🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب من انتسب إلى آبائه فى الإسلام والجاهلية:
باب: اپنے مسلمان یا غیر مسلم باپ دادوں کی طرف اپنی نسبت کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3525
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُنَادِي يَا بَنِي فِهْرٍ يَا بَنِي عَدِيٍّ لِبُطُونِ قُرَيْشٍ.
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے، کہا ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب (سورۃ الشعراء کی) یہ آیت اتری «وأنذر عشيرتك الأقربين‏» اے پیغمبر! اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے مختلف قبیلوں کو بلایا اے بنی فہر! اے بنی عدی! جو قریش کے خاندان تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3525]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214] (اے پیغمبر!) آپ اپنے رشتہ داروں کو خبردار کریں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ آوازِ بلند پکارا: «يَا بَنِي فِهْرٍ، يَا بَنِي عَدِيٍّ» اے بنو فہر! اے بنو عدی! یہ قریش کے چھوٹے قبیلے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3525]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1394
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا , قَالَ:" قَالَ أَبُو لَهَبٍ عَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ , فَنَزَلَتْ: تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ".
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا اعمش سے ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیاکہ ابولہب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ سارے دن تجھ پر بربادی ہو۔ اس پر یہ آیت اتری «تبت يدا أبي لهب وتب‏» یعنی ٹوٹ گئے ہاتھ ابولہب کے اور وہ خود ہی برباد ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 1394]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: لعین ابو لہب نے ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا: سارا دن آپ کے لیے بربادی ہو۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ﴾ [سورة المسد: 1] ٹوٹ گئے ہاتھ ابو لہب کے اور وہ خود بھی ہلاک ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 1394]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں