صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ الْحَائِضُ تُرَجِّلُ الْمُعْتَكِفَ:
باب: اگر حیض والی عورت اس مرد کے سر میں کنگھی کرے جو اعتکاف میں ہو۔
حدیث نمبر: 2028
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْغِي إِلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ مُجَاوِرٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَأُرَجِّلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے باپ نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف ہوتے اور سر مبارک میری طرف جھکا دیتے پھر میں اس میں کنگھا کر دیتی، حالانکہ میں اس وقت حیض سے ہوا کرتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 2028]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف ہوتے، آپ میری طرف اپنا سر مبارک جھکا دیتے تو میں آپ کو کنگھی کرتی، حالانکہ میں بحالت حیض ہوتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 2028]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 295
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِضٌ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہمیں خبر دی مالک نے ہشام بن عروہ سے، وہ اپنے والد سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کو حائضہ ہونے کی حالت میں بھی کنگھا کیا کرتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 295]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں بحالت حیض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں کنگھی کیا کرتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 295]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 395
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ، عَنْ رَجُلٍ طَافَ بِالْبَيْتِ الْعُمْرَةَ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، أَيَأْتِي امْرَأَتَهُ؟ فَقَالَ:" قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ".
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے، کہا ہم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا جس نے بیت اللہ کا طواف عمرہ کے لیے کیا لیکن صفا اور مروہ کی سعی نہیں کی، کیا ایسا شخص (بیت اللہ کے طواف کے بعد) اپنی بیوی سے صحبت کر سکتا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے سات مرتبہ بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھی، پھر صفا اور مردہ کی سعی کی اور تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔“ (الاحزاب: 21) [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 395]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان سے ایک شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے بیت اللہ کا طواف کیا لیکن صفا اور مروہ کے درمیان ابھی سعی نہیں کی، تو کیا وہ اپنی بیوی کے پاس آ سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم (ایک دفعہ) مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے، پھر آپ نے مقامِ ابراہیم کے پیچھے دو رکعت پڑھیں، اس کے بعد صفا و مروہ کے درمیان سعی فرمائی۔ ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 395]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 396
وَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: لَا يَقْرَبَنَّهَا حَتَّى يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ.
عمرو بن دینار نے کہا، ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے بھی یہی فرمایا کہ وہ بیوی کے قریب بھی اس وقت تک نہ جائے جب تک صفا اور مروہ کی سعی نہ کر لے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 396]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان سے مذکورہ شخص کے متعلق سوال ہوا تو فرمایا: صفا اور مروہ کے طواف سے پہلے ہرگز اپنی بیوی سے صحبت نہ کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 396]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2029
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُدْخِلُ عَلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَأُرَجِّلُهُ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ، إِذَا كَانَ مُعْتَكِفًا".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے (اعتکاف کی حالت میں) سر مبارک میری طرف حجرہ کے اندر کر دیتے، اور میں اس میں کنگھا کر دیتی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب معتکف ہوتے تو بلا حاجت گھر میں تشریف نہیں لاتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 2029]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحالتِ اعتکاف مسجد میں رہتے ہوئے اپنا سر مبارک میری طرف جھکا دیتے تو میں آپ کو کنگھی کر دیتی تھی، اور جب آپ معتکف ہوتے تو گھر میں بلا ضرورت تشریف نہ لاتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 2029]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2046
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُف، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" أَنَّهَا كَانَتْ تُرَجِّلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حَائِضٌ، وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ، وَهِيَ فِي حُجْرَتِهَا يُنَاوِلُهَا رَأْسَهُ".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ وہ حائضہ ہوتی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں اعتکاف میں ہوتے تھے، پھر بھی وہ آپ کے سر میں اپنے حجرہ ہی میں کنگھا کرتی تھیں۔ آپ اپنا سر مبارک ان کی طرف بڑھا دیتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 2046]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کو دھویا کرتی تھیں، حالانکہ وہ بحالت حیض ہوتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف ہوتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے حجرے میں ہوتیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک ان کی طرف جھکا دیتے تو وہ اسے دھو دیتی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 2046]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5925
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِضٌ"، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، مِثْلَهُ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے خبر دی، انہیں عروہ بن زبیر نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں حالت حیض کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں کنگھا کرتی تھی۔ ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی طرح یہ حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 5925]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں حالتِ حیض کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں کنگھی کرتی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 5925]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة