صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب حج الصبيان:
باب: بچوں کا حج کرنا۔
حدیث نمبر: 1858
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ:" حُجَّ بِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ".
ہم سے عبدالرحمٰن بن یونس نے بیان کیا، ان سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے محمد بن یوسف نے اور ان سے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرایا گیا تھا۔ میں اس وقت سات سال کا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1858]
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرایا گیا جبکہ میں اس وقت سات برس کا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1858]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2712
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ مَرْوَانَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يُخْبِرَانِ عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَمَّا كَاتَبَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو يَوْمَئِذٍ كَانَ فِيمَا اشْتَرَطَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يَأْتِيكَ مِنَّا أَحَدٌ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا، وَخَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ، فَكَرِهَ الْمُؤْمِنُونَ ذَلِكَ وَامْتَعَضُوا مِنْهُ، وَأَبَى سُهَيْلٌ إِلَّا ذَلِكَ، فَكَاتَبَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ، فَرَدَّ يَوْمَئِذٍ أَبَا جَنْدَلٍ إِلَى أَبِيهِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، وَلَمْ يَأْتِهِ أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ إِلَّا رَدَّهُ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ وَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا، وَجَاءَ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ، وَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ مِمَّنْ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ وَهِيَ عَاتِقٌ، فَجَاءَ أَهْلُهَا يَسْأَلُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَهَا إِلَيْهِمْ، فَلَمْ يَرْجِعْهَا إِلَيْهِمْ لِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِنَّ إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ إِلَى قَوْلِهِ وَلا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ سورة الممتحنة آية 10.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہوں نے خلیفہ مروان اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے سنا، یہ دونوں حضرات اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دیتے تھے کہ جب سہیل بن عمرو نے (حدیبیہ میں کفار قریش کی طرف سے معاہدہ صلح) لکھوایا تو جو شرائط نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سہیل نے رکھی تھیں، ان میں یہ شرط بھی تھیں کہ ہم میں سے کوئی بھی شخص اگر آپ کے یہاں (فرار ہو کر) چلا جائے خواہ وہ آپ کے دین پر ہی کیوں نہ ہو تو آپ کو اسے ہمارے حوالہ کرنا ہو گا۔ مسلمان یہ شرط پسند نہیں کر رہے تھے اور اس پر انہیں دکھ ہوا تھا۔ لیکن سہیل نے اس شرط کے بغیر صلح قبول نہ کی۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی شرط پر صلح نامہ لکھوا لیا۔ اتفاق سے اسی دن ابوجندل رضی اللہ عنہ کو جو مسلمان ہو کر آیا تھا (معاہدہ کے تحت بادل ناخواستہ) ان کے والد سہیل بن عمرو کے حوالے کر دیا گیا۔ اسی طرح مدت صلح میں جو مرد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (مکہ سے بھاگ کر آیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان کے حوالے کر دیا۔ خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ رہا ہو۔ لیکن چند ایمان والی عورتیں بھی ہجرت کر کے آ گئی تھیں، ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا بھی ان میں شامل تھیں جو اسی دن (مکہ سے نکل کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی تھیں، وہ جوان تھیں اور جب ان کے گھر والے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے حوالے نہیں فرمایا، بلکہ عورتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ (سورۃ الممتحنہ میں) ارشاد فرما چکا تھا «{ إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن الله أعلم بإيمانهن } إلى قوله { ولا هم يحلون لهن }.» ”جب مسلمان عورتیں تمہارے یہاں ہجرت کر کے پہنچیں تو پہلے تم ان کا امتحان لے لو، یوں تو ان کے ایمان کے متعلق جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد تک کہ ”کفار و مشرکین ان کے لیے حلال نہیں ہیں الخ۔“ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 2712]
حضرت مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بیان کرتے ہیں کہ جب سہیل بن عمرو نے صلح حدیبیہ کے دن صلح نامہ لکھوایا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ شرط رکھی کہ ہمارا جو آدمی بھی آپ کے پاس آئے گا، خواہ وہ آپ کے دین پر ہی کیوں نہ ہو، آپ کو اسے ہمارے ہاں واپس کرنا ہوگا، آپ اس کے اور ہمارے درمیان راستہ خالی کر دیں گے۔ مسلمانوں نے اس شرط کو ناپسند کیا اور وہ اس کے باعث غصے سے بھر گئے لیکن سہیل اس شرط کے بغیر صلح کرنے پر تیار نہ ہوا۔ آخر کار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط پر صلح کر لی اور اسی روز ابو جندل رضی اللہ عنہ کو اس کے والد سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا۔ پھر مردوں میں سے جو بھی آتا آپ اسے اس مدت کے دوران میں واپس کرتے رہے اگرچہ وہ مسلمان ہو کر آتا۔ اب کچھ اہل ایمان خواتین بھی ہجرت کر کے آئیں، ان عورتوں میں عقبہ بن ابو معیط کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا بھی تھیں جنہوں نے اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی اور وہ نوجوان عورت تھیں۔ ان کے اہل خانہ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی واپسی کا مطالبہ کرنے لگے، لیکن آپ نے اسے ان کی طرف واپس نہ کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق حکم نازل کیا تھا: ﴿جب اہل ایمان خواتین تمہاری طرف ہجرت کر کے آئیں تو ان کا امتحان لو (ان کی جانچ پڑتال کرو۔) اللہ تو ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے۔ اگر تمہیں ان کے ایمان کا یقین ہو جائے تو پھر انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ ایسی عورتیں کافروں کے لیے حلال نہیں اور نہ کافر ہی ان کے لیے حلال ہیں﴾ [سورة الممتحنة: 10] ۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 2712]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7230
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَبَّيْنَا بِالْحَجِّ وَقَدِمْنَا مَكَّةَ لِأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً وَنَحِلَّ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ مَعَ أَحَدٍ مِنَّا هَدْيٌ غَيْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَطَلْحَةَ، وَجَاءَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ مَعَهُ الْهَدْيُ، فَقَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: نَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى، وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ، وَلَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لَحَلَلْتُ، قَالَ: وَلَقِيَهُ سُرَاقَةُ وَهُوَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَنَا هَذِهِ خَاصَّةً، قَالَ: لَا، بَلْ لِأَبَدٍ، قَالَ: وَكَانَتْ عَائِشَةُ قَدِمَتْ مَعَهُ مَكَّةَ وَهِيَ حَائِضٌ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَنْسُكَ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنَّهَا لَا تَطُوفُ وَلَا تُصَلِّي حَتَّى تَطْهُرَ، فَلَمَّا نَزَلُوا الْبَطْحَاءَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَتَنْطَلِقُونَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَنْطَلِقُ بِحَجَّةٍ، قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنْ يَنْطَلِقَ مَعَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرَتْ عُمْرَةً فِي ذِي الْحَجَّةِ بَعْدَ أَيَّامِ الْحَجِّ".
ہم سے حسن بن عمر جرمی نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع بصریٰ نے، ان سے حبیب بن ابی قریبہ نے، ان سے عطاء بن ابی رباح نے، ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (حجۃ الوداع کے موقع پر) ساتھ تھے، پھر ہم نے حج کے لیے تلبیہ کہا اور 4 ذی الحجہ کو مکہ پہنچے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیت اللہ اور صفا اور مروہ کے طواف کا حکم دیا اور یہ کہ ہم اسے عمرہ بنا لیں اور اس کے بعد حلال ہو جائیں (سوا ان کے جن کے ساتھ قربانی کا جانور ہو وہ حلال نہیں ہو سکتے) بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور طلحہ رضی اللہ عنہ کے سوا ہم میں سے کسی کے پاس قربانی کا جانور نہ تھا اور علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے اور ان کے ساتھ بھی ہدی تھی اور کہا کہ میں بھی اس کا احرام باندھ کر آیا ہوں جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے، پھر دوسرے لوگ کہنے لگے کہ کیا ہم اپنی عورتوں کے ساتھ صحبت کرنے کے بعد منیٰ جا سکتے ہیں؟ (اس حال میں کہ ہمارے ذکر منی ٹپکاتے ہوں؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ جو بات مجھے بعد میں معلوم ہوئی اگر پہلے ہی معلوم ہوتی تو میں ہدی ساتھ نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی حلال ہو جاتا۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سراقہ بن مالک نے ملاقات کی۔ اس وقت آپ بڑے شیطان پر رمی کر رہے تھے اور پوچھا یا رسول اللہ! (کیا) یہ ہمارے لیے خاص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی مکہ آئی تھیں لیکن وہ حائضہ تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تمام اعمال حج ادا کرنے کا حکم دیا، صرف وہ پاک ہونے سے پہلے طواف نہیں کر سکتی تھیں اور نہ نماز پڑھ سکتی تھیں۔ جب سب لوگ بطحاء میں اترے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ سب لوگ عمرہ و حج دونوں کر کے لوٹیں گے اور میرا صرف حج ہو گا؟ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ عائشہ کو ساتھ لے کر مقام تنعیم جائیں۔ چنانچہ انہوں نے بھی ایام حج کے بعد ذی الحجہ میں عمرہ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 7230]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اور ہم نے حج کے لیے احرام باندھا اور تلبیہ کہا۔ جب ہم چار ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیت اللہ کے طواف اور صفا مروہ کی سعی کا حکم دیا، نیز یہ (بھی فرمایا) کہ ہم حج کو عمرہ بنالیں اور اس کے بعد احرام کھول دیں سوائے ان لوگوں کے جن کے پاس قربانی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے پاس قربانی کا جانور نہیں تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے اور ان کے ساتھ بھی قربانی کے جانور تھے۔ انہوں نے احرام باندھتے وقت یہ کہا تھا: ”میرا احرام وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔“ لوگوں نے کہا: ”کیا ہم منیٰ کی طرف اس حالت میں جائیں گے کہ ہم سے منی ٹپک رہی ہوگی؟“ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بات مجھے اب معلوم ہوئی ہے اگر پہلے معلوم ہوجاتی تو میں اپنے ساتھ قربانی نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ قربانی نہ ہوتی تو یقیناً میں بھی حلال ہوجاتا۔“ اس دوران میں حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے جبکہ وہ جمرہ عقبہ کو پتھر مار رہے تھے انہوں نے پوچھا: ”اللہ کے رسول! کیا یہ ہمارے لیے خاص ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”نہیں بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے ہے۔“ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جب مکہ مکرمہ آئیں تو وہ حیض کی حالت میں تھیں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ ”وہ حج ادا کریں لیکن بیت اللہ کا طواف نہ کریں اور نہ نماز ہی پڑھیں حتیٰ کہ پاک ہوجائیں۔“ جب لوگ بطحاء میں آئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! آپ لوگ تو حج اور عمرہ کرکے واپس جائیں گے اور میں صرف حج کرکے لوٹ رہی ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تنعیم جائیں چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایام حج کے بعد ذوالحجہ میں عمرہ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 7230]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة