🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
103. باب من أراد غزوة فورى بغيرها، ومن أحب الخروج يوم الخميس:
باب: لڑائی کا مقام چھپانا (دوسرا مقام بیان کرنا) اور جمعرات کے دن سفر کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2948
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَلَّمَا يُرِيدُ غَزْوَةً يَغْزُوهَا إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا حَتَّى كَانَتْ غَزْوَةُ تَبُوكَ، فَغَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيدًا، وَمَفَازًا وَاسْتَقْبَلَ غَزْوَ عَدُوٍّ كَثِيرٍ، فَجَلَّى لِلْمُسْلِمِينَ أَمْرَهُمْ لِيَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ عَدُوِّهِمْ، وَأَخْبَرَهُمْ بِوَجْهِهِ الَّذِي يُرِيدُ".
اور مجھ سے احمد بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا آپ بیان کرتے تھے کہ ایسا کم اتفاق ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی جہاد کا قصد کریں اور وہی مقام بیان فرما کر اس کو نہ چھپائیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کو جانے لگے تو چونکہ یہ غزوہ بڑی سخت گرمی میں ہونا تھا، لمبا سفر تھا اور جنگلوں کو طے کرنا تھا اور مقابلہ بھی بہت بڑی فوج سے تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے صاف صاف فرما دیا تھا تاکہ دشمن کے مقابلہ کے لیے پوری تیاری کر لیں چنانچہ (غزوہ کے لیے) جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جانا تھا (یعنی تبوک) اس کا آپ نے صاف اعلان کر دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2948]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر طور پر جب کسی جنگ کا ارادہ کرتے تو اصل مقام چھپا کر کسی دوسرے مقام کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کو جانے لگے تو چونکہ اس وقت سخت گرمی تھی، دور دراز کا سفر، جنگلات کا سامنا اور کثیر تعداد دشمن سے مقابلہ کرنا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو صاف صاف بتا دیا تاکہ وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری پوری تیاری کر لیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں جانا تھا، اس کا صاف صاف اعلان کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2948]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2757
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ، قُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے کہا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن کعب نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میری توبہ (غزوہ تبوک میں نہ جانے کی) قبول ہونے کا شکرانہ یہ ہے کہ میں اپنا مال اللہ اور اس کے رسول کے راستے میں دیدوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اپنے مال کا ایک حصہ اپنے پاس ہی باقی رکھو تو تمہارے حق میں یہ بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا کہ پھر میں اپنا خیبر کا حصہ اپنے پاس محفوظ رکھتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2757]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری توبہ کا اتمام یہ ہے کہ میں اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کرکے اس سے دستبردار ہوجاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ اپنے پاس بھی رکھو، یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا: اپنا وہ حصہ اپنے پاس رکھ لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2757]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2947
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ غَزْوَةً إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ نے، کعب رضی اللہ عنہ (جب نابینا ہو گئے تھے) کے ساتھ ان کے دوسرے صاحبزادوں میں یہی عبداللہ انہیں لے کر راستے میں ان کے آگے آگے چلتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اصول یہ تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ کا ارادہ کرتے تو (مصلحت کے لیے) دوسرا مقام بیان کرتے (تاکہ دشمن کو خبر نہ ہو)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2947]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے (ان کے بیٹے) حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور (حضرت کعب رضی اللہ عنہ کے نابینا ہونے کے بعد) ان کے دوسرے بیٹوں میں سے وہی (عبداللہ رضی اللہ عنہ) انہیں راستے میں لے کر چلتے تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے (اپنے والد محترم) حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا جب وہ (غزوہ تبوک میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوے کا ارادہ کرتے تو کسی دوسرے مقام کی طرف اشارہ کرتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2947]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں