🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
63. باب غسل الدم:
باب: حیض کا خون دھونا ضروری ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 227
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: أَرَأَيْتَ إِحْدَانَا تَحِيضُ فِي الثَّوْبِ، كَيْفَ تَصْنَعُ؟ قَالَ:" تَحُتُّهُ، ثُمَّ تَقْرُصُهُ بِالْمَاءِ وَتَنْضَحُهُ وَتُصَلِّي فِيهِ".
ہم سے محمد ابن المثنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے ہشام کے واسطے سے بیان کیا، ان سے فاطمہ نے اسماء کے واسطے سے، وہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ یا رسول اللہ! فرمائیے ہم میں سے کسی عورت کو کپڑے میں حیض آ جائے (تو) وہ کیا کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (کہ پہلے) اسے کھرچے، پھر پانی سے رگڑے اور پانی سے دھو ڈالے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھ لے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 227]
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا: بتائیے ہم میں سے اگر کسی عورت کو حیض آئے اور کپڑے کو لگ جائے تو وہ کیا کرے؟ آپ نے فرمایا: اسے کھرچ ڈالے، پھر پانی ڈال کر رگڑے اور دھو ڈالے، پھر اس میں نماز پڑھ لے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 227]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 307
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِحْدَانَا إِذَا أَصَابَ ثَوْبَهَا الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ كَيْفَ تَصْنَعُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَصَابَ ثَوْبَ إِحْدَاكُنَّ الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ فَلْتَقْرُصْهُ، ثُمَّ لِتَنْضَحْهُ بِمَاءٍ، ثُمَّ لِتُصَلِّي فِيهِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے بیان کیا، انہوں نے ہشام بن عروہ کے واسطے سے، انہوں نے فاطمہ بنت منذر سے، انہوں نے اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ اس نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آپ ایک ایسی عورت کے متعلق کیا فرماتے ہیں جس کے کپڑے پر حیض کا خون لگ گیا ہو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی عورت کے کپڑے پر حیض کا خون لگ جائے تو چاہیے کہ اسے رگڑ ڈالے، اس کے بعد اسے پانی سے دھوئے، پھر اس کپڑے میں نماز پڑھ لے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 307]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! جب ہم عورتوں میں سے کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو وہ کیا عمل کرے؟ اس کے متعلق ارشاد فرمائیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو اسے اپنی چٹکیوں سے ملے، پھر اسے پانی سے دھو ڈالے، پھر اس میں نماز پڑھ لے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 307]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں