تھے اور ہمارے بعض ساتھیوں کا میوہ پک گیا اور وہ چن چن کر کھاتا ہے۔ (مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ) احد کی لڑائی میں شہید ہوئے ہم کو ان کے کفن میں ایک چادر کے سوا اور کوئی چیز نہ ملی اور وہ بھی ایسی کہ اگر اس سے سر چھپاتے ہیں تو پاؤں کھل جاتا ہے اور اگر پاؤں ڈھکتے تو سر کھل جاتا۔ آخر یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سر کو چھپا دیں اور پاؤں پر سبز گھاس اذخر نامی ڈال دیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1276]
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہجرت کی، ہمارا مقصد صرف اللہ کی رضا جوئی تھا اور ہمارا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمے تھا۔ ہم میں سے بعض حضرات فوت ہوئے تو انہوں نے دنیا میں اپنے اجر کا کچھ حصہ بھی نہیں کھایا، حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی ایسے لوگوں میں سے تھے۔ اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کا پھل پک چکا ہے اور وہ اسے چن چن کر کھا رہے ہیں۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ جنگِ احد میں شہید ہوئے تو ہمیں (ان کے ترکے میں) کفن کے لیے ایک چھوٹی سی چادر کے علاوہ کچھ نہ ملا، جب ہم ان کا سر چھپاتے تو پاؤں کھل جاتے تھے اور جب پاؤں ڈھانپتے تو سر ظاہر ہو جاتا تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا: ان کا سر ڈھانپ دو اور ان کے قدموں پر «الإِذْخِرُ» اذخر نامی گھاس ڈال دو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1276]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3897
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يَقُولُ: عُدْنَا خَبَّابًا، فَقَالَ:" هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُرِيدُ وَجْهَ اللَّهِ فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ , فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْخُذْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ نَمِرَةً , فَكُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ، وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ , فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّيَ رَأْسَهُ وَنَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ شَيْئًا مِنْ إِذْخِرٍ , وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا".
ہم سے (عبداللہ بن زبیر) حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابووائل شقیق بن سلمہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہجرت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا اجر دے گا۔ پھر ہمارے بہت سے ساتھی اس دنیا سے اٹھ گئے اور انہوں نے (دنیا میں) اپنے اعمال کا پھل نہیں دیکھا۔ انہیں میں مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ احد کی لڑائی میں شہید کئے گئے تھے اور صرف ایک دھاری دار چادر چھوڑی تھی۔ (کفن دیتے وقت) جب ہم ان کی چادر سے ان کا سر ڈھانکتے تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھانکتے تو سر کھل جاتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ان کا سر ڈھانک دیں اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دیں۔ (تاکہ چھپ جائیں) اور ہم میں ایسے بھی ہیں کہ (اس دنیا میں بھی) ان کے اعمال کا میوہ پک گیا، پس وہ اس کو چن رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 3897]
حضرت ابووائل سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی عیادت کی تو انہوں نے فرمایا: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہجرت کی۔ اس سے مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی رضا تھی، چنانچہ ہمارا ثواب اللہ کے ذمے ہو گیا۔ ہم میں سے کچھ ایسے بھی تھے کہ انہوں نے دنیا میں کچھ مفاد حاصل نہ کیا۔ ان میں سے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ہیں۔ وہ جنگِ احد میں شہید ہوئے تو انہوں نے صرف ایک نمرہ (کمبل) چھوڑا۔ جب ہم اس سے ان کا سر ڈھانپتے تھے تو پاؤں کھل جاتے اور جب پاؤں ڈھانپتے تو ان کا سر ننگا ہو جاتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھانپ دیں اور ان کے پاؤں پر کچھ «الْإِذْخِرِ» اذخر گھاس رکھ دیں۔ اور ہم میں سے کچھ ایسے ہیں کہ جن کا پھل پک چکا ہے اور وہ اسے چن چن کر کھا رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 3897]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3913
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ: هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی انہیں اعمش نے، انہیں ابووائل شقیق بن سلمہ نے اور ان سے خباب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 3913]
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 3913]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3914
وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَبَّابٌ، قَالَ:" هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ , وَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ , فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ نَجِدْ شَيْئًا نُكَفِّنُهُ فِيهِ إِلَّا نَمِرَةً , كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ , فَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ , فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّيَ رَأْسَهُ بِهَا وَنَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ مِنْ إِذْخِرٍ , وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ان سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، انہوں نے شقیق بن سلمہ سے سنا، کہا کہ ہم سے خباب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تو ہمارا مقصد صرف اللہ کی رضا تھی اور اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا اجر بھی ضرور دے گا۔ پس ہم میں سے بعض تو پہلے ہی اس دنیا سے اٹھ گئے۔ اور یہاں اپنا کوئی بدلہ انہوں نے نہیں پایا۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی انہیں میں سے ہیں۔ احد کی لڑائی میں انہوں نے شہادت پائی۔ اور ان کے کفن کے لیے ہمارے پاس ایک کمبل کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔ اور وہ بھی ایسا کہ اگر اس سے ہم ان کا سر چھپاتے تو ان کے پاؤں کھل جاتے۔ اور اگر پاؤں چھپاتے تو سر کھلا رہ جاتا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کا سر چھپا دیا جائے اور پاؤں کو اذخر گھاس سے چھپا دیا جائے۔ اور ہم میں بعض وہ ہیں جنہوں نے اپنے عمل کا پھل اس دنیا میں پختہ کر لیا۔ اور اب وہ اس کو خوب چن رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 3914]
(دوسری سند کے ساتھ یہی روایت ہے) حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تو ہمارا مقصد صرف اللہ کی رضا تھی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا اجر بھی ضرور دے گا، چنانچہ ہم میں سے کچھ حضرات اللہ کو پیارے ہو گئے اور دنیا میں انہوں نے اپنا کوئی بدلہ نہیں پایا۔ ان میں سے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ہیں جو اُحد کی جنگ میں شہید ہو گئے۔ ہمیں ان کے سامان میں کوئی ایسی چیز نہ ملی جس میں ہم انہیں کفن دیتے۔ ایک کمبل کے علاوہ اور کچھ نہیں ملا، وہ بھی ایسا کہ اگر ہم اس سے ان کا سر چھپاتے تو ان کے پاؤں کھل جاتے اور اگر ان کے پاؤں چھپاتے تو سر کھلا رہتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: ہم حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کا سر چھپا دیں اور ان کے پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دیں۔ اور ہم میں سے بعض ایسے ہیں جن (کے اجر) کا پھل پک چکا ہے، جسے وہ چن چن کر کھا رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 3914]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4047
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ شَقِيقٍ , عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ , فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ وَمِنَّا مَنْ مَضَى أَوْ ذَهَبَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا , كَانَ مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ لَمْ يَتْرُكْ إِلَّا نَمِرَةً كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ , وَإِذَا غُطِّيَ بِهَا رِجْلَاهُ خَرَجَ رَأْسُهُ , فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَطُّوا بِهَا رَأْسَهُ وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلِهِ الْإِذْخِرَ" , أَوْ قَالَ:" أَلْقُوا عَلَى رِجْلِهِ مِنَ الْإِذْخِرِ" , وَمِنَّا مَنْ قَدْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق بن سلمہ نے اور ان سے خباب بن الارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ ہمارا مقصد صرف اللہ کی رضا تھی۔ اس کا ثواب اللہ کے ذمے تھا۔ پھر ہم میں سے بعض لوگ تو وہ تھے جو گزر گئے اور کوئی اجر انہوں نے اس دنیا میں نہیں دیکھا، انہیں میں سے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ احد کی لڑائی میں انہوں نے شہادت پائی تھی۔ ایک دھاری دار چادر کے سوا اور کوئی چیز ان کے پاس نہیں تھی (اور وہی ان کا کفن بنی) جب ہم اس سے ان کا سر چھپاتے تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں چھپاتے تو سر کھل جاتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سر چادر سے چھپا دو اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دو۔ یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ فرمائے تھے کہ «ألقوا على رجله من الإذخر» بجائے «اجعلوا على رجله الإذخر» کے اور ہم بعض وہ تھے جنہیں ان کے اس عمل کا بدلہ (اسی دنیا میں) مل رہا ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 4047]
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تھی اور ہمارا مقصد صرف اللہ کی رضا حاصل کرنا تھا تو ہمارا ثواب اللہ کے ذے ہو گیا۔ پھر ہم میں سے کچھ حضرات ایسے تھے جو گزر گئے جبکہ انہوں نے اپنے ثواب سے اس دنیا میں کچھ نہ دیکھا۔ ان میں سے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔ وہ احد کی جنگ میں شہید ہوئے۔ انہوں نے اپنے ترکے میں صرف ایک دھاری دار چادر چھوڑی۔ جب ہم اس چادر سے ان کا سر ڈھانپتے تو ان کے پاؤں کھل جاتے اور جب ان کے پاؤں ڈھانپے جاتے تو ان کا سر ننگا ہو جاتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: اس چادر سے ان کا سر چھپا دو اور ان کے پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دو۔ اور ہم میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں ان کے عمل کا بدلہ دنیا میں مل رہا ہے اور وہ اس سے خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 4047]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4082
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ خَبَّابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ، فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى أَوْ ذَهَبَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا، كَانَ مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَلَمْ يَتْرُكْ إِلاَّ نَمِرَةً كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلاَهُ، وَإِذَا غُطِّيَ بِهَا رِجْلاَهُ خَرَجَ رَأْسُهُ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَطُّوا بِهَا رَأْسَهُ، وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ الإِذْخِرَ» . أَوْ قَالَ: «أَلْقُوا عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الإِذْخِرِ» . وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهْوَ يَهْدِبُهَا.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے اور ان سے خباب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی اور ہمارا مقصد اس سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنا تھا۔ ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر ثواب دیتا۔ ہم میں سے بعض لوگ تو وہ تھے جو اللہ سے جا ملے اور (دنیا میں) انہوں نے اپنا کوئی ثواب نہیں دیکھا۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی انہیں میں سے تھے۔ غزوہ احد میں انہوں نے شہادت پائی اور ایک چادر کے سوا اور کوئی چیز انہوں نے نہیں چھوڑی۔ اس چادر سے (کفن دیتے وقت) جب ہم ان کا سر چھپاتے تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں چھپاتے تو سر کھل جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا «غطوا بها رأسه،‏‏‏‏ واجعلوا على رجليه الإذخر» چادر سے سر چھپا دو اور پاؤں پر اذخر گھاس رکھ دو۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا «ألقوا على رجليه من الإذخر» یعنی ان کے پیروں پر اذخر گھاس ڈال دو۔ (دونوں جملوں کا مطلب ایک ہی ہے) اور ہم میں بعض وہ ہیں جنہیں ان کے اس عمل کا پھل (اسی دنیا میں) دے دیا گیا اور وہ اس سے خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 4082]
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی۔ اس سے ہمارا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ اس بنا پر ہمارا ثواب تو اللہ کے ذمے ہو گیا۔ اب ہم میں سے کچھ لوگ تو گزر گئے یا دنیا سے چلے گئے۔ انہوں نے دنیا میں اپنے ثواب سے کچھ نہ پایا۔ ان میں حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ہیں۔ وہ اُحد کے روز شہید کیے گئے۔ انہوں نے صرف ایک چادر چھوڑی۔ جب ہم اس کے ساتھ ان کا سر ڈھانپتے تھے تو ان کے پاؤں کھل جاتے اور جب ان کے پاؤں چھپائے جاتے تو ان کا سر ننگا ہو جاتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: اس چادر سے ان کا سر چھپا دو اور ان کے پاؤں پر «الْإِذْخِرِ» اذخر گھاس رکھ دو یا ڈال دو۔ اور ہم میں سے کچھ ایسے ہیں جن کا پھل دنیا میں پک چکا ہے اور وہ اس سے خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 4082]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6432
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ خَبَّابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصَّهُ".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے اعمش نے ان سے ابووائل نے اور ان سے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تھی اور اس کا قصہ بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 6432]
حضرت خباب رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہجرت کی تھی۔۔۔ اس کے بعد اپنا واقعہ بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 6432]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6448
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ: عُدْنَا خَبَّابًا، فَقَالَ" هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُرِيدُ وَجْهَ اللَّهِ، فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْخُذْ مِنْ أَجْرِهِ مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ نَمِرَةً، فَإِذَا غَطَّيْنَا رَأْسَهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ، وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّيَ رَأْسَهُ وَنَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ شَيْئًا مِنَ الْإِذْخِرِ، وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا".
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے، کہا کہ میں نے ابووائل سے سنا، کہا کہ ہم نے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہجرت کی۔ چنانچہ ہمارا اجر اللہ کے ذمہ رہا۔ پس ہم میں سے کوئی تو گزر گیا اور اپنا اجر (اس دنیا میں) نہیں لیا۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ (انہی) میں سے تھے، وہ جنگ احد کے موقع پر شہید ہو گئے تھے اور ایک چادر چھوڑی تھی (اس چادر کا ان کو کفن دیا گیا تھا) اس چادر سے ہم اگر ان کا سر ڈھکتے تو ان کے پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھکتے تو سر کھل جاتا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھک دیں اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دیں اور کوئی ہم میں سے ایسے ہوئے جن کے پھل خوب پکے اور وہ مزے سے چن چن کر کھا رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 6448]
حضرت ابو وائل سے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم نے حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی عیادت کی تو انہوں نے فرمایا: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے ہجرت کی تو ہمارا اجر اللہ کے ذمے ثابت ہو گیا۔ ہم میں سے کچھ ساتھی اللہ کو پیارے ہو گئے اور انہوں نے اپنے اجر سے کچھ نہ لیا۔ ان میں حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ (تھے) جو غزوہ احد میں شہید ہوئے تھے۔ انہوں نے (ترکے میں) صرف ایک چادر چھوڑی تھی، جب ہم بطور کفن ان کا سر ڈھانپتے تو ان کے پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب پاؤں چھپاتے تو سر ننگا ہو جاتا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ان کا سر ڈھانپ دیں اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دیں۔ اور ہم میں سے کچھ وہ بھی ہیں جن کے پھل دنیا میں خوب پکے اور وہ مزے سے چن چن کر کھا رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 6448]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں