🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب مناقب قريش:
باب: قریش کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3503
وَقَالَ: اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ مُحَمَّدٌ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: ذَهَبَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ مَعَ أُنَاسٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ إِلَى عَائِشَةَ وَكَانَتْ أَرَقَّ شَيْءٍ عَلَيْهِمْ لِقَرَابَتِهِمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوالاسود محمد نے بیان کیا اور ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بنی زہرہ کے چند لوگوں کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بنی زہرہ کے ساتھ بہت اچھی طرح پیش آتی تھیں کیونکہ ان لوگوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3503]
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: (میرے بھائی) حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بنو زہرہ کے لوگوں کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہا ان لوگوں پر بڑی مہربانی کرتی تھیں کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3503]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3140
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ وَتَرَكْتَنَا وَنَحْنُ وَهُمْ مِنْكَ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا بَنُو الْمُطَّلِبِ وَبَنُو هَاشِمٍ شَيْءٌ وَاحِدٌ، قَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ وَزَادَ، قَالَ جُبَيْرٌ: وَلَمْ يَقْسِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ، وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: عَبْدُ شَمْسٍ وَهَاشِمٌ وَالْمُطَّلِبُ إِخْوَةٌ لِأُمٍّ وَأُمُّهُمْ عَاتِكَةُ بِنْتُ مُرَّةَ وَكَانَ نَوْفَلٌ أَخَاهُمْ لِأَبِيهِمْ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے ابن مسیب نے بیان کیا اور ان سے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! آپ نے بنو مطلب کو تو عنایت فرمایا لیکن ہم کو چھوڑ دیا، حالانکہ ہم کو آپ سے وہی رشتہ ہے جو بنو مطلب کو آپ سے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنو مطلب اور بنو ہاشم ایک ہی ہے۔ لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا اور (اس روایت میں) یہ زیادتی کی کہ جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدشمس اور بنو نوفل کو نہیں دیا تھا، اور ابن اسحاق (صاحب مغازی) نے کہا ہے کہ عبدشمس، ہاشم اور مطلب ایک ماں سے تھے اور ان کی ماں کا نام عاتکہ بن مرہ تھا اور نوفل باپ کی طرف سے ان کے بھائی تھے (ان کی ماں دوسری تھیں)۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3140]
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے بنو مطلب کو تو مال دیا ہے لیکن ہمیں نظر انداز کر دیا ہے، حالانکہ ہم اور وہ آپ سے ایک ہی درجے کی قرابت رکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنو مطلب اور بنو ہاشم تو ایک ہی چیز ہیں۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے، حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو شمس اور بنو نوفل کو نہیں دیا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ عبد شمس، ہاشم اور مطلب ایک ہی ماں سے تھے، ان کی والدہ کا نام عاتکہ بنت مرہ تھا اور نوفل صرف باپ کی طرف سے ان کے بھائی تھے (ان کی ماں دوسری تھی)۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3140]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3505
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَال: حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ:" كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ أَحَبَّ الْبَشَرِ إِلَى عَائِشَةَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَكَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِهَا وَكَانَتْ لَا تُمْسِكُ شَيْئًا مِمَّا جَاءَهَا مِنْ رِزْقِ اللَّهِ إِلَّا تَصَدَّقَتْ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: يَنْبَغِي أَنْ يُؤْخَذَ عَلَى يَدَيْهَا، فَقَالَتْ: أَيُؤْخَذُ عَلَى يَدَيَّ عَلَيَّ نَذْرٌ إِنْ كَلَّمْتُهُ فَاسْتَشْفَعَ إِلَيْهَا بِرِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ وَبِأَخْوَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً فَامْتَنَعَتْ، فَقَالَ لَهُ: الزُّهْرِيُّونَ أَخْوَالُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، وَالْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ إِذَا اسْتَأْذَنَّا فَاقْتَحِمْ الْحِجَابَ فَفَعَلَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِعَشْرِ رِقَابٍ فَأَعْتَقَتْهُمْ ثُمَّ لَمْ تَزَلْ تُعْتِقُهُمْ حَتَّى بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ، فَقَالَتْ: وَدِدْتُ أَنِّي جَعَلْتُ حِينَ حَلَفْتُ عَمَلًا أَعْمَلُهُ فَأَفْرُغُ مِنْهُ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، کہا کہ مجھ سے ابوالاسود نے، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے عائشہ رضی اللہ عنہا کو سب سے زیادہ محبت تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عادت تھی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو رزق بھی ان کو ملتا وہ اسے صدقہ کر دیا کرتی تھیں۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے (کسی سے) کہا ام المؤمنین کو اس سے روکنا چاہیے (جب عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کی بات پہنچی) تو انہوں نے کہا: کیا اب میرے ہاتھوں کو روکا جائے گا، اب اگر میں نے عبداللہ سے بات کی تو مجھ پر نذر واجب ہے۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے (عائشہ رضی اللہ عنہا کو راضی کرنے کے لیے) قریش کے چند لوگوں اور خاص طور سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نانہالی رشتہ داروں (بنو زہرہ) کو ان کی خدمت میں معافی کی سفارش کے لیے بھیجا لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا پھر بھی نہ مانیں۔ اس پر بنو زہرہ نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں ہوتے تھے اور ان میں عبدالرحمٰن بن اسود بن عبدیغوث اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ جب ہم ان کی اجازت سے وہاں جا بیٹھیں تو تم ایک دفعہ آن کر پردہ میں گھس جاؤ۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا (جب عائشہ رضی اللہ عنہا خوش ہو گئیں تو) انہوں نے ان کی خدمت میں دس غلام (آزاد کرانے کے لیے بطور کفارہ قسم) بھیجے اور ام المؤمنین نے انہیں آزاد کر دیا۔ پھر آپ برابر غلام آزاد کرتی رہیں۔ یہاں تک کہ چالیس غلام آزاد کر دیئے پھر انہوں نے کہا کاش میں نے جس وقت قسم کھائی تھی (منت مانی تھی) تو میں کوئی خاص چیز بیان کر دیتی جس کو کر کے میں فارغ ہو جاتی۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3505]
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد تمام لوگوں سے زیادہ قابل احترام تھے اور وہ بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بڑے خدمت گزار تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عادت تھی کہ ان کے پاس جو رزق اللہ کی طرف سے آتا وہ اس میں سے کچھ نہ رکھتیں بلکہ سارے کا سارا صدقہ کر دیتی تھیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: انہیں (ام المومنین رضی اللہ عنہا کو) اس قدر خرچ کرنے سے روک دینا چاہیے۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ وہ میرے ہاتھ پر پابندی لگانا چاہتا ہے؟ اب اگر میں نے ان سے بات کی تو مجھ پر نذر واجب ہے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے قریش کے چند لوگوں، خاص طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموؤں سے سفارش کرائی لیکن آپ رضی اللہ عنہا نہ مانیں۔ بنو زہرہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں ہیں، ان میں سے عبدالرحمن بن اسود بن عبد یغوث اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ جب ہم ان کی اجازت سے وہاں جا بیٹھیں تو تم فوراً پردہ میں گھس آنا، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ (جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خوش ہو گئیں) تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان کے پاس دس غلام بھیجے۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے انہیں آزاد کر دیا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہا مسلسل غلام آزاد کرتی رہیں یہاں تک کہ چالیس غلام آزاد کر دیے، پھر انہوں نے فرمایا: کاش! میں نے جس وقت قسم اٹھائی تھی تو نذر خاص کر لیتی جس کو ادا کر کے میں فارغ ہو جاتی۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3505]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4229
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ، أَخْبَرَهُ، قَالَ: مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْنَا: أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ، وَتَرَكْتَنَا وَنَحْنُ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ مِنْكَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ"، قَالَ جُبَيْرٌ: وَلَمْ يَقْسِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، وَبَنِي نَوْفَلٍ شَيْئًا".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے یونس نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے سعید بن مسیب نے اور انہیں جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے بنو مطلب کو تو خیبر کے خمس میں سے عنایت فرمایا ہے اور ہمیں نظر انداز کر دیا ہے حالانکہ آپ سے قرابت میں ہم اور وہ برابر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یقیناً بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو (خمس میں سے) کچھ نہیں دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 4229]
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے عرض کی: آپ نے خمسِ خیبر سے بنو مطلب کو حصہ دیا ہے اور ہمیں نظر انداز کر دیا، حالانکہ ہم اور وہ آپ سے قرابت میں برابر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی چیز ہیں۔ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدشمس اور بنو نوفل کو (خمسِ خیبر سے) کچھ نہیں دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 4229]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6073
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ مَالِكِ بْنِ الطُّفَيْلِ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّهَا، أَنَّ عَائِشَةَ، حُدِّثَتْ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، قَالَ فِي بَيْعٍ أَوْ عَطَاءٍ أَعْطَتْهُ عَائِشَةُ:" وَاللَّهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ أَوْ لَأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَهُوَ قَالَ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَتْ: هُوَ لِلَّهِ عَلَيَّ نَذْرٌ أَنْ لَا أُكَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ أَبَدًا، فَاسْتَشْفَعَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلَيْهَا حِينَ طَالَتِ الْهِجْرَةُ، فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ لَا أُشَفِّعُ فِيهِ أَبَدًا وَلَا أَتَحَنَّثُ إِلَى نَذْرِي، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ كَلَّمَ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، وَهُمَا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، وَقَالَ لَهُمَا: أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ لَمَّا أَدْخَلْتُمَانِي عَلَى عَائِشَةَ، فَإِنَّهَا لَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَنْذِرَ قَطِيعَتِي، فَأَقْبَلَ بِهِ الْمِسْوَرُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ مُشْتَمِلَيْنِ بِأَرْدِيَتِهِمَا حَتَّى اسْتَأْذَنَا عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَا: السَّلَامُ عَلَيْكِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، أَنَدْخُلُ؟ قَالَتْ عَائِشَةُ: ادْخُلُوا قَالُوا: كُلُّنَا قَالَتْ: نَعَم ادْخُلُوا كُلُّكُمْ، وَلَا تَعْلَمُ أَنَّ مَعَهُمَا ابْنَ الزُّبَيْرِ، فَلَمَّا دَخَلُوا دَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ الْحِجَابَ فَاعْتَنَقَ عَائِشَةَ وَطَفِقَ يُنَاشِدُهَا وَيَبْكِي، وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يُنَاشِدَانِهَا إِلَّا مَا كَلَّمَتْهُ وَقَبِلَتْ مِنْهُ، وَيَقُولَانِ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَمَّا قَدْ عَلِمْتِ مِنَ الْهِجْرَةِ فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلَى عَائِشَةَ مِنَ التَّذْكِرَةِ وَالتَّحْرِيجِ طَفِقَتْ تُذَكِّرُهُمَا نَذْرَهَا وَتَبْكِي وَتَقُولُ: إِنِّي نَذَرْتُ وَالنَّذْرُ شَدِيدٌ، فَلَمْ يَزَالَا بِهَا حَتَّى كَلَّمَتِ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَأَعْتَقَتْ فِي نَذْرِهَا ذَلِكَ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً، وَكَانَتْ تَذْكُرُ نَذْرَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَتَبْكِي حَتَّى تَبُلَّ دُمُوعُهَا خِمَارَهَا".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے، کہا مجھ سے عوف بن مالک بن طفیل نے بیان کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مادری بھتیجے تھے، انہوں نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کوئی چیز بھیجی یا خیرات کی تو عبداللہ بن زبیر جو ان کے بھانجے تھے کہنے لگے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایسے معاملوں سے باز رہنا چاہیئے نہیں تو اللہ کی قسم میں ان کے لیے حجر کا حکم جاری کر دوں گا۔ ام المؤمنین نے کہا کیا اس نے یہ الفاظ کہے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ جی ہاں۔ فرمایا پھر میں اللہ سے نذر کرتی ہوں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے اب کبھی نہیں بولوں گی۔ اس کے بعد جب ان کے قطع تعلقی پر عرصہ گزر گیا۔ تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے لیے ان سے سفارش کی گئی (کہ انہیں معاف فرما دیں) ام المؤمنین نے کہا ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اس کے بارے میں کوئی سفارش نہیں مانوں گی اور اپنی نذر نہیں توڑوں گی۔ جب یہ قطعی تعلق عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے لیے بہت تکلیف دہ ہو گئی تو انہوں نے مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن اسود بن عبد یغوث رضی اللہ عنہم سے اس سلسلے میں بات کی وہ دونوں بنی زہرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے ان سے کہا کہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کسی طرح تم لوگ مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں داخل کرا دو کیونکہ ان کے لیے یہ جائز نہیں کہ میرے ساتھ صلہ رحمی کو توڑنے کی قسم کھائیں چنانچہ مسور اور عبدالرحمٰن دونوں اپنی چادروں میں لپٹے ہوئے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو اس میں ساتھ لے کر آئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے اندر آنے کی اجازت چاہی اور عرض کی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، کیا ہم اندر آ سکتے ہیں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا آ جاؤ۔ انہوں نے عرض کیا ہم سب؟ کہا ہاں، سب آ جاؤ۔ ام المؤمنین کو اس کا علم نہیں تھا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی ان کے ساتھ ہیں۔ جب یہ اندر گئے تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پردہ ہٹا کر اندر چلے گئے اور ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے لپٹ کر اللہ کا واسطہ دینے لگے اور رونے لگے (کہ معاف کر دیں، یہ ام المؤمنین کے بھانجے تھے) مسور اور عبدالرحمٰن بھی ام المؤمنین کو اللہ کا واسطہ دینے لگے کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے بولیں اور انہیں معاف کر دیں ان حضرات نے یہ بھی عرض کیا کہ جیسا کہ تم کو معلوم ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلق توڑنے سے منع کیا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ کسی اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ والی حدیث یاد دلانے لگے اور یہ کہ اس میں نقصان ہے تو ام المؤمنین بھی انہیں یاد دلانے لگیں اور رونے لگیں اور فرمانے لگیں کہ میں نے تو قسم کھا لی ہے؟ اور قسم کا معاملہ سخت ہے لیکن یہ بزرگ لوگ برابر کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ ام المؤمنین نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے بات کر لی اور اپنی قسم (توڑنے) کی وجہ سے چالیس غلام آزاد کئے۔ اس کے بعد جب بھی آپ یہ قسم یاد کرتیں تو رونے لگتیں اور آپ کا دوپٹہ آنسوؤں سے تر ہو جاتا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 6073]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مادری بھتیجے بن طفیل سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کوئی چیز بیچی یا خیرات کی، انہیں خبر پہنچی کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان کے متعلق کہا ہے: اللہ کی قسم! ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (خرید و فروخت کرنے یا خیرات کرنے سے) اگر باز نہ آئیں تو میں ان کے تصرفات پر پابندی لگا دوں گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا عبداللہ نے یہ بات کہی ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا: پھر اللہ کے لیے مجھ پر نذر ہے کہ میں ابن زبیر سے کبھی بات نہیں کروں گی۔ اس کے بعد جب قطع تعلقی پر عرصہ گزر گیا تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کے ہاں سفارش کرائی لیکن انہوں نے فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم! میں اس کے متعلق کسی کی سفارش قبول نہیں کروں گی اور اپنی نذر ختم نہیں کروں گی۔ جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے لیے سلام و کلام کی بندش بہت تکلیف دہ ہو گئی تو انہوں نے مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمن بن اسود بن عبد یغوث رضی اللہ عنہم سے اس سلسلے میں گفتگو کی، وہ دونوں بنو زہرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ (عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے) ان سے کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، مجھے تم کسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے جاؤ کیونکہ ان کے لیے جائز نہیں کہ میرے ساتھ قطع رحمی کی نذر مانیں۔ چنانچہ حضرت مسور اور عبدالرحمن رضی اللہ عنہما دونوں اپنی چادریں اوڑھے ہوئے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لائے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اندر آنے کی اجازت طلب کی اور «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ» آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں کہتے ہوئے عرض کی: ہم اندر آ سکتے ہیں؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آ جاؤ۔ انہوں نے پھر عرض کی: ہم سب آ جائیں؟ فرمایا: ہاں، سب آ جاؤ۔ آپ کو علم نہیں تھا کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ ہیں۔ جب وہ داخل ہوئے تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پردے کے اندر چلے گئے (کیونکہ وہ بھانجے تھے) اور رونے لگے۔ حضرت مسور اور عبدالرحمن رضی اللہ عنہما بھی (پردے کے باہر سے) آپ کو اللہ کا واسطہ دینے لگے کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے گفتگو کریں اور ان سے درگزر فرمائیں۔ ان حضرات نے یہ بھی کہا: آپ کو معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قطع تعلقی سے منع فرمایا ہے، چنانچہ آپ کا ارشاد ہے: کسی مسلمان کو اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق رہنا جائز نہیں۔ جب انہوں نے کثرت کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو صلہ رحمی کی اہمیت یاد دلائی اور اس کے نقصانات سے آگاہ کیا تو انہوں نے بھی انہیں وعظ و نصیحت فرمائی اور روتے ہوئے کہنے لگیں: میں نے تو نذر مانی ہے اور اس کی رعایت نہ کرنا سخت دشوار ہے، لیکن یہ دونوں بزرگ بار بار کوشش کرتے رہے حتیٰ کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے گفتگو فرمائی اور اپنی نذر میں چالیس غلام آزاد کیے۔ اس کے بعد جب بھی آپ یہ قسم یاد کرتیں تو روتیں حتیٰ کہ آپ کا دوپٹہ آنسوؤں سے تر ہو جاتا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 6073]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں