🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب إذا وادع الإمام ملك القرية هل يكون ذلك لبقيتهم؟
باب: اگر بستی کے حاکم سے صلح ہو جائے تو بستی والوں سے بھی صلح سمجھی جائے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3161
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبَّاسٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ:" غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكَ وَأَهْدَى مَلِكُ أَيْلَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةً بَيْضَاءَ، وَكَسَاهُ بُرْدًا، وَكَتَبَ لَهُ بِبَحْرِهِمْ".
ہم سے سہل بن بکار نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے عمرو بن یحییٰ نے، ان سے عباس ساعدی نے اور ان سے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم غزوہ تبوک میں شریک تھے۔ ایلہ کے حاکم (یوحنا بن روبہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سفید خچر بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک چادر بطور خلعت کے اور ایک تحریر کے ذریعہ اس کے ملک پر اسے ہی حاکم باقی رکھا۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3161]
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک میں حصہ لیا، اس دوران میں ایلہ کے بادشاہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سفید خچر تحفہ دیا تو آپ نے بھی اسے ایک چادر خلعت پہنائی، نیز آپ نے ان کا بحری علاقہ اسی کے نام لکھ دیا تھا۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3161]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1481
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبَّاسٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ:" غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَلَمَّا جَاءَ وَادِيَ الْقُرَى إِذَا امْرَأَةٌ فِي حَدِيقَةٍ لَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: اخْرُصُوا، وَخَرَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ، فَقَالَ لَهَا: أَحْصِي مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، فَلَمَّا أَتَيْنَا تَبُوكَ، قَالَ: أَمَا إِنَّهَا سَتَهُبُّ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَلَا يَقُومَنَّ أَحَدٌ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ بَعِيرٌ فَلْيَعْقِلْهُ، فَعَقَلْنَاهَا، وَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَقَامَ رَجُلٌ فَأَلْقَتْهُ بِجَبَلِ طَيِّءٍ وَأَهْدَى مَلِكُ أَيْلَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةً بَيْضَاءَ وَكَسَاهُ بُرْدًا وَكَتَبَ لَهُ بِبَحْرِهِمْ، فَلَمَّا أَتَى وَادِيَ الْقُرَى، قَالَ لِلْمَرْأَةِ: كَمْ جَاءَ حَدِيقَتُكِ؟ , قَالَتْ: عَشَرَةَ أَوْسُقٍ خَرْصَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي مُتَعَجِّلٌ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَعَجَّلَ مَعِي فَلْيَتَعَجَّلْ، فَلَمَّا قَالَ ابْنُ بَكَّارٍ كَلِمَةً مَعْنَاهَا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: هَذِهِ طَابَةُ، فَلَمَّا رَأَى أُحُدًا , قَالَ: هَذَا جُبَيْلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ؟، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: دُورُ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ دُورُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ دُورُ بَنِي سَاعِدَةَ أَوْ دُورُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ , يَعْنِي خَيْرًا"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: كُلُّ بُسْتَانٍ عَلَيْهِ حَائِطٌ فَهُوَ حَدِيقَةٌ، وَمَا لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ حَائِطٌ لَمْ يُقَلْ حَدِيقَةٌ.
ہم سے سہل بن بکار نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے ‘ ان سے عمرو بن یحییٰ نے ‘ ان سے عباس بن سہل ساعدی نے ‘ ان سے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم غزوہ تبوک کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی قریٰ (مدینہ منورہ اور شام کے درمیان ایک قدیم آبادی) سے گزرے تو ہماری نظر ایک عورت پر پڑی جو اپنے باغ میں کھڑی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا کہ اس کے پھلوں کا اندازہ لگاؤ (کہ اس میں کتنی کھجور نکلے گی) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس وسق کا اندازہ لگایا۔ پھر اس عورت سے فرمایا کہ یاد رکھنا اس میں سے جتنی کھجور نکلے۔ جب ہم تبوک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات بڑے زور کی آندھی چلے گی اس لیے کوئی شخص کھڑا نہ رہے۔ اور جس کے پاس اونٹ ہوں تو وہ اسے باندھ دیں۔ چنانچہ ہم نے اونٹ باندھ لیے۔ اور آندھی بڑے زور کی آئی۔ ایک شخص کھڑا ہوا تھا۔ تو ہوا نے اسے جبل طے پر جا پھینکا۔ اور ایلہ کے حاکم (یوحنا بن روبہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفید خچر اور ایک چادر کا تحفہ بھیجا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تحریری طور پر اسے اس کی حکومت پر برقرار رکھا پھر جب وادی قریٰ (واپسی میں) پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی عورت سے پوچھا کہ تمہارے باغ میں کتنا پھل آیا تھا اس نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندازہ کے مطابق دس وسق آیا تھا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں مدینہ جلد جانا چاہتا ہوں۔ اس لیے جو کوئی میرے ساتھ جلدی چلنا چاہے وہ میرے ساتھ جلد روانہ ہو پھر جب (ابن بکار امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ نے ایک ایسا جملہ کہا جس کے معنے یہ تھے) کہ مدینہ دکھائی دینے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ہے طابہ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ دیکھا تو فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم بھی اس سے محبت رکھتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں انصار کے سب سے اچھے خاندان کی نشاندہی نہ کروں؟ صحابہ نے عرض کی کہ ضرور کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنو نجار کا خاندان۔ پھر بنو عبدالاشہل کا خاندان، پھر بنو ساعدہ کا یا (یہ فرمایا کہ) بنی حارث بن خزرج کا خاندان۔ اور فرمایا کہ انصار کے تمام ہی خاندانوں میں خیر ہے ‘ ابوعبداللہ (قاسم بن سلام) نے کہا کہ جس باغ کی چہار دیواری ہو اسے حدیقہ کہیں گے۔ اور جس کی چہار دیواری نہ ہو اسے حدیقہ نہیں کہیں گے۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 1481]
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی القریٰ میں تشریف لائے تو دیکھا کہ ایک عورت اپنے باغ میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: اندازہ کرو کہ اس میں کتنی کھجوریں ہوں گی۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دس وسق اندازہ لگایا، پھر اس عورت سے فرمایا: جتنی کھجوریں پیدا ہوں ان کو وزن کر لینا۔ پھر جب ہم تبوک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات سخت آندھی آئے گی، اس لیے آج رات کوئی نہ اٹھے اور جس کے پاس اونٹ ہو اسے بھی باندھ دے۔ چنانچہ ہم لوگوں نے اونٹوں کو باندھ دیا، پھر سخت آندھی ہوئی، اتفاق سے ایک شخص کھڑا ہوا تو اسے (تیز ہوا نے) طی نامی پہاڑ پر پھینک دیا۔ اسی جہاد میں ایلہ کے بادشاہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک سفید خچر اور اوڑھنے کے لیے ایک چادر بھیجی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے علاقے کی حکومت اس کے نام لکھ دی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی القریٰ لوٹ کر آئے تو آپ نے اس عورت سے پوچھا: تمہارے باغ میں کھجوروں کی کتنی پیداوار رہی؟ اس نے عرض کیا: دس وسق جتنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندازہ لگایا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں مدینہ منورہ جلدی جانا چاہتا ہوں، لہٰذا تم میں سے جو شخص میرے ساتھ جلدی جانا چاہتا ہے وہ جلدی تیار ہو جائے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ نظر آنے لگا (ابن بکار نے اس مفہوم کا کلمہ بولا) تو فرمایا: یہ طابہ ہے۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کو دیکھا تو فرمایا: یہ چھوٹا پہاڑ ہے جو ہم کو دوست رکھتا ہے اور ہم اسے دوست رکھتے ہیں۔ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ انصار میں کس کا گھرانہ بہترین ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبیلہ بنو نجار کا گھرانہ، اس کے بعد بنو اشہل، پھر بنو ساعدہ کے گھرانے یا بنو حارث بن خزرج کے گھرانے، ویسے تو انصار کے تمام گھرانوں میں خیر اور بھلائی ہے۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 1481]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں