صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. باب ما ذكر عن بني إسرائيل:
باب: بنی اسرائیل کے واقعات کا بیان۔
حدیث نمبر: 3451
قَالَ: حُذَيْفَةُ وَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: إِنَّ رَجُلًا كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَتَاهُ الْمَلَكُ لِيَقْبِضَ رُوحَهُ، فَقِيلَ لَهُ: هَلْ عَمِلْتَ مِنْ خَيْرٍ، قَالَ: مَا أَعْلَمُ قِيلَ لَهُ انْظُرْ، قَالَ: مَا أَعْلَمُ شَيْئًا غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا وَأُجَازِيهِمْ فَأُنْظِرُ الْمُوسِرَ وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعْسِرِ فَأَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ پہلے زمانے میں ایک شخص کے پاس ملک الموت ان کی روح قبض کرنے آئے تو ان سے پوچھا گیا کوئی اپنی نیکی تمہیں یاد ہے؟ انہوں نے کہا کہ مجھے تو یاد نہیں پڑتی۔ ان سے دوبارہ کہا گیا کہ یاد کرو! انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی اپنی نیکی یاد نہیں، سوا اس کے کہ میں دنیا میں لوگوں کے ساتھ خرید و فروخت کیا کرتا تھا اور لین دین کیا کرتا تھا، جو لوگ خوشحال ہوتے انہیں تو میں (اپنا قرض وصول کرتے وقت) مہلت دیا کرتا تھا اور تنگ ہاتھ والوں کو معاف کر دیا کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی پر جنت میں داخل کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3451]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”تم سے پہلے ایک شخص تھا، اس کے پاس فرشتہ آیا تاکہ اس کی روح قبض کرے تو اس سے پوچھا گیا: کیا تو نے کوئی نیک عمل بھی کیا ہے؟ اس نے کہا: میں نہیں جانتا۔ اسے دوبارہ کہا گیا: ذرا نظر تو ڈال۔ اس نے کہا: میں اس کے سوا کچھ نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے لین دین کرتا تھا اور قرض بھی دیتا تھا، تو تقاضا کرتے وقت مال دار کو مہلت دے دیتا تھا اور تنگ دست کو معاف کر دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس عمل کے طفیل اسے جنت میں داخل کر دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3451]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2077
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، أَنَّ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَلَقَّتِ الْمَلَائِكَةُ رُوحَ رَجُلٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، قَالُوا: أَعَمِلْتَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا؟ قَالَ: كُنْتُ آمُرُ فِتْيَانِي أَنْ يُنْظِرُوا وَيَتَجَاوَزُوا عَنِ الْمُوسِرِ، قَالَ: قَالَ: فَتَجَاوَزُوا عَنْهُ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَقَالَ أَبُو مَالِكٍ: عَنْ رِبْعِيٍّ: كُنْتُ أُيَسِّرُ عَلَى الْمُوسِرِ وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ، وَتَابَعَهُ شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ رِبْعِيٍّ، وَقَالَ أَبُو عَوَانَةَ: عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ رِبْعِيٍّ أُنْظِرُ الْمُوسِرَ وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعْسِرِ، وَقَالَ نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ: عَنْ رِبْعِيٍّ، فَأَقْبَلُ مِنَ الْمُوسِرِ وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعْسِرِ.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا کہا کہ ہم سے منصور نے، ان سے ربعی بن حراش نے بیان کیا اور ان سے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تم سے پہلے گذشتہ امتوں کے کسی شخص کی روح کے پاس (موت کے وقت) فرشتے آئے اور پوچھا کہ تو نے کچھ اچھے کام بھی کئے ہیں؟ روح نے جواب دیا کہ میں اپنے نوکروں سے کہا کرتا تھا کہ وہ مالدار لوگوں کو (جو ان کے مقروض ہوں) مہت دے دیا کریں اور ان پر سختی نہ کریں۔ اور محتاجوں کو معاف کر دیا کریں۔ راوی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر فرشتوں نے بھی اس سے درگزر کیا اور سختی نہیں کی اور ابومالک نے ربعی سے (اپنی روایت میں یہ الفاظ) بیان کئے ہیں ”کھاتے کماتے کے ساتھ (اپنا حق لیتے وقت) نرم معاملہ کرتا تھا اور تنگ حال مقروض کو مہلت دیتا تھا۔ اس کی متابعت شعبہ نے کی ہے۔ ان سے عبدالملک نے اور ان سے ربعی نے بیان کیا، ابوعوانہ نے کہا کہ ان سے عبدالملک نے ربعی سے بیان کیا کہ (اس روح نے یہ الفاظ کہے تھے) میں کھاتے کماتے کو مہلت دے دیتا تھا اور تنگ حال والے مقروض سے درگزر کرتا تھا اور نعیم بن ابی ہند نے بیان کیا، ان سے ربعی نے (کہ روح نے یہ الفاظ کہے تھے) میں کھاتے کماتے لوگوں کے (جن پر میرا کوئی حق واجب ہوتا) عذر قبول کر لیا کرتا تھا اور تنگ حال والے سے درگزر کر دیتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 2077]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے زمانے میں فرشتوں نے ایک شخص کی روح سے ملاقات کے وقت پوچھا: کیا تو نے کوئی نیک کام کیا ہے؟ اس نے کہا: میں اپنے ملازمین کو یہ حکم دیتا تھا کہ وہ تنگ دست کو ادائیگی میں مہلت دیں اور مالدار سے بھی نرمی کریں، تو انہوں نے بھی اس سے نرمی اختیار فرمائی۔“ ابو عبداللہ (امام بخاری) رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابو مالک کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”میں مالداروں سے آسانی کرتا اور غریبوں کو مہلت دیتا تھا۔“ شعبہ نے ابومالک کی متابعت کی ہے۔ ابو عوانہ کی روایت کے الفاظ اس طرح ہیں: ”میں مالدار کو مہلت دیتا اور نادار سے درگزر کرتا تھا۔“ ایک دوسری روایت بایں الفاظ ہے: ”میں مالدار کا عذر قبول کرتا اور غریب سے درگزر کرتا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 2077]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة