صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب قول الله تعالى: {يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا إن أكرمكم عند الله أتقاكم} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الحجرات میں) ارشاد ”اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد آدم اور ایک ہی عورت حواء سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور خاندان بنا دیا ہے تاکہ تم بطور رشتہ داری ایک دوسرے کو پہچان سکو، بیشک تم سب میں سے اللہ کے نزدیک معزز تر وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہو“۔
حدیث نمبر: 3491
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا كُلَيْبُ بْنُ وَائِلٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي رَبِيبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبُ أَبْنَة أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: قُلْتُ لَهَا:" أَرَأَيْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَانَ مِنْ مُضَرَ؟، قَالَتْ: فَمِمَّنْ كَانَ إِلَّا مِنْ مُضَرَ مِنْ بَنِي النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ".
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے کلیب بن وائل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیر پرورش رہ چکی تھیں، کلیب نے بیان کیا کہ ہمیں نے زینب سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق قبیلہ مضر سے تھا؟ انہوں نے کہا پھر کس قبیلہ سے تھا؟ یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ مضر کی شاخ بنی نضر بن کنانہ کی اولاد میں سے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3491]
حضرت کلیب بن وائل سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر پرورش حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق قبیلہ مضر سے تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، آپ کا تعلق قبیلہ مضر ہی سے تھا اور کسی قبیلہ سے نہ تھا یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نضر بن کنانہ کی اولاد سے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3491]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3492
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا كُلَيْبٌ، حَدَّثَتْنِي رَبِيبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَظُنُّهَا زَيْنَبَ، قَالَتْ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالمُقيَّرِ وَالْمُزَفَّتِ، وَقُلْتُ لَهَا: أَخْبِرِينِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ كَانَ مِنْ مُضَرَ كَانَ، قَالَتْ: فَمِمَّنْ كَانَ إِلَّا مِنْ مُضَرَ كَانَ مِنْ وَلَدِ النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے عبدالواحد نے، کہا ہم سے کلیب نے بیان کیا، اور ان سے ربیبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے، میرا خیال ہے کہ ان سے مراد زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم، نقیر اور مزفت کے استعمال سے منع فرمایا تھا اور میں نے ان سے پوچھا تھا کہ آپ مجھے بتائیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق کس قبیلہ سے تھا؟ کیا واقعی آپ کا تعلق قبیلہ مضر سے تھا؟ انہوں نے کہا پھر اور کس سے ہو سکتا ہے یقیناً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق اسی قبیلہ سے تھا۔ آپ نضر بنی بن کنانہ کی اولاد میں سے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3492]
حضرت کلیب بن وائل رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی «الرَّبِيبَةُ» ”ربیبہ“ (میرے خیال کے مطابق حضرت زینب رضی اللہ عنہا) نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُقَيَّرِ، وَالْمُزَفَّتِ» ”دباء، حنتم، مقیر اور مزفت“ کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس قبیلے سے تھے؟ کیا آپ مضر قبیلے سے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ آپ مضر قبیلے ہی سے تھے۔ آپ نضر بن کنانہ کی اولاد سے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3492]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة