صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
110. باب بيع المدبر:
باب: مدبر کا بیچنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 2230
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" بَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُدَبَّرَ".
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن کہیل نے، ان سے عطاء نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر غلام بیچا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2230]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مدبر غلام کو فروخت کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2230]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2141
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ الْمُكْتِبُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ فَاحْتَاجَ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي؟ فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِكَذَا وَكَذَا، فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ".
ہم سے بشیر بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں حسین مکتب نے خبر دی، انہیں عطاء بن ابی رباح نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص نے اپنا ایک غلام اپنے مرنے کے بعد کی شرط کے ساتھ آزاد کیا۔ لیکن اتفاق سے وہ شخص مفلس ہو گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے غلام کو لے کر فرمایا کہ اسے مجھ سے کون خریدے گا۔ اس پر نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے اتنی اتنی قیمت پر خرید لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام ان کے حوالہ کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2141]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزادی کا اختیار سونپ دیا مگر وہ شخص کچھ مدت کے بعد محتاج ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام کو پکڑ کر فرمایا: ”اس غلام کو مجھ سے کون خریدتا ہے؟“ حضرت نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کسی قدر مال کے عوض اسے خرید لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قیمت اس کے مالک کو دے دی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2141]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة