صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ إِذَا خَافَ الْجُنُبُ عَلَى نَفْسِهِ الْمَرَضَ أَوِ الْمَوْتَ أَوْ خَافَ الْعَطَشَ، تَيَمَّمَ:
باب: جب جنبی کو (غسل کی وجہ سے) مرض بڑھ جانے کا یا موت ہونے کا یا (پانی کے کم ہونے کی وجہ سے) پیاس کا ڈر ہو تو تیمم کر لے۔
حدیث نمبر: 345
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ غُنْدَرٌ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُود" إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ لَا يُصَلِّي، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوْ رَخَّصْتُ لَهُمْ فِي هَذَا كَانَ إِذَا وَجَدَ أَحَدُهُمُ الْبَرْدَ، قَالَ: هَكَذَا يَعْنِي تَيَمَّمَ وَصَلَّى"، قَالَ: قُلْتُ: فَأَيْنَ قَوْلُ عَمَّارٍ لِعُمَرَ؟ قَالَ: إِنِّي لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنِعَ بِقَوْلِ عَمَّارٍ.
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، کہا مجھ کو محمد نے خبر دی جو غندر کے نام سے مشہور ہیں، شعبہ کے واسطہ سے، وہ سلیمان سے نقل کرتے ہیں اور وہ ابووائل سے کہ ابوموسیٰ نے عبداللہ بن مسعود سے کہا کہ اگر (غسل کی حاجت ہو اور) پانی نہ ملے تو کیا نماز نہ پڑھی جائے۔ عبداللہ نے فرمایا، ہاں! اگر مجھے ایک مہینہ تک بھی پانی نہ ملے تو میں نماز نہ پڑھوں گا۔ اگر اس میں لوگوں کو اجازت دے دی جائے تو سردی معلوم کر کے بھی لوگ تیمم سے نماز پڑھ لیں گے۔ ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ پھر عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے عمار رضی اللہ عنہ کے قول کا کیا جواب ہو گا۔ بولے کہ مجھے تو نہیں معلوم ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ عمار رضی اللہ عنہ کی بات سے مطمئن ہو گئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب التيمم/حدیث: 345]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر تمہیں (جنابت کی حالت میں) پانی نہ ملے تو کیا تم نماز نہیں پڑھو گے؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اگر میں اس معاملے میں رخصت دے دوں تو پھر یہ ہو گا کہ جب کبھی کسی کو سردی کا احساس ہو گا تو یہی کرے گا، یعنی تیمم کر کے نماز پڑھ لے گا۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (اگر یہی بات ہے) تو پھر حضرت عمار رضی اللہ عنہ کا وہ قول کہاں جائے گا جو انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے قول پر اطمینان نہیں ہوا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب التيمم/حدیث: 345]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 338
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أُصِبِ الْمَاءَ؟ فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَمَا تَذْكُرُ أَنَّا كُنَّا فِي سَفَرٍ أَنَا وَأَنْتَ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فَصَلَّيْتُ، فَذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا، فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ وَنَفَخَ فِيهِمَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حکم بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے ذر بن عبداللہ سے، انہوں نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے، وہ اپنے باپ سے، انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کی کہ مجھے غسل کی حاجت ہو گئی اور پانی نہیں ملا (تو میں اب کیا کروں) اس پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا، کیا آپ کو یاد نہیں جب میں اور آپ سفر میں تھے، ہم دونوں جنبی ہو گئے۔ آپ نے تو نماز نہیں پڑھی لیکن میں نے زمین پر لوٹ پوٹ لیا، اور نماز پڑھ لی۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تجھے بس اتنا ہی کافی تھا اور آپ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر انہیں پھونکا اور دونوں سے چہرے اور پہنچوں کا مسح کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب التيمم/حدیث: 338]
حضرت عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے لیکن پانی نہیں مل سکا۔ اس موقع پر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں اور آپ دونوں سفر میں تھے اور جنبی ہو گئے تھے؟ آپ نے تو نماز نہیں پڑھی تھی لیکن میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ ہو کر نماز پڑھ لی تھی۔ پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے اتنا ہی کافی تھا۔“ یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، پھر ان میں پھونک ماری، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب التيمم/حدیث: 338]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة