🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. بَابُ الْمُكَافَأَةِ فِي الْهِبَةِ:
باب: ہبہ کا معاوضہ (بدلہ) ادا کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2585
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ، وَيُثِيبُ عَلَيْهَا". لَمْ يَذْكُرْ وَكِيعٌ، وَمُحَاضِرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرما لیا کرتے۔ لیکن اس کا بدلہ بھی دے دیا کرتے تھے۔ اس حدیث کو وکیع اور محاضر نے بھی روایت کیا، مگر انہوں نے اس کو ہشام سے، انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2585]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرما لیتے اور اس کا بدلہ بھی دیتے تھے۔ وکیع اور محاضر نے ہشام «عَنْ أَبِيهِ» کے طریق سے اس روایت کو (موصول) ذکر نہیں کیا۔ (یعنی صرف عیسیٰ بن یونس نے اس طریق سے موصول بیان کیا ہے۔) [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2585]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2587
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ:" أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَّةً، فَقَالَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ: لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَعْطَيْتُ ابْنِي مِنْ عَمْرَةَ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَّةً، فَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَعْطَيْتَ سَائِرَ وَلَدِكَ مِثْلَ هَذَا، قَالَ: لَا، قَالَ: فَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ، قَالَ: فَرَجَعَ فَرَدَّ عَطِيَّتَهُ".
ہم سے حامد بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا حصین سے، وہ عامر سے کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا وہ منبر پر بیان کر رہے تھے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دیا، تو عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا (نعمان کی والدہ) نے کہا کہ جب تک آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ نہ بنائیں میں راضی نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ (حاضر خدمت ہو کر) انہوں نے عرض کیا کہ عمرہ بنت رواحہ سے اپنے بیٹے کو میں نے ایک عطیہ دیا تو انہوں نے کہا کہ پہلے میں آپ کو اس پر گواہ بنا لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اسی جیسا عطیہ تم نے اپنی تمام اولاد کو دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کو قائم رکھو۔ چنانچہ وہ واپس ہوئے اور ہدیہ واپس لے لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2587]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے برسرِ منبر کہا کہ میرے والد نے مجھے کچھ عطیہ دیا تو میری والدہ حضرت عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ نہ بناؤ۔ لہٰذا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: میں نے حضرت عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہونے والے اس بیٹے کو کچھ عطیہ دیا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! عمرہ کے کہنے کے مطابق آپ کو اس پر گواہ بنانا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: آیا تم نے اپنی تمام اولاد کو اتنا ہی دیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل و انصاف کیا کرو۔ حضرت نعمان رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ (یہ سن کر) میرے والد لوٹ آئے اور انہوں نے دی ہوئی چیز واپس لے لی۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2587]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2650
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَأَلَتْ أُمِّي أَبِي بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ لِي مِنْ مَالِهِ، ثُمَّ بَدَا لَهُ فَوَهَبَهَا لِي، فَقَالَتْ: لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ بِيَدِي وَأَنَا غُلَامٌ، فَأَتَى بِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُمَّهُ بِنْتَ رَوَاحَةَ سَأَلَتْنِي بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ لِهَذَا، قَالَ: أَلَكَ وَلَدٌ سِوَاهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأُرَاهُ؟ قَالَ:" لَا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ". وَقَالَ أَبُو حَرِيزٍ: عَنِ الشَّعْبِيِّ، لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو ابوحیان تیمی (یحییٰ بن سعید) نے، انہیں شعبی نے، اور ان سے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میری ماں نے میرے باپ سے مجھے ایک چیز ہبہ دینے کے لیے کہا (پہلے تو انہوں نے انکار کیا کیونکہ دوسری بیوی کے بھی اولاد تھی) پھر راضی ہو گئے اور مجھے وہ چیز ہبہ کر دی۔ لیکن ماں نے کہا کہ جب تک آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معاملہ میں گواہ نہ بنائیں میں اس پر راضی نہ ہوں گی۔ چنانچہ والد میرا ہاتھ پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں ابھی نوعمر تھا۔ انہوں نے عرض کیا کہ اس لڑکے کی ماں عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا مجھ سے ایک چیز اسے ہبہ کرنے کے لیے کہہ رہی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا اس کے علاوہ اور بھی تمہارے لڑکے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں، ہیں۔ نعمان رضی اللہ عنہ! نے بیان کیا، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا تو مجھ کو ظلم کی بات پر گواہ نہ بنا۔ اور ابوحریز نے شعبی سے یہ نقل کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ظلم کی بات پر گواہ نہیں بنتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2650]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میری والدہ نے میرے باپ سے میرے لیے کچھ مال ہبہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ والد نے کچھ سوچ و بچار کے بعد میرے لیے کچھ مال دے دیا۔ پھر والدہ نے کہا: جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات پر گواہ نہ کر لو میں راضی نہیں، چنانچہ میرے والد نے میرا ہاتھ پکڑا کیونکہ میں اس وقت کمسن بچہ تھا اور مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اور عرض کیا: اس لڑکے کی ماں بنت رواحہ نے اس کے لیے مجھ سے ہبہ کا مطالبہ کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اس کے علاوہ تمہاری اور اولاد بھی ہے؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میرے خیال کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس ظلم پر گواہ نہ بناؤ۔ ابو حریز کی شعبی سے بیان کردہ روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2650]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں