صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب قبول الهدية:
باب: ہدیہ کا قبول کرنا۔
حدیث نمبر: 2575
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" أَهْدَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ خَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقِطًا وَسَمْنًا وَأَضُبًّا، فَأَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَقِطِ وَالسَّمْنِ وَتَرَكَ الضَّبَّ تَقَذُّرًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جعفر بن ایاس نے بیان کیا، کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ان کی خالہ ام حفید رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پنیر، گھی اور گوہ (ساہنہ) کے تحائف بھیجے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پنیر اور گھی میں سے تو تناول فرمایا لیکن گوہ پسند نہ ہونے کی وجہ سے چھوڑ دی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (اسی) دستر خوان پر گوہ (ساہنہ) کو بھی کھایا گیا اور اگر وہ حرام ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر کیوں کھائی جاتی۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2575]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کی خالہ ام حفید رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پنیر، گھی اور سانڈے کا ہدیہ بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پنیر اور گھی میں سے تو کچھ کھا لیا لیکن سانڈا ناگواری کی وجہ سے چھوڑ دیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سانڈا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر کھایا گیا۔ اگر حرام ہوتا تو کم از کم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر اسے نہ کھایا جاتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2575]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5389
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ أُمَّ حُفَيْدٍ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ حَزْنٍ خَالَةَ ابْنِ عَبَّاسٍ أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا، فَدَعَا بِهِنَّ، فَأُكِلْنَ عَلَى مَائِدَتِهِ وَتَرَكَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَالْمُسْتَقْذِرِ لَهُنَّ، وَلَوْ كُنَّ حَرَامًا مَا أُكِلْنَ عَلَى مَائِدَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَمَرَ بِأَكْلِهِنَّ".
ہم سے ابونعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ ام حفید بنت حارث بن حزن رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھی، پنیر اور ساہنہ ہدیہ کے طور پر بھیجی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو بلایا اور انہوں نے آپ کے دستر خوان پر ساہنہ کو کھایا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہاتھ بھی نہیں لگایا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند کرتے ہیں۔ لیکن اگر ساہنہ حرام ہوتا تو آپ کے دستر خوان پر کھایا نہ جاتا اور نہ آپ انہیں کھانے کے لیے فرماتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 5389]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ان کی خالہ حضرت ام حفید بنت حارث بن حزن رضی اللہ عنہا نے گھی، پنیر اور سانڈے ہدیے کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام چیزوں کو منگوایا، انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر کھایا گیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طبعی کراہت کی وجہ سے ان کی طرف ہاتھ نہ بڑھایا۔ اگر یہ حرام ہوتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر نہ کھائے جاتے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تناول کرنے کا حکم ہی دیتے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 5389]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5402
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" أَهْدَتْ خَالَتِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضِبَابًا وَأَقِطًا وَلَبَنًا، فَوُضِعَ الضَّبُّ عَلَى مَائِدَتِهِ، فَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُوضَعْ وَشَرِبَ اللَّبَنَ وَأَكَلَ الْأَقِطَ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کی، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میری خالہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ساہنہ کا گوشت، پنیر اور دودھ ہدیتاً پیش کیا تو ساہنہ کا گوشت آپ کے دستر خوان پر رکھا گیا اور اگر ساہنہ حرام ہوتا تو آپ کے دستر خوان پر نہیں رکھا جا سکتا تھا لیکن آپ نے دودھ پیا اور پنیر کھایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 5402]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میری خالہ (ام حفید رضی اللہ عنہا) نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سانڈے، پنیر اور دودھ بطور تحفہ بھیجے، سانڈا آپ کے دسترخوان پر رکھا گیا۔ اگر یہ حرام ہوتا تو آپ کے دسترخوان پر نہ رکھا جاتا، آپ نے دودھ نوش فرمایا اور پنیر کھا لیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 5402]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7358
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ أُمَّ حُفَيْدٍ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ حَزْنٍ أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا، فَدَعَا بِهِنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُكِلْنَ عَلَى مَائِدَتِهِ، فَتَرَكَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَالْمُتَقَذِّرِ لَهُنَّ، وَلَوْ كُنَّ حَرَامًا مَا أُكِلْنَ عَلَى مَائِدَتِهِ وَلَا أَمَرَ بِأَكْلِهِنَّ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ام حفید بنت حارث بن حزن رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھی اور پنیر اور بھنا ہوا سانڈا ہدیہ میں بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ چیزیں قبول فرما لیں اور آپ کے دستر خوان پر انہیں کھایا گیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (سانڈے کو) ہاتھ نہیں لگایا، جیسے آپ کو پسند نہ ہو اور اگر وہ حرام ہوتا تو آپ کے دستر خوان پر نہ کھایا جاتا اور نہ آپ کھانے کے لیے کہتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 7358]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ام حفید بنت حزن رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گھی، پنیر اور سانڈے بطور تحفہ پیش کیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قبول فرما لیا۔ پھر آپ کے دستر خوان پر انہیں کھایا گیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سانڈے کو ہاتھ نہیں لگایا جیسے آپ کو وہ پسند نہ ہو۔ اگر وہ حرام ہوتا تو آپ کے دستر خوان پر نہ کھایا جاتا اور نہ آپ کسی دوسرے کو اسے کھانے کا حکم ہی دیتے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 7358]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة