صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب قول الله تعالى: {من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر وما بدلوا تبديلا} :
باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ ”مومنوں میں کچھ وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے اس وعدہ کو سچ کر دکھایا جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا، پس ان میں کچھ تو ایسے ہیں جو (اللہ کے راستے میں شہید ہو کر) اپنا عہد پورا کر چکے اور کچھ ایسے ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور اپنے عہد سے وہ پھرے نہیں ہیں“۔
حدیث نمبر: 2807
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ أُرَاهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ نَسَخْتُ الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ، فَفَقَدْتُ آيَةً مِنْ سُورَةِ الْأَحْزَابِ كُنْتُ أَسْمَع رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ بِهَا فَلَمْ أَجِدْهَا إِلَّا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ الَّذِي جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ" وَهُوَ قَوْلُهُ" مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ" سورة الأحزاب آية 23.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی زہری سے ‘ دوسری سند اور مجھ سے اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے بھائی نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان نے ‘ میرا خیال ہے کہ محمد بن عتیق کے واسطہ سے ‘ ان سے ابن شہاب (زہری) نے اور ان سے خارجہ بن زید نے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب قرآن مجید کو ایک مصحف (کتابی) کی صورت میں جمع کیا جانے لگا تو میں نے سورۃ الاحزاب کی ایک آیت نہیں پائی جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے برابر آپ کی تلاوت کرتے ہوئے سنتا رہا تھا جب میں نے اسے تلاش کیا تو) صرف خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے یہاں وہ آیت مجھے ملی۔ یہ خزیمہ رضی اللہ عنہ وہی ہیں جن کی اکیلے کی گواہی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیا تھا۔ وہ آیت یہ تھی «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه» (سورۃ الاحزاب: 23) ”مومنوں میں سے کچھ مرد ایسے ہیں جنہوں نے وہ بات سچ کہی جس پر انہوں نے اللہ سے عہد کیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2807]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں قرآن مجید کو مصاحف میں لکھ رہا تھا کہ میں نے اس دوران میں سورہ احزاب کی ایک آیت گم پائی جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے ہوئے سنا تھا۔ تلاشِ بسیار کے بعد وہ مجھے حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس مل گئی، جن کی گواہی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیا تھا۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ﴾ [سورة الأحزاب: 23] ”اہل ایمان میں سے کچھ لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2807]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4049
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ , سَمِعَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , يَقُولُ:" فَقَدْتُ آيَةً مِنْ الْأَحْزَابِ حِينَ نَسَخْنَا الْمُصْحَفَ كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا , فَالْتَمَسْنَاهَا فَوَجَدْنَاهَا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ سورة الأحزاب آية 23 فَأَلْحَقْنَاهَا فِي سُورَتِهَا فِي الْمُصْحَفِ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں خارجہ بن زید بن ثابت نے خبر دی انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ جب ہم قرآن مجید کو لکھنے لگے تو مجھے سورۃ الاحزاب کی ایک آیت (لکھی ہوئی) نہیں ملی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی تلاوت کرتے بارہا سنا تھا۔ پھر جب ہم نے اس کی تلاش کی تو وہ آیت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ہمیں ملی (آیت یہ تھی) «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر» پھر ہم نے اس آیت کو اس کی سورت میں قرآن مجید میں ملا دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4049]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب ہم نے قرآن لکھنا شروع کیا تو مجھے سورہ احزاب کی ایک آیت نہ ملی۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ پڑھتے سنا کرتا تھا۔ ہم نے تلاش کی تو وہ آیت ہمیں حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس سے دستیاب ہوئی۔ وہ آیت یہ تھی: ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ﴾ [سورة الأحزاب: 23] ”اہل ایمان میں سے کچھ ایسے مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اسے سچ (پورا) کر دکھایا۔ پھر ان میں سے کچھ تو اپنی نذر پوری کر چکے اور کچھ انتظار کر رہے ہیں۔“ پھر ہم نے اس آیت کو قرآن کریم کی اس سورت میں ذکر کر دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4049]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4679
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ مِمَّنْ يَكْتُبُ الْوَحْيَ، قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، وَعِنْدَهُ عُمَرُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي، فَقَالَ: إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِالنَّاسِ، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ فِي الْمَوَاطِنِ، فَيَذْهَبَ كَثِيرٌ مِنَ الْقُرْآنِ، إِلَّا أَنْ تَجْمَعُوهُ وَإِنِّي لَأَرَى أَنْ تَجْمَعَ الْقُرْآنَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قُلْتُ لِعُمَرَ: كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عُمَرُ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي فِيهِ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ لِذَلِكَ صَدْرِي، وَرَأَيْتُ الَّذِي رَأَى عُمَرُ، قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: وَعُمَرُ عِنْدَهُ جَالِسٌ لَا يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ، وَلَا نَتَّهِمُكَ، كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ، فَاجْمَعْهُ، فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفَنِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ، قُلْتُ: كَيْفَ تَفْعَلَانِ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ أَزَلْ أُرَاجِعُهُ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ اللَّهُ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وَ عُمَرَ، فَقُمْتُ فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الرِّقَاعِ، وَالْأَكْتَافِ، وَالْعُسُبِ، وَصُدُورِ الرِّجَالِ، حَتَّى وَجَدْتُ مِنْ سُورَةِ التَّوْبَةِ آيَتَيْنِ مَعَ خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ لَمْ أَجِدْهُمَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهِ، لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ سورة التوبة آية 128 إِلَى آخِرِهِمَا، وَكَانَتِ الصُّحُفُ الَّتِي جُمِعَ فِيهَا الْقُرْآنُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ. تَابَعَهُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ وَاللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، وَقَالَ: مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ، وَقَالَ مُوسَى، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ، وَتَابَعَهُ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ أَبُو ثَابِتٍ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، وَقَالَ: مَعَ خُزَيْمَةَ، أَوْ أَبِي خُزَيْمَةَ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھے عبیداللہ بن سباق نے خبر دی اور ان سے زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے جو کاتب وحی تھے، بیان کیا کہ جب (11 ھ) میں یمامہ کی لڑائی میں (جو مسلیمہ کذاب سے ہوئی تھی) بہت سے صحابہ مارے گئے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا، ان کے پاس عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا، عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا کہ جنگ یمامہ میں بہت زیادہ مسلمان شہید ہو گئے ہیں اور مجھے خطرہ ہے کہ (کفار کے ساتھ) لڑائیوں میں یونہی قرآن کے علماء اور قاری شہید ہوں گے اور اس طرح بہت سا قرآن ضائع ہو جائے گا۔ اب تو ایک ہی صورت ہے کہ آپ قرآن کو ایک جگہ جمع کرا دیں اور میری رائے تو یہ ہے کہ آپ ضرور قرآن کو جمع کرا دیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس پر میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا، ایسا کام میں کس طرح کر سکتا ہوں جو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ کی قسم! یہ تو محض ایک نیک کام ہے۔ اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے اس معاملہ پر بات کرتے رہے اور آخر میں اللہ تعالیٰ نے اس خدمت کے لیے میرا بھی سینہ کھول دیا اور میری بھی رائے وہی ہو گئی جو عمر رضی اللہ عنہ کی تھی۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ وہیں خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم جوان اور سمجھدار ہو ہمیں تم پر کسی قسم کا شبہ بھی نہیں اور تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی لکھا بھی کرتے تھے، اس لیے تم ہی قرآن مجید کو جابجا سے تلاش کر کے اسے جمع کر دو۔ اللہ کی قسم! کہ اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے کوئی پہاڑ اٹھا کے لے جانے کے لیے کہتے تو یہ میرے لیے اتنا بھاری نہیں تھا جتنا قرآن کی ترتیب کا حکم۔ میں نے عرض کیا آپ لوگ ایک ایسے کام کے کرنے پر کس طرح آمادہ ہو گئے، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تھا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ ایک نیک کام ہے۔ پھر میں ان سے اس مسئلہ پر گفتگو کرتا رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس خدمت کے لیے میرا بھی سینہ کھول دیا۔ جس طرح ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا سینہ کھولا تھا۔ چنانچہ میں اٹھا اور میں نے کھال، ہڈی اور کھجور کی شاخوں سے (جن پر قرآن مجید لکھا ہوا تھا، اس دور کے رواج کے مطابق) قرآن مجید کو جمع کرنا شروع کر دیا اور لوگوں کے (جو قرآن کے حافظ تھے) حافظہ سے بھی مدد لی اور سورۃ التوبہ کی دو آیتیں خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس مجھے ملیں۔ ان کے علاوہ کسی کے پاس مجھے نہیں ملی تھی۔ (وہ آیتیں یہ تھیں) «لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عنتم حريص عليكم» آخر تک۔ پھر مصحف جس میں قرآن مجید جمع کیا گیا تھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا، آپ کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کے پاس محفوظ رہا، پھر آپ کی وفات کے بعد آپ کی صاحبزادی (ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ رہا)۔ شعیب کے ساتھ اس حدیث کو عثمان بن عمر اور لیث بن سعد نے بھی یونس سے، انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا، اور لیث نے کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا اس میں خزیمہ کے بدلے ابوخزیمہ انصاری ہے اور موسیٰ نے ابراہیم سے روایت کی، کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، اس روایت میں بھی ابوخزیمہ ہے۔ موسیٰ بن اسماعیل کے ساتھ اس حدیث کو یعقوب بن ابراہیم نے بھی اپنے والد ابراہیم بن سعد سے روایت کیا اور ابوثابت محمد بن عبیداللہ مدنی نے، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا اس روایت میں شک کے ساتھ خزیمہ یا ابوخزیمہ مذکور ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4679]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ وحی لکھا کرتے تھے، انہوں نے فرمایا: ”جنگ یمامہ میں بہت سے صحابہ شہید ہو گئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا۔ آپ کے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (مجھ سے) فرمایا: ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا: جنگ یمامہ میں بہت زیادہ مسلمان شہید ہو گئے ہیں اور مجھے خطرہ ہے کہ اگر مختلف مقامات پر اسی طرح قراء صحابہ شہید ہوتے رہے تو قرآن مجید کا بہت حصہ ضائع ہو جائے گا۔ اب تو ایک ہی صورت ہے کہ آپ قرآن مجید کو ایک جگہ جمع کرا دیں اور میری رائے تو یہ ہے کہ آپ قرآن کریم کو جمع کرنے کا کام ضرور کر دیں۔“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میں ایسا کام کیونکر کر سکتا ہوں جو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! یہ تو محض ایک نیک کام ہے۔“ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے اس معاملے میں بات کرتے رہے، آخرکار اللہ تعالیٰ نے اس خدمت کے لیے میرا بھی سینہ کھول دیا اور میری بھی رائے وہی ہو گئی جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تھی۔“ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہیں خاموش بیٹھے ہوئے تھے، تاہم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: ”تم جوان ہمت اور سمجھ دار ہو، ہمیں تم پر کسی قسم کا شبہ بھی نہیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی بھی لکھا کرتے تھے، اس لیے تم ہی قرآن مجید کو جا بجا تلاش کر کے اسے جمع کر دو۔“ اللہ کی قسم! اگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھے کوئی پہاڑ اٹھا لانے کو کہتے تو یہ میرے لیے اتنا گراں نہ ہوتا جتنا قرآن مجید کی جمع و ترتیب کا حکم مشکل تھا۔ میں نے عرض کی: ”آپ دونوں حضرات ایک ایسا کام کرنے پر کس طرح آمادہ ہو گئے ہیں جسے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تھا؟“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ ایک نیک کام ہے۔“ پھر میں ان سے اس مسئلے کے متعلق بحث و تکرار کرتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس خدمت کے لیے میرا سینہ بھی کھول دیا جس طرح حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو شرح صدر فرمایا تھا، چنانچہ میں اٹھا اور کھال، ہڈی اور کھجور کی شاخوں سے قرآن مجید جمع کرنا شروع کر دیا اور لوگوں کے حافظے سے بھی مدد لی، حتی کہ سورہ توبہ کی دو آیات حضرت خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پائیں، وہ ان کے علاوہ اور کسی کے پاس (لکھی ہوئی) نہ تھیں اور وہ یہ ہیں: ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ * فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ﴾ [سورة التوبة: 128، 129] وہ اوراق جن میں قرآن جمع کیا گیا تھا وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دی، پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس رہے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فوت کر لیا۔ پھر وہ ام المومنین حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس رہے۔ عثمان بن عمر اور لیث نے یونس کے ذریعے سے ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت کرنے میں شعیب کی متابعت کی ہے۔ لیث نے کہا: ”مجھے عبدالرحمٰن بن خالد نے، ابن شہاب سے خبر دی اور کہا: ابو خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس وہ آیات تھیں۔“ موسیٰ نے ابراہیم سے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے خبر دی اور کہا کہ ابو خزیمہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھیں۔ یعقوب بن ابراہیم نے اپنے باپ سے بیان کرنے میں موسیٰ کی متابعت کی ہے۔ ابو ثابت نے کہا: ”ہمیں ابراہیم نے خبر دی اور کہا: وہ آیات خزیمہ یا ابو خزیمہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھیں۔““ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4679]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4784
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قَالَ:" لَمَّا نَسَخْنَا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ فَقَدْتُ آيَةً مِنْ سُورَةِ الْأَحْزَابِ كُنْتُ كَثِيرًا أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا لَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ إِلَّا مَعَ خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ الَّذِي جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ سورة الأحزاب آية 23".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ کو خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم قرآن مجید کو مصحف کی صورت میں جمع کر رہے تھے تو مجھے سورۃ الاحزاب کی ایک آیت (کہیں لکھی ہوئی) نہیں مل رہی تھی۔ میں وہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکا تھا۔ آخر وہ مجھے خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملی جن کی شہادت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مومن مردوں کی شہادت کے برابر قرار دیا تھا۔ وہ آیت یہ تھی «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه» ”اہل ایمان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اس میں وہ سچے اترے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4784]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب ہم نے قرآن مجید کو مصحف کی صورت میں جمع کیا تو مجھے سورہ احزاب کی ایک آیت نہیں مل رہی تھی، حالانکہ میں وہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بارہا سن چکا تھا۔ آخر وہ مجھے حضرت خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملی، جن کی شہادت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مردوں کی شہادت کے برابر قرار دیا تھا۔ وہ آیت یہ تھی: ﴿مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ﴾ [سورة الأحزاب: 23] ۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4784]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4986
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عِنْدَهُ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي، فَقَالَ:" إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ بِالْمَوَاطِنِ فَيَذْهَبَ كَثِيرٌ مِنَ الْقُرْآنِ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ. قُلْتُ لِعُمَرَ: كَيْفَ تَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عُمَرُ: هَذَا وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِذَلِكَ وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَى عُمَرُ"، قَالَ زَيْدٌ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّهِمُكَ وَقَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَتَبَّعَ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ، فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفُونِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ، قُلْتُ: كَيْفَ تَفْعَلُونَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ أَبُو بَكْرٍ يُرَاجِعُنِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الْعُسُبِ وَاللِّخَافِ وَصُدُورِ الرِّجَالِ حَتَّى وَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ، لَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهُ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ سورة التوبة آية 128 حَتَّى خَاتِمَةِ بَرَاءَةَ فَكَانَتِ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَيَاتَهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبید بن سباق نے اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ یمامہ میں (صحابہ کی بہت بڑی تعداد کے) شہید ہو جانے کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا۔ اس وقت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ یمامہ کی جنگ میں بہت بڑی تعداد میں قرآن کے قاریوں کی شہادت ہو گئی ہے اور مجھے ڈر ہے کہ اسی طرح کفار کے ساتھ دوسری جنگوں میں بھی قراء قرآن بڑی تعداد میں قتل ہو جائیں گے اور یوں قرآن کے جاننے والوں کی بہت بڑی تعداد ختم ہو جائے گی۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ آپ قرآن مجید کو (باقاعدہ کتابی شکل میں) جمع کرنے کا حکم دے دیں۔ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ایک ایسا کام کس طرح کریں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی زندگی میں) نہیں کیا؟ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا یہ جواب دیا کہ اللہ کی قسم! یہ تو ایک کارخیر ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ یہ بات مجھ سے باربار کہتے رہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ میں میرا بھی سینہ کھول دیا اور اب میری بھی وہی رائے ہو گئی جو عمر رضی اللہ عنہ کی تھی۔ زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا آپ (زید رضی اللہ عنہ) جوان اور عقلمند ہیں، آپ کو معاملہ میں متہم بھی نہیں کیا جا سکتا اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی لکھتے بھی تھے، اس لیے آپ قرآن مجید کو پوری تلاش اور محنت کے ساتھ ایک جگہ جمع کر دیں۔ اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ مجھے کسی پہاڑ کو بھی اس کی جگہ سے دوسری جگہ ہٹانے کے لیے کہتے تو میرے لیے یہ کام اتنا مشکل نہیں تھا جتنا کہ ان کا یہ حکم کہ میں قرآن مجید کو جمع کر دوں۔ میں نے اس پر کہا کہ آپ لوگ ایک ایسے کام کو کرنے کی ہمت کیسے کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نہیں کیا تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ ایک عمل خیر ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ جملہ برابر دہراتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا بھی ان کی اور عمر رضی اللہ عنہ کی طرح سینہ کھول دیا۔ چنانچہ میں نے قرآن مجید (جو مختلف چیزوں پر لکھا ہوا موجود تھا) کی تلاش شروع کر دی اور قرآن مجید کو کھجور کی چھلی ہوئی شاخوں، پتلے پتھروں سے، (جن پر قرآن مجید لکھا گیا تھا) اور لوگوں کے سینوں کی مدد سے جمع کرنے لگا۔ سورۃ التوبہ کی آخری آیتیں مجھے ابوخزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس لکھی ہوئی ملیں، یہ چند آیات مکتوب شکل میں ان کے سوا اور کسی کے پاس نہیں تھیں «لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عنتم» سے سورۃ براۃ (سورۃ توبہ) کے خاتمہ تک۔ جمع کے بعد قرآن مجید کے یہ صحیفے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس محفوظ تھے۔ پھر ان کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے جب تک وہ زندہ رہے اپنے ساتھ رکھا پھر وہ ام المؤمنین حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ رہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4986]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جنگِ یمامہ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا، اس وقت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس موجود تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے پاس حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آئے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ جنگِ یمامہ میں بہت سے قراءِ قرآن شہید ہو گئے ہیں اور مجھے اندیشہ ہے کہ اگر قراء کی شہادت کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو قراء ختم ہو جائیں گے اور قرآن کریم کا بہت سا حصہ بھی ان کے ساتھ جاتا رہے گا، اس لیے میری خواہش ہے کہ آپ قرآن مجید کو جمع کرنے کا حکم دیں۔ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تم وہ کیسے کرو گے؟ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کا یہ جواب دیا: اللہ کی قسم! یہ تو ایک کارِ خیر ہے، اور وہ میرے ساتھ اس سلسلے میں تکرار کرتے رہے، آخر اللہ تعالیٰ نے اس مسئلے میں میرا سینہ بھی کھول دیا اور میری بھی وہی رائے ہے جو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی تھی۔“ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا: ”تم ایک نوجوان اور عقل مند آدمی ہو، ہم نے تمہیں کسی معاملے میں متہم بھی نہیں کیا اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبِ وحی بھی تھے، اس لیے قرآن مجید کو پوری جستجو اور محنت کے ساتھ ایک جگہ جمع کر دو۔“ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! اگر وہ مجھے کوئی پہاڑ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم دیتے تو قرآن جمع کرنے کی نسبت یہ کام میرے لیے آسان تھا۔ بہرحال میں نے عرض کی: آپ حضرات وہ کام کیسے کر سکتے ہیں جو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ ایک عملِ خیر ہے، اور آپ میرے ساتھ تکرار کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے میرا سینہ کھول دیا جس کے لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا سینہ کھولا تھا۔ چنانچہ میں نے قرآن مجید کی تلاش شروع کر دی اور میں اسے کھجور کی شاخوں، باریک پتھروں اور لوگوں کے سینوں کی مدد سے جمع کرنے لگا، حتیٰ کہ سورہ توبہ کی آخری آیات مجھے حضرت ابو خزیمہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ملیں، یہ آیات ان کے علاوہ کسی اور کے پاس نہ تھیں: ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ﴾ [سورة التوبة: 128] ۔ جمع کرنے کے بعد یہ صحیفے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس رہے، پھر ان کی وفات کے بعد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے زندگی بھر انہیں اپنے پاس رکھا، ان کے بعد وہ ام المومنین حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ رہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4986]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4988
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، سَمِعَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قَالَ:" فَقَدْتُ آيَةً مِنَ الْأَحْزَابِ حِينَ نَسَخْنَا الْمُصْحَفَ، قَدْ كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا، فَالْتَمَسْنَاهَا، فَوَجَدْنَاهَا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ، فَأَلْحَقْنَاهَا فِي سُورَتِهَا فِي الْمُصْحَفِ".
ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے خارجہ بن زید بن ثابت نے خبر دی، انہوں نے زید بن ثابت سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب ہم (عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں) مصحف کی صورت میں قرآن مجید کو نقل کر رہے تھے، تو مجھے سورۃ الاحزاب کی ایک آیت نہیں ملی حالانکہ میں اس آیت کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کرتا تھا اور آپ اس کی تلاوت کیا کرتے تھے، پھر ہم نے اسے تلاش کیا تو وہ خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملی۔ وہ آیت یہ تھی «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه» چنانچہ ہم نے اس آیت کو سورۃ الاحزاب میں لگا دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4988]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ”جب ہم مصحف کی صورت میں قرآن مجید کو نقل کر رہے تھے تو مجھے سورہ احزاب کی ایک آیت نہیں مل رہی تھی، حالانکہ میں وہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کرتا تھا اور آپ اس کی تلاوت فرمایا کرتے تھے، پھر ہم نے اسے تلاش کیا تو وہ حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس سے ملی، وہ آیت یہ تھی: ﴿مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ﴾ [سورة الأحزاب: 23] چنانچہ ہم نے اس آیت کو مصحف میں سورہ احزاب کے ساتھ ملا دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4988]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4989
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ ابْنَ السَّبَّاقِ، قَالَ: إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" إِنَّكَ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّبِعِ الْقُرْآنَ، فَتَتَبَّعْتُ حَتَّى وَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ آيَتَيْنِ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ لَمْ أَجِدْهُمَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهِ: لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ سورة التوبة آية 128" إِلَى آخِرِهِ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبید ابن سباق نے بیان کیا اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں مجھے بلایا اور کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قرآن لکھتے تھے۔ اس لیے اب بھی قرآن (جمع کرنے کے لیے) تم ہی تلاش کرو۔ میں نے تلاش کی اور سورۃ التوبہ کی آخری دو آیتیں مجھے خزیمہ انصاری کے پاس لکھی ہوئی ملیں، ان کے سوا اور کہیں یہ دو آیتیں نہیں مل رہی تھیں۔ وہ آیتیں یہ تھیں «لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عنتم» آخر تک۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4989]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا کر فرمایا: ”تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وحی لکھا کرتے تھے لہذا تم ہی قرآن مجید کو محنت و جستجو سے جمع کرو۔“ چنانچہ میں نے تلاش شروع کی تو سورہ توبہ کی آخری دو آیات جو ابو خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس لکھی ہوئی ملیں، ان کے علاوہ اور کہیں سے یہ آیات دستیاب نہ ہو سکیں۔ وہ آیات یہ تھیں: ﴿لَقَدْ جَاءَکُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسِکُمْ عَزِیزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ﴾ [سورة التوبة: 128] ۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4989]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7191
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبوُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ:" بَعَثَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ لِمَقْتَلِ أَهْلِ الْيَمَامَةِ وَعِنْدَهُ عُمَرُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي، فَقَالَ: إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ فِي الْمَوَاطِنِ كُلِّهَا فَيَذْهَبَ قُرْآنٌ كَثِيرٌ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ، قُلْتُ: كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ عُمَرُ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ عُمَرَ، وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَى عُمَرُ، قَالَ زَيْدٌ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَإِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ، لَا نَتَّهِمُكَ، قَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ، فَاجْمَعْهُ، قَالَ زَيْدٌ: فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفَنِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ بِأَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا كَلَّفَنِي مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ، قُلْتُ: كَيْفَ تَفْعَلَانِ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَلَمْ يَزَلْ يَحُثُّ مُرَاجَعَتِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ اللَّهُ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وعُمَرَ، وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَيَا فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الْعُسُبِ، وَالرِّقَاعِ، وَاللِّخَافِ، وَصُدُورِ الرِّجَالِ، فَوَجَدْتُ فِي آخِرِ سُورَةِ التَّوْبَةِ: لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ سورة التوبة آية 128إِلَى آخِرِهَا مَعَ خُزَيْمَةَ، أَوْ أَبِي خُزَيْمَةَ، فَأَلْحَقْتُهَا فِي سُورَتِهَا، وَكَانَتِ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَيَاتَهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَيَاتَهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ"، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ: اللِّخَافُ يَعْنِي: الْخَزَفَ.
ہم سے محمد بن عبداللہ ابوثابت نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبید بن سابق نے اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہ جنگ یمامہ میں بکثرت (قاری صحابہ کی) شہادت کی وجہ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا۔ ان کے پاس عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ عمر میرے پاس آئے اور کہا کہ جنگ یمامہ میں قرآن کے قاریوں کا قتل بہت ہوا ہے اور میرا خیال ہے کہ دوسری جنگوں میں بھی اسی طرح وہ شہید کئے جائیں گے اور قرآن اکثر ضائع ہو جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ قرآن مجید کو (کتابی صورت میں) جمع کرنے کا حکم دیں۔ اس پر میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں کوئی ایسا کام کیسے کر سکتا ہوں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا واللہ! یہ تو کار خیر ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ اس معاملہ میں برابر مجھ سے کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسی طرح اس معاملے میں میرا بھی سینہ کھول دیا جس طرح عمر رضی اللہ عنہ کا تھا اور میں بھی وہی مناسب سمجھنے لگا جسے عمر رضی اللہ عنہ مناسب سمجھتے تھے۔ زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم جوان ہو، عقلمند ہو اور ہم تمہیں کسی بارے میں متہم بھی نہیں سمجھتے تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی بھی لکھتے تھے، پس تم اس قرآن مجید (کی آیات) کو تلاش کرو اور ایک جگہ جمع کر دو۔ زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ واللہ! اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھے کسی پہاڑ کو اٹھا کر دوسری جگہ رکھنے کا مکلف کرتے تو اس کا بوجھ بھی میں اتنا نہ محسوس کرتا جتنا کہ مجھے قرآن مجید کو جمع کرنے کے حکم سے محسوس ہوا۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ آپ کس طرح ایسا کام کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔ ابوبکر نے کہا کہ واللہ! یہ خیر ہے۔ چنانچہ مجھے آمادہ کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے میرا بھی سینہ کھول دیا جس کے لیے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا سینہ کھولا تھا اور میں بھی وہی مناسب خیال کرنے لگا جسے وہ لوگ مناسب خیال کر رہے تھے۔ چنانچہ میں نے قرآن مجید کی تلاش شروع کی۔ اسے میں کھجور کی چھال، چمڑے وغیرہ کے ٹکڑوں، پتلے پتھر کے ٹکڑوں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنے لگا۔ میں نے سورۃ التوبہ کی آخری آیت «لقد جاءكم رسول من أنفسكم» آخر تک خزیمہ یا ابوخزیمہ رضی اللہ عنہ کے پاس پائی اور اس کو سورت میں شامل کر لیا۔ (قرآن مجید کے یہ مرتب) صحیفے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہے جب تک وہ زندہ ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دی پھر وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے اور آخر وقت تک ان کے پاس رہے۔ جب آپ کو بھی اللہ تعالیٰ نے وفات دی تو وہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ رہے۔ محمد بن عبیداللہ نے کہا کہ «اللخاف» کے لفظ سے ٹھیکری مراد ہے جسے «خزف.» کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 7191]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یمامہ کی جنگ میں بکثرت شہادتوں کی بنا پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا۔ اس وقت ان کے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ جنگ میں قرآن کے قاریوں کا قتل بہت ہوا ہے اور مجھے ڈر ہے اگر اسی طرح قرآن کے قاری دوسری جنگوں میں قتل ہوتے رہے تو قرآن کا بہت سا حصہ ضائع ہو جائے گا۔ میرا خیال ہے کہ آپ قرآن جمع کرنے کا اہتمام کریں۔“ میں نے (انہیں) کہا: ”میں وہ کام کیسے کر سکتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! یہ تو کارِ خیر ہے۔“ اور وہ مسلسل میرے ساتھ اس مسئلے میں تکرار کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ اس کے لیے کھول دیا جس کے لیے عمر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھولا تھا اور میں بھی وہی مناسب خیال کرنے لگا جسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ مناسب سمجھتے تھے۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم جوان ہو، عقلمند ہو، ہم تمہیں کسی معاملے میں متہم (مشکوک) بھی نہیں خیال کرتے۔ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی لکھا کرتے تھے، لہذا تم قرآنی آیات کو تلاش کرو، پھر انہیں ایک جگہ جمع کر دو۔“ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! اگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھے پہاڑوں میں سے کوئی پہاڑ اٹھا لانے کی تکلیف دیتے تو اس کا بوجھ مجھے اتنا محسوس نہ ہوتا جتنا قرآن مجید کو جمع کرنے کے حکم سے محسوس ہوا۔“ میں نے ان حضرات سے کہا: ”آپ کس طرح ایسا کام کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ کارِ خیر ہے“، چنانچہ وہ مجھے اس کام کے لیے آمادہ کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے میرا سینہ بھی کھول دیا جس کے لیے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کا سینہ کھولا تھا اور میں بھی وہی مناسب خیال کرنے لگا جسے وہ مناسب سمجھتے تھے۔ بہرحال میں نے قرآن مجید کی تلاش شروع کر دی۔ میں اسے کھجور کی شاخوں، چمڑے کے ٹکڑوں، سفید پتھروں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنے لگا۔ میں نے سورہ توبہ کی آخری آیت ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ﴾ [سورة التوبة: 128] حضرت خزیمہ یا ابوحزیمہ رضی اللہ عنہ کے پاس پائی اور اسے سورت میں شامل کر دیا۔ اس کے بعد یہ مرتب صحیفے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہے، پھر جب اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دی تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فوت کر دیا۔ اس کے بعد وہ حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس رہے۔ محمد بن عبیداللہ نے کہا: ” «اللِّخَافُ» سے مراد ٹھیکریاں ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 7191]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7425
حَدَّثَنَا مُوسَى، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، وَقَالَ اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ، قَالَ:" أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ، فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ حَتَّى وَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ لَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهِ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ سورة التوبة آية 128 حَتَّى خَاتِمَةِ بَرَاءَةٌ"، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ بِهَذَا، وَقَالَ: مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ.
ہم سے موسیٰ بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم نے، انہوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبید بن سباق نے بیان کیا اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ اور لیث نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن سباق نے اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا، پھر میں نے قرآن کی تلاش کی اور سورۃ التوبہ کی آخری آیت ابوخزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پائی۔ یہ آیات مجھے کسی اور کے پاس نہیں ملی تھیں «لقد جاءكم رسول من أنفسكم» سورۃ برات کے آخر تک۔ ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا اور ان سے یونس نے یہی بیان کیا کہ ابوخزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس سورۃ توبہ کی آخری آیات پائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 7425]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ”حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے میری طرف پیغام بھیجا، پھر میں نے قرآن جمع کرنے کے لیے اس کی تلاش شروع کی، تو سورہ توبہ کی آخری آیات حضرت ابو خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس (ہی ملیں جو ان کے علاوہ کسی اور کے پاس) نہیں ملی تھیں۔ وہ آیات یہ تھیں: ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ﴾ [سورة التوبة: 128] سورہ براءت کے آخر تک۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 7425]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة